Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیلیفورنیا، امریکہ: اسمبلی میں عید کی تعطیلات کو باضابطہ تسلیم کرنے کا بل پیش، مقامی آبادی کی حمایت

Updated: March 15, 2026, 2:55 PM IST | Sacramento

ریاستی اسمبلی میں یہ تجویز پیش کرنے والے رکن میٹ ہینی کا کہنا ہے کہ یہ بل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مسلمان رہائشیوں کو بھی ویسی ہی شناخت ملے جیسی دیگر مذہبی تہواروں مثلاً کرسمس اور ہنوکا کو پہلے ہی حاصل ہے۔

Assemblyman Matt Haney. Photo: X
اسمبلی مین میٹ ہینی۔ تصویر: ایکس

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ریاستی مقننہ میں ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے تہواروں، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کو ریاست میں باضابطہ طور پر تسلیم شدہ تعطیلات قرار دینا ہے۔ اس تجویز کو ’اے بی ۲۰۱۷ء‘ (AB 2017) کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا اعلان ۱۲ مارچ کو اسمبلی مین میٹ ہینی نے کیا۔ یہ قانون سازی اصل میں ۱۷ فروری کو متعارف کرائی گئی تھی، جس میں عائشہ وہاب بطورِ خاص معاون مصنفہ شامل ہیں۔

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس کے تحت ریاست بھر کے سرکاری اسکولوں اور کمیونٹی کالجوں کو عید کے موقع پر تعطیل کا اعلان کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ یہ قانون سازی ریاستی ملازمین کو ان تہواروں کو منانے کے لئے اپنی سالانہ چھٹیوں، معاوضہ وقت یا ذاتی تعطیل کے کریڈٹ استعمال کرنے کی اجازت بھی دے گی۔ تاہم، بل میں واضح کیا گیا ہے کہ عید کی تعطیلات کو عدالتی تعطیلات نہیں سمجھا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ عدالتیں معمول کے مطابق کام کرتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل امریکہ جنگ: شدید فوجی جھڑپیں، امریکہ کو اربوں ڈالر کا نقصان

مسلم تعطیلات کو تسلیم کرنے کا مقصد

بل کی حمایت کرنے والے اسمبلی مین کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد ریاست میں مسلمانوں کے دو اہم ترین تہواروں کے لئے باضابطہ شناخت کی کمی کو دور کرنا ہے۔ میٹ ہینی نے کہا کہ یہ بل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مسلمان رہائشیوں کو بھی ویسی ہی شناخت ملے جیسی دیگر مذہبی تہواروں مثلاً کرسمس اور ہنوکا کو پہلے ہی حاصل ہے۔

اگر اسے اپنا لیا جاتا ہے تو کیلیفورنیا عید کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والی دوسری امریکی ریاست بن جائے گی۔ اس سے قبل ریاست واشنگٹن میں اپریل ۲۹۲۵ء میں گورنر باب فرگیوسن نے سینیٹ بل ۵۱۰۶ پر دستخط کرکے اسے قانون بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا آئی سی جے میں اسرائیل کا دفاع ، نسل کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا

بل کے لئے مقامی حمایت

کمیونٹی لیڈران نے ’اے بی ۲۰۱۷ء‘ کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ سان فرانسسکو بورڈ آف سپروائزرز کے رکن بلال محمود نے کہا کہ یہ تجویز کیلیفورنیا کے لاکھوں مسلمانوں کے لئے اہم قدم ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ٹینڈرلوئن جیسے اضلاع میں نمایاں تعداد میں مسلم کمیونٹیز آباد ہیں اور مسلم تہواروں کی باضابطہ شناخت ان کی ثقافتی اور مذہبی خدمات کا اعتراف ہوگی۔

بلال محمود نے مزید کہا کہ وہ اگلے ہفتے ایک قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں سان فرانسسکو بورڈ آف سپروائزرز سے اس بل کی باضابطہ توثیق کرنے کی اپیل کی جائے گی۔ یہ قانون سازی اب ریاست کے قانون سازی کے عمل سے گزرے گی، جہاں قانون ساز اس پر بحث کریں گے اور ووٹ دیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK