Updated: February 04, 2026, 4:18 PM IST
| New Delhi
کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے آج لوک سبھا بجٹ اجلاس کے دوران سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی غیر شائع شدہ یادداشت Four Stars of Destiny کے اقتباسات دکھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلا چیلنج دیا کہ اگر وہ آج ایوان میں آئیں تو وہ ذاتی طور پر انہیں یہ کتاب فراہم کریں گے۔ راہل نے الزام لگایا کہ ۲۰۲۰ ءمیں لداخ سرحدی کشیدگی کے دوران مودی نے قومی سلامتی پر مناسب فیصلے نہیں کیے۔
راہل گاندھی۔ تصویر: پی ٹی آئی
۴؍ فروری ۲۰۲۶ء (آج) کو لوک سبھا کے بجٹ اجلاس میں پارلیمانی ماحول شدید کشیدگی کا شکار رہا۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر شائع شدہ یادداشت Four Stars of Destiny کے اقتباسات کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلا چیلنج دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر مودی آج ایوان میں تشریف لائیں تو وہ ذاتی طور پر انہیں یہ کتاب دیں گے تاکہ وہ اپنے دعوؤں کا سامنا کر سکیں۔ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کمپلیکس میں صحافیوں کو بتایا کہ یادداشت میں ۲۰۲۰ء میں چین کے ساتھ لداخ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں اہم معلومات اور بیانات موجود ہیں، جن سے ملک کے عوام کو آگاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف نے اعلیٰ سیاسی قیادت کے ردِ عمل، حکومتی ردِ عمل کی کمی اور ’’جو مناسب سمجھے وہ کرو‘‘ جیسے الفاظ کا ذکر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہند امریکہ تجارتی معاہدے پر اپوزیشن کا سخت رد عمل،سرکار پر تنقید
پارلیمانی اراکین نے راہل گاندھی کو ایوان میں اس کتاب کا حوالہ دینے پر سخت اعتراض کیا اور اسپیکر اوم برلا نے بار بار انہیں روکا، اس بنیاد پر کہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے اور اس کا حوالہ دینا قواعد کے خلاف ہے۔ دفاع اور داخلی امور کے وزیر، راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ایوان میں بحث کو روکنے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ کل یعنی منگل کو بھی راہل گاندھی نے ایوان میں ایک اخبار پر شائع اس یادداشت کے اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی، جس پر واک آؤٹ اور پارلیمانی ہنگامہ ہوا، جس کے بعد لوک سبھا کے اجلاس بار بار ملتوی کیے گئے۔ مخالف ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کاغذات پھینکے، جس کے بعد آٹھ اپوزیشن ممبران کو معطل کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ کے باہر بھی احتجاج ہوا، جہاں کانگریس ارکان نےPM is compromised جیسے پوسٹر اٹھائے اور حکومت پر شفافیت نہ رکھنے کا الزام لگایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت ان حقائق سے خوفزدہ ہے جو اس کتاب میں درج ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسے ایوان میں پیش نہیں ہونے دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چین پر لب کشائی اور احتجاج کی سزا، ۸؍ اراکین ِپارلیمان معطل
اس مسئلے نے ایک سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ جنرل نرونے کی کتاب Four Stars of Destiny کئی آن لائن ریٹیل پلیٹ فارمز جیسے امیزون اور فلپ کارٹ سے اچانک غائب ہو گئی ہے، جس نے افواہوں اور سیاسی تنازع کو مزید ہوا دی ہے۔ اس اقدام نے بڑھتی سیاسی بحث میں نئی جہت پیدا کی ہے، بغیر واضح وضاحت کے کہ کتاب کیوں دستیاب نہیں ہے۔ یہ واقعہ قومی سلامتی، سیاسی جوابدہی اور شفافیت پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ عوام کو حقائق جاننے کا حق ہے جبکہ حکمران جماعت کا مؤقف ہے کہ ایسی غیر مطبوعہ دستاویزات کو ایوان میں پیش کرنا مناسب نہیں۔ دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں اور سیاسی محاذ پر بحث جاری ہے، جس سے آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید سیاسی اور عوامی مباحثے کی توقع کی جا رہی ہے۔