ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی مالیاتی پالیسی کمیٹی یعنی ایم پی سی کی اہم میٹنگ اگلے ہفتے ہونے والی ہے، لیکن اس اجلاس سے پہلے ماہرین اقتصادیات نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مرکزی بینک اب شرح سود میں اضافے کا سلسلہ شروع کرسکتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 04, 2026, 4:01 PM IST | Mumbai
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی مالیاتی پالیسی کمیٹی یعنی ایم پی سی کی اہم میٹنگ اگلے ہفتے ہونے والی ہے، لیکن اس اجلاس سے پہلے ماہرین اقتصادیات نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مرکزی بینک اب شرح سود میں اضافے کا سلسلہ شروع کرسکتا ہے۔
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی مالیاتی پالیسی کمیٹی یعنی ایم پی سی کی اہم میٹنگ اگلے ہفتے ہونے والی ہے، لیکن اس اجلاس سے پہلے ماہرین اقتصادیات نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مرکزی بینک اب شرح سود میں اضافے کا سلسلہ شروع کرسکتا ہے۔ اس سے قبل دسمبر میں شرح سود بڑھائے جانے کی توقع کی جارہی تھی، تاہم اب ماہرین کا خیال ہے کہ آر بی آئی اکتوبر میں ہی اس سمت پہلا قدم اٹھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’میری خواہش ہے کہ اپنے کریئر میں کوئی اچھا مزاحیہ کردار بھی ادا کروں‘‘
بینک آف امریکہ کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، غذائی مہنگائی اور مجموعی طور پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے باعث اکتوبر میں شرح سود میں ۲۵ ؍بنیادی پوائنٹس کا اضافہ ممکن ہے۔ اس سے پہلے ایسا اضافہ دسمبر میں متوقع تھا۔ بینک آف امریکہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو سال تک مالیاتی پالیسی میں نرمی برقرار رکھنے کے بعد آر بی آئی اب اکتوبر کی ایم پی سی میٹنگ میں پالیسی حمایت واپس لینے کی ابتدائی کارروائی کرسکتا ہے۔ایس بی آئی ریسرچ نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں شرح سود میں ۲۵؍ بنیادی پوائنٹس اضافے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے دائرے میں وسعت، عالمی حالات میں بگاڑ، مالیاتی نظام میں نقدی کی صورت حال اور عالمی خطرات کے دوبارہ جائزے نے مرکزی بینک کے لیے پیشگی کارروائی کی ضرورت کو مزید مضبوط کردیا ہے۔
آر بی آئی کی مالیاتی پالیسی کمیٹی کی میٹنگ ۵ ؍سے ۷ ؍اکتوبر تک ہوگی، جس میں بینچ مارک ریپو شرح پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ایس بی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات اور عالمی خطرات کے دوبارہ جائزے کے پیش نظر آر بی آئی کے لیے بہت دیر سے کارروائی کرنے کے بجائے پہلے ہی قدم اٹھانا زیادہ مناسب ہوگا۔
دریں اثنا، ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ صارف قیمت اشاریہ پر مبنی مہنگائی اگست میں بڑھ کر ۴ء۸۲ فیصد ہوگئی، جو جولائی میں ۴ء۴۵ فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق مضبوط ال نینو اور اکتوبر میں معمول سے کم بارش ربیع کی فصلوں کی پیداوار کے لیے مزید خطرات پیدا کرسکتی ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں غذائی مہنگائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جہاں بھی وہ ہمیں روکیں گے وہیں ہمارا جنتر منتر بن جائے گا: ابھیجیت دپکے
خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، اندرون ملک مہنگائی میں اضافہ اور عالمی سطح پر بونڈز کی منافع بخش شرح میں اضافہ نے بھی آر بی آئی کے لیے موجودہ شرح سود برقرار رکھنے کی گنجائش محدود کردی ہے۔ بی این پی پریباس انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں ہندوستان کی مجموعی معاشی صورت حال کمزور ہوئی ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۰۰؍ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ امریکہ میں ۱۰ ؍سالہ سرکاری بونڈ کی منافع بخش شرح ۵ فیصد کی جانب بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے نو مورا کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ شرح سود میں اضافے کے سلسلے کے دوران آر بی آئی مجموعی طور پر ۲۵ ؍سے ۵۰ ؍ بنیادی پوائنٹس تک ہی اضافہ محدود رکھ سکتا ہے، حالانکہ مالیاتی منڈی اس سے زیادہ سخت پالیسی کی توقع کررہی ہے۔ نو مور ا کے تجزیہ کاروں نے ۷۵ ؍بنیادی پوائنٹس سے زیادہ کی وسیع پیمانے پر سختی کے بجائے محدود شرح سود اضافے کے امکان کو ۸۰ ؍فیصد قرار دیا ہے۔
بنیادی پوائنٹ مالیاتی اور بینکاری شعبے میں شرح سود یا بونڈ کی منافع بخش شرح میں ہونے والی معمولی تبدیلی کو ناپنے کی معیاری اکائی ہے۔ ایک بنیادی پوائنٹ ۰ء۰۱ فیصد کے برابر ہوتا ہے، لہٰذا ۲۵؍بنیادی پوائنٹس کا اضافہ شرح سود میں ۰ء۲۵ فیصد پوائنٹ اضافے کے برابر ہوگا۔