Updated: February 21, 2026, 7:27 PM IST
| London
لندن (برطانیہ) کی مرکزی فوجداری عدالت کے باہر اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جب فلسطین ایکشن سے منسلک بارہ کارکنوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ یہ پیش رفت برطانوی ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آئی، جس میں گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے حکومتی اقدام کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
شہر کے سینٹرل کریمنل کورٹ (اولڈ بیلی) کے باہر اس وقت خوشی اور آنسوؤں کے مناظر دیکھے گئے جب فلسطین ایکشن سے وابستہ ۱۲؍ کارکنوں کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ انہیں اگست ۲۰۲۴ء میں برسٹل کے قریب فلٹن میں ایلبٹ سسٹمز کی فیکٹری پر مبینہ چھاپے کے الزام میں ریمانڈ پر رکھا گیا تھا۔ رہائی پانے والوں میں ٹیوٹا ہوکسہ، کامران احمد، قیصر زہرہ اور حبا مریسی سمیت دیگر شامل ہیں۔ ’’فلٹن ۲۴‘‘ کے نام سے معروف گروپ کے اب ۲۳؍ ارکان جیل سے باہر آ چکے ہیں۔یاد رہے کہ ۴؍ فروری کو لندن کی وولوچ کراؤن کورٹ میں چھ کارکنوں کو چوری کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا، جب کہ حالیہ فیصلے میں بقیہ ۱۸؍ افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے چوری کے الزامات بھی خارج کر دیے گئے۔ صرف سیموئیل کارنر حراست میں ہیں، جن پر ایک پولیس اہلکار پر حملے کا اضافی الزام ہے۔
کارکنوں کی رہائی برطانوی ہائی کورٹ آف جسٹس کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آئی، جس میں حکومت کی جانب سے فلسطین ایکشن کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے اقدام کو غیر قانونی اور غیر متناسب قرار دیا گیا۔ برطانیہ کی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فلسطین ایکشن کیا ہے؟
فلسطین ایکشن ۲۰۲۰ء میں قائم ہونے والی ایک تنظیم ہے، جو ان کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے جنہیں وہ اسرائیل کی پالیسیوں کا ’’کارپوریٹ معاون‘‘ قرار دیتی ہے۔ گروپ نے برطانیہ میں متعدد دفاعی کمپنیوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں اطالوی کمپنی لیونارڈو ایس پی اے اور فرانسیسی ملٹی نیشنل تھیلز گروپ شامل ہیں۔ جون ۲۰۲۴ء میں آکسفورڈ شائر کے آر اے ایف برائز نورٹن پر پیش آنے والے واقعے کے بعد حکومت نے دہشت گردی ایکٹ ۲۰۰۰ء کے تحت گروپ کو کالعدم قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔
سیاسی ردعمل
کوونٹری ساؤتھ کی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے کارکنوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے باقی زیر حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔