چنئی کے صوفی دار مندر نے رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کو افطار فراہم کرنے کی اپنی چار دہائیوں پرانی روایت برقرار رکھی ہے۔ ہر شام تیار کیا جانے والا افطار قریبی مسجد بھیجا جاتا ہے، جسے مقامی لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی زندہ مثال قرار دیتے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 8:05 PM IST | Chennai
چنئی کے صوفی دار مندر نے رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کو افطار فراہم کرنے کی اپنی چار دہائیوں پرانی روایت برقرار رکھی ہے۔ ہر شام تیار کیا جانے والا افطار قریبی مسجد بھیجا جاتا ہے، جسے مقامی لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی زندہ مثال قرار دیتے ہیں۔
شہر میں واقع صوفی دار مندر رمضان کے مقدس مہینے میں ہر شام افطار تیار کر کے قریبی مسجد بھیجتا ہے، جہاں سیکڑوں روزہ دار مغرب کے وقت جمع ہوتے ہیں۔منتظمین کے مطابق یہ روایت تقریباً ۴۰؍ سال قبل ایک ہندو پناہ گزین خاندان نے شروع کی تھی جو تقسیم کے بعد یہاں آ کر آباد ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے باوجود مندر کے رضاکاروں نے اس روایت کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اسے ایک مستقل سماجی خدمت کی شکل دے دی۔ مندر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افطار کسی مذہبی شناخت کے بغیر تیار اور تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام انسانی ہمدردی اور پڑوسیوں کے درمیان اعتماد کی علامت ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس عمل نے علاقے میں ہندو اور مسلم کمیونٹی کے درمیان تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور نوجوان نسل کو باہمی احترام کا پیغام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم تاجرکی ایمانداری، لاکھوں کے زیورات اسکے مالک کو لوٹا دئیے
تمل ناڈو کا دارالحکومت چنئی طویل عرصے سے مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی کے لیے جانا جاتا ہے۔ شہر میں کئی ایسے مواقع دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں۔ رمضان کے دوران مساجد میں اجتماعی افطار کا اہتمام ایک عام روایت ہے، جس میں غیر مسلم پڑوسی بھی بطور مہمان شریک ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں صوفی دار مندر کا یہ قدم مقامی سطح پر روزمرہ کی ہم آہنگی کی ایک مثال سمجھا جا رہا ہے۔ ملک میں مذہبی پولرائزیشن سے متعلق جاری مباحثوں کے باوجود، اس طرح کے مقامی اقدامات خاموشی سے جاری ہیں اور سماجی رشتوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ مقامی شہریوں کے مطابق، ’’یہ صرف افطار نہیں، بلکہ اعتماد اور بھائی چارے کی علامت ہے۔‘‘