امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں متنازعہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو پورے فلسطین، لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب و عراق کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے کا ’’انجیلی حق‘‘ حاصل ہے۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 6:05 PM IST | Washington
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں متنازعہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو پورے فلسطین، لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب و عراق کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے کا ’’انجیلی حق‘‘ حاصل ہے۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں متنازعہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو پورے فلسطین، لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب و عراق کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے کا ’’انجیلی حق‘‘حاصل ہے۔مشہور مبصر ٹکر کارلسن کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ ’’یہ بالکل ٹھیک ہوگا‘‘ اگر اسرائیل یہ سارا علاقہ لے لے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ علاقہ خدا نے حضرت ابراہیم کے ذریعے بنی اسرائیل کو دیا تھا۔ہکابی، جو ایک بیپٹسٹ پادری اور صہیونی ہیں، نے اس علاقے کی حدود دریائے نیل سے دریائے فرات تک بتائیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی حملوں اور فلسطینیوں کی جبری بےدخلی سے نسلی تطہیر کا خطرہ
بعد ازاں ان کے اس بیان پر فوری بین الاقوامی مذمت ہوئی ہے اور امریکی خارجہ پالیسی پر عیسائی صیہونیت کے اثرات پر بحث چھڑ گئی ہے۔انٹرویو کے دوران کارلسن نے ہکابی سے سوال کیا کہ مشرقی یورپ سے آنے والے یہودیوں کو تو مقامی حقوق دیئے جاتے ہیں لیکن فلسطینی عیسائیوں کو کیوں نہیں جو دو ہزار سال سے یہاں آباد ہیں۔ کارلسن نے کہا کہ غزہ میں بچوں کو قتل کرنے کا کوئی بھی جواز انہیں قابل قبول نہیں۔ہکابی نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے جھوٹا دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے شہریوں کو بچانے کی بہترین کوشش کی۔ انہوں نے۱۴؍ سالہ بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی درست قرار دینے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ لانسیٹ گلوبل ہیلتھ کی تازہ تحقیق کے مطابق غزہ میں۱۵؍ ماہ کے دوران۷۵؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔