امتناعی احکام میں لاک ڈاؤن جیسی کیفیت، عوام میں بے چینی

Updated: April 07, 2021, 11:17 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

جن پابندیوں کا اندیشہ سنیچر اور اتوار کیلئے تھا وہ منگل سے لگا دینے پر عوام حیران، غیر واضح گائیڈ لائن پر برہمی، سروس سیکٹر نے بھی پابندیاں واپس لینے کا مطالبہ کیا، ’’ناقابل تلافی‘‘ نقصانات کا انتباہ

Police in riot gear stormed a rally on Tuesday, removing hundreds of protesters by truck.Picture:INN
منگل کو شہر بھر میں پولیس نے زبردستی دکانیں بندکروائیں۔تصویر: پی ٹی آئی

سنیچر اور اتوار کےمکمل  لاک ڈاؤن اور پیر سے جمعہ تک  دن کے وقت حکم امتناعی  کے  نفاذ کے اعلان کے برخلاف منگل کو پولیس  کے ذریعہ دکانیں بند کرائے جانے سے عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔عوام سنیچر اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن کی  صورت میں جن پابندیوں کیلئے خود کو تیار کئے ہوئے تھے ، وہ پابندیاں منگل کی صبح سے ہی نافذ کردی گئیں  جس  پر پوری ریاست  میں حیرت واستجاب کا اظہار کیا جارہاہے۔اس کیلئے  حکومت کی جاری کردہ غیر واضح جی آر کو ذمہ دار ٹھہرایاگیا ہے اور اُدھو سرکار سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر  ثانی کرے۔ سروس سیکٹر اور چھوٹے کاروباریوں  نے بھی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اس طرح منی لاک ڈاؤن کے نفاذ سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا اور عوام کو شدید دشواریوں کا  سامنا کرنا پڑےگا۔  پیرکی رات ۸؍بجےپولیس نے پہلے جنوبی ممبئی کے متعددعلاقوںمثلاً کرافورڈ مارکیٹ ،ناخدا محلہ، محمد علی روڈ ، بھنڈی  بازار،نل بازار ، گرانٹ روڈ ، جے جے جنکشن ، ناگپاڑہ ، مدنپورہ،  آگری پاڑہ اور بائیکلہ وغیرہ کے علاقوںمیں دکانیں بند کرنے سے متعلق اعلان کیا ۔ بعدازیں منگل کی صبح جب  ان  علاقوں میں دکانیں کھلیں تو انہیں پھر زبردستی بند کرادیا گیا۔ جس سے مذکورہ علاقوںکے دکانداروں ، بیوپاریوں اور پھیری والوں کے ساتھ ہی ساتھ عوام میں بھی بے چینی ہے ۔  محمد علی روڈ کے سماجی کار کن   ا مین   پا ر یکھ   نے   بتا یا ہے کہ ’’کرافورڈ  مارکیٹ ، محمدعلی روڈ، ناخدا محلہ اوربھنڈی بازار وغیرہ     میں  پہلے تو پیر کی رات پولیس نےدکانیں بند کرنے  کیلئے کہا جس پر عمل کیاگیا پھر منگل کو دکانداروں نے معمول کے مطابق  دکانیں کھولیں  تو  ۱۱؍بجے کےبعد پولیس نے آکر ضروری اشیاء  کے علاوہ   تمام دیگر  دکانیں بند کروادیں۔ اس سے علاقے میںافراتفری پھیل گئی۔‘‘ گرانٹ روڈ ،عرب گلی کےمکین شیخ رضوان نے  اس کیلئے حکومت کی مبہم گائیڈ لائن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔  سماجی کارکن تاج قریشی نے بتایاکہ ’’ پولیس کے ساتھ کافی وقت  تک رہنے  کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی  ہےکہ پولیس خود گائیڈ لائن سے متعلق کنفیوژہے،کہ اسے کیا کرناہے ۔‘‘ حکومت کو لاک ڈاؤن جیسی پابندیوں کی وجہ سے سروس سیکٹر اور چھوٹے تاجروں کی بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ سروس سیکٹر نے  پابندیوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے  متنبہ کیا ہے کہ بصورت دیگر معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچےگا۔ ریٹیلرس اسوسی ایشن کے سی ای او کمار راج گوپالن کے مطابق’’اس سے لاکھوں روزگار متاثر ہوںگے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK