Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان اسرائیل کے ساتھ ’امن مذاکرات‘ کیلئے تیار لیکن پہلے جنگ بندی کی شرط

Updated: March 15, 2026, 4:11 PM IST | Beirut

لبنان اسرائیل کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات شروع کرنےکیلئے تیار ہے لیکن اس نے شرط رکھی ہے کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ بندی ہونی چاہئے۔

People walk past a destroyed building in Lebanon. Photo: INN
لبنان میں ایک تباہ شدہ عمارت کے پاس سے کچھ لوگ گزرر ہے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

لبنان اسرائیل کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات شروع کرنےکیلئے تیار ہے لیکن اس نے شرط رکھی ہے کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ بندی ہونی چاہئے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل لبنان پر زمینی حملے کی دھمکی دے رہا ہے، جو ۲۰۰۶ءکی جنگ کے بعد اس کی سب سے بڑی زمینی کارروائی ہو سکتی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنے قریبی مشیر رون ڈرمر کو لبنان کے ساتھ سفارتی مذاکرات میں اسرائیل کی قیادت سونپی ہے۔ دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے ان مذاکرات میں شرکت کر سکتے ہیں۔ 
فرانس نے ایک امن منصوبہ تجویز کیا
اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات چند دنوں میں شروع ہو سکتے ہیں اور پیرس یا قبرص میں ہو سکتے ہیں۔ ان میں ممکنہ طور پر آمنے سامنے براہ راست بات چیت شامل ہوسکتی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ فرانس نے ایک امن منصوبہ تجویز کیا ہے جس میں حزب اللہ کے تخفیف اسلحہ اور لبنان کی طرف سے اسرائیل کو جنگ کے خاتمے کی شرائط کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم، الجزیرہ کے مطابق فرانسیسی وزارت خارجہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیلیفورنیا، امریکہ: اسمبلی میں عید کی تعطیلات کو باضابطہ تسلیم کرنے کا بل پیش، مقامی آبادی کی حمایت

امریکی افواج کی ایرانی فوجی صلاحیتوں کے خلاف کارروائیاں جاری
لبنانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات پر آمادہ ہیں لیکن لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امل تحریک کے رہنما نبیہ بری نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ بندی ضروری ہے۔ دریں اثناء مغربی ایشیا میں فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے علاقائی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج ایرانی فوجی صلاحیتوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دریں اثناء پریس ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ ایک عراقی مزاحمتی گروپ نے فوٹیج جاری کی ہے جس میں مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ عراق میں امریکی اڈے پر مبینہ حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ 
مار گرائے جانے والے ڈرونز کی کل تعداد۱۱۸؍ ہو گئی
ایک اور ایرانی خبر کے مطابق، ایرانی مسلح افواج نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے مزید چار ڈرون مار گرائے ہیں، جس سے اب تک مار گرائے جانے والے ڈرونز کی کل تعداد۱۱۸؍ ہو گئی ہے۔ قبل ازیں الجزیرہ نے اطلاع دی تھی کہ جنوبی لبنان کے کئی قصبوں کو فضائی حملوں اور توپ خانے سے نشانہ بنانے کے بعد حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کی پیش قدمی میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران، اسرائیل جنگ: سوئزرلینڈ نےامریکی فوجی طیاروں کیلئے فضائی حدود بند کردی

اسرائیلی کے فضائی حملوں اور توپ خانے پر گولہ باری
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری نے جنوبی لبنان کے کئی قصبوں کو نشانہ بنایا۔ نیوز رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے قصبے مفدون اور زوطر الشرقیہ کے درمیانی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ الجزیرہ نے اطلاع دی ہے کہ توپ خانے سے بھاری گولہ باری نے قریبی قصبوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں زوتار، یحمر، ارنون اور مفدون شامل ہیں۔ 
پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج پر گائیڈڈ میزائل فائر
دریں اثناء اسرائیلی فورسز نے سرحدی قصبے عیتہ الشعب میں پیش قدمی کی کوشش کی جہاں جھڑپوں کے دوران فائرنگ اور گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ حزب اللہ کے مزاحمت کاروں نے پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج پر گائیڈڈ میزائل فائر کرکے جوابی کارروائی کی۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے الخزان پہاڑی پر جمع اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے راکٹوں کا ایک بیراج چلایا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK