• Tue, 06 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بایاں محاذ کی امریکہ کیخلاف ملک گیر احتجاج کی اپیل

Updated: January 05, 2026, 1:32 PM IST | Agency

ملک میں لیفٹ فرنٹ کی پانچ پارٹیوںنے مشترکہ بیان جاری کرتےہوئے وینزویلا پر امریکی حملے اورصدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے ’اغوا‘ کی شدید مذمت کی اورامریکی کارروائی کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قراردیا، جے رام رمیش نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیا۔

Communist Party of India (ML) General Secretary Dipankar Bhattacharya is also among the appellants. Picture: INN
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ بھی اپیل کنندگان میں شامل ہیں۔ تصویر: آئی این این
ملک میں بایاں محاذ کی پانچ بڑی جماعتوں نے وینزویلا پر امریکی داداگیری کے خلاف ملک گیر احتجاج کی  اپیل کی ہے ۔ ان جماعتوں نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا جس میں وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اورصدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے’اغواء‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا ۔بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا کہ امریکہ نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’خودمختار ملک پر براہ راست حملہ ‘کیا ہے۔ انہوں نے امریکی کارروائی کو ’اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ ان کا الزام ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ تبصروں سے اس حملے کے پیچھے کی محرکات اجاگر ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم وینزویلا کے خلاف امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کا ارتکاب اور خودمختار ملک کے خلاف حملہ ہے۔ 
بائیں بازو کی جماعتوں نے صدر ٹرمپ کے حالیہ تبصروں کا ذکر کیا جن میں وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو ضبط کرنے کا اشارہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے سامراجی ذہنیت کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے تبصروں پر بھی سخت تنقید کی جس میں انہوں نے کیوبا اور میکسیکو کو امریکی کارروائی کے اگلے اہداف کے طور پر نامزد کیا تھا۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ’’امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی۲۰۲۵ءکے اجراء کے چند دن بعد آنے والے یہ تبصرے یہ واضح کرتے ہیں کہ امریکی سامراج پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے، چاہے اسے فوجی حملوں کی ضرورت ہی کیوں نہ پڑے۔‘‘ انہوں نے واشنگٹن پر منرو کے نظریے کو مسلط کرنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایاجس کے تحت امریکہ پورے مغربی نصف کرہ پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
بیان میں وینزویلا سے آنے والی رپورٹوں کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادی کا بڑا حصہ امریکی کارروائی کے خلاف متحد ہو رہا ہے۔ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا کہ ہم قومی خودمختاری کے دفاع میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا’’ہم، بائیں بازو کی جماعتیں، امریکی جارحیت کے خلاف اور لاطینی امریکہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ملک گیر احتجاج کی اپیل  کرتے ہیں۔ ہم ملک کے تمام امن پسند، سامراج مخالف لوگوں سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘
بائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت ہند پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرے۔ انہوں نے کہا’’حکومت ہند کو امریکی جارحیت کی مذمت کرنے اور وینزویلا کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کی آواز میں شامل ہونا چاہئے۔‘‘واضح رہےکہ مشتر کہ بیان مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری ایم اے بیبی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے جنرل سیکریٹری ڈی راجا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، آل انڈیا فارورڈ بلاک کے جنرل سیکریٹری جی دیوراجن اور انقلابی سوشلسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری منوج بھٹاچاریہ نے جاری کیا۔
اس دوران اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے بھی وینزویلا میں امریکی فوجی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور سینئر لیڈر جے رام رمیش نے اتوار کے روز ایک مختصر بیان جاری کرکے امریکی فوجی کارروائی کو عالمی قوانین کے خلاف قرار دیا ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا’’ کانگریس  وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جانب سے گزشتہ۲۴؍گھنٹوں میں کیے گئے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت قائم کردہ اصولوں کی یکطرفہ خلاف ورزی نہیںکی جاسکتی۔‘‘واضح رہےکہ کانگریس کا یہ بیان عالمی خودمختاری اور جمہوری اصولوں پر پارٹی کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK