• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اے آئی سے تخلیق شدہ مواد کو واضح طور پر نشان زد کرنا لازمی قرار

Updated: February 11, 2026, 5:00 PM IST | New Delhi

ہندوستانی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اے آئی سے تخلیق شدہ مواد کو واضح طور پر نشان زد کرنا لازمی قرار دینے والا قانون متعارف کرایا، ساتھ ہی نشان زدہ پوسٹ کو تین گھنٹے کے اندر ہٹانے اور غیر قانونی مواد کا پتہ لگانے کے ٹولز استعمال کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستانی کی حکومت نے ڈیجیٹل قوانین میں ایک اہم ترمیم متعارف کروائی ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مصنوعی ذہانت (AI) سے تخلیق شدہ مواد کو واضح طور پر نشان زد کرنا ہوگا۔ اس نئے قانون کے مطابق تمام اے آئی سے ترمیم شدہ مواد، خواہ وہ تصاویر، ویڈیوز یا آڈیو ہو، پر واضح لیبل لگائے جائیں گے یا اس میں میٹا ڈیٹا سرایت کیا جائے گا جو اس کی اصل کو ظاہر کرے۔ اس کا مقصد صارفین کے لیے اصل اوراے آئی سے ترمیم شدہ مواد میں تمیز کو آسان بنانا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی قواعد،۲۰۲۱ء میں ترمیم کے مسودے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت (MeitY) نے پیش کیے ہیں۔ یہ صرف لیبل لگانے سے آگے بڑھ کر یہ یقینی بناتے ہیں کہ پلیٹ فارمز ایسے خودکار ٹولز استعمال کریں جو غیر قانونی، گمراہ کن یا جنسی استحصال پر مبنی اے آئی مواد کو وائرل ہونے سے پہلے پکڑنے اور بلاک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مزید برآں، اگر کسی مواد کو نامناسب قرار دے کر نشان زد کیا جائے تو اسے تین گھنٹے کے اندر ہٹانا لازمی ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: چیک جمہوریہ میں ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

اہم نکات:·
اے آئی سے تخلیق کردہ ہر مواد پر ایک واضح اے آئی لیبل یا میٹا ڈیٹا سرایت ہونا چاہیے، جسے ہٹایا یا چھپایا نہ جا سکے۔ تصویری مواد کے لیے، لیبل کم از کم تصویر کے۱۰؍ فیصد حصے پر محیط ہونا چاہیے؛
 آڈیو اور ویڈیو کے لیے، یہ کلپ کے پہلے۱۰؍ فیصد حصے میں ظاہر ہونا چاہیے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین سے یہ تصدیق کرانی ہوگی کہ وہ جو مواد اپ لوڈ کر رہے ہیں وہ اے آئی سے تخلیق شدہ ہے یا نہیں، اور اپنے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے اس دعوے کی تصدیق کرنی ہوگی۔ 
 خودکار نظاموں کو غیر قانونی یا گمراہ کن اے آئی مواد کی چھان بین کرنی ہوگی اور اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا۔
 صارفین کو ان قوانین کی خلاف ورزی کی سزاوں کے بارے میں سہ ماہی یاد دہانیاں دی جائیں گی۔
یہ حکم نامہ کئی نمایاں ڈیپ فیک واقعات کے بعد آیا ہے، جنہیں عوامی رائےمیں رد وبدل  کرنے اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا، خاص طور پر بہار میں ہونے والے انتخابات سے قبل۔ جواب میں، الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی اے آئی سے تخلیق کردہ انتخابی مواد کو لیبل کریں۔ 
بعد ازاں یہ اقدام ڈیجیٹل دنیا میں شفافیت کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور مصنوعی ذہانت سے تخلیق شدہ مواد کے جمہوری عمل پر اثرات کے بارے میں بڑھتی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK