• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

صحافی روی نائر کو اڈانی ہتک عزت کیس میں ایک سال قید کی سزا

Updated: February 11, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi

ایک عدالت نے صحافی روی نائر کو اڈانی گروپ کی جانب سے دائر ہتک عزت مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنائی دی ہے۔ فیصلے کے بعد صحافتی آزادی اور کارپوریٹ ساکھ کے تحفظ پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

 Journalist Ravi Nair. Photo: X
صحافی روی نائر ۔ تصویر: ایکس

ہندوستان میں صحافی روی نائر کو اڈانی گروپ کی جانب سے دائر ہتک عزت کے مقدمے میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایک مجاز عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سنایا، جس میں الزام تھا کہ نائر کی جانب سے شائع کردہ مواد نے اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق اڈانی گروپ نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صحافی کی رپورٹنگ میں ایسے دعوے شامل تھے جو کمپنی کے مطابق غلط اور ساکھ کو متاثر کرنے والے تھے۔ کمپنی نے استدعا کی کہ ان بیانات سے کاروباری مفادات اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا، اس لیے قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور پیش کردہ مواد کا جائزہ لینے کے بعد روی نائر کو قصوروار قرار دیا اور ایک سال قید کی سزا سنائی۔ فیصلے کی تفصیلی وجوہات عدالتی حکم نامے میں درج ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ہتک عزت سے متعلق دفعات کے تحت سنایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: پینگوئن نےجنرل نرونے کی کتاب کی اشاعت سے انکار کیا، راہل نے ٹویٹ کا حوالہ دیا

فیصلے کے فوراً بعد سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی۔ بعض صحافیوں اور صارفین نے اس فیصلے کو اظہارِ رائے اور تحقیقاتی صحافت کے تناظر میں اہم قرار دیا، جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ ہتک عزت کے قوانین ساکھ کے تحفظ کے لیے موجود ہیں اور اگر عدالت نے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے تو اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ہتک عزت کے مقدمات میں عدالت کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ آیا شائع شدہ مواد حقائق پر مبنی تھا یا اس سے کسی فرد یا ادارے کی شہرت کو غیر ضروری نقصان پہنچا۔ ایسے کیسز میں سزا کا انحصار مواد کی نوعیت اور پیش کردہ شواہد پر ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق روی نائر کی قانونی ٹیم اپیل دائر کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ ہندوستانی قانون کے تحت مجرم کو اعلیٰ عدالت میں فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر اپیل دائر کی جاتی ہے تو آئندہ مرحلے میں سزا پر عمل درآمد اور دیگر قانونی پہلوؤں پر مزید وضاحت سامنے آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا: ابھیشیک بنرجی نے ’’ٹو انڈیاز‘‘ کا حوالہ دیا، بحث تیز، ویر داس کا ردعمل

یہ مقدمہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے ایک بار پھر صحافتی آزادی، تحقیقاتی رپورٹنگ اور کارپوریٹ ساکھ کے درمیان توازن کے سوال کو اجاگر کیا ہے۔ آیا یہ فیصلہ آئندہ ایسے مقدمات کے لیے نظیر بنے گا یا نہیں، اس کا تعین آنے والے عدالتی مراحل میں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK