• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: ۹۹؍ سالہ تاریخی انڈین ریستوراں بند ہونے کے قریب،شاہی مداخلت کی اپیل

Updated: February 03, 2026, 8:03 PM IST | London

لندن (برطانیہ) کا Veeraswamy (ویر سوامی) جسے برطانیہ کا سب سے پرانا ہندوستانی ریستوراں سمجھا جاتا ہے، ممکنہ طور پر بند ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا کرائے کا معاہدہ نہ بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ۱۸؍ ہزار سے زائد افراد نے کنگ چارلس سوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ثقافتی اور تاریخی مقام کو بچانے میں مدد فراہم کریں، جو برصغیر اور برطانیہ کے طویل ورثے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ویرسوامی جو ۱۹۲۶ء میں ریجنٹ اسٹریٹ پر قائم ہوا اور آج برطانیہ میں سب سے پرانا ہندوستانی ریستوراں سمجھا جاتا ہے، ممکنہ طور پر بند ہونے کے قریب ہے کیونکہ اس کے کرائے کے معاہدے کو کراؤن اسٹیٹ نے بڑھانے سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد عوامی غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور تاریخی مقام کی حفاظت کے لیے ایک بڑی مہم شروع ہو گئی ہے۔ یہ ریستوراں وکٹری ہاؤس میں واقع ہے، جو ایک ایسی عمارت ہے جسے لندن کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کراؤن اسٹیٹ کا موقف ہے کہ عمارت میں بڑے پیمانے پر تجدید اور دفاتر کے لیے تبدیلیاں ضروری ہیں، جس کے باعث ریستوراں کو موجودہ جگہ پر برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم، مہم چلانے والوں اور وفادار گاہکوں کا کہنا ہے کہ ویرسوامی صرف ایک ریستوراں نہیں بلکہ صدیوں پرانا ثقافتی استعارہ ہے، جو برطانیہ میں ہندوستانی کھانوں کے سفر اور مقبولیت کی علامت ہے۔

اس فیصلے کے خلاف ۱۸؍ ہزار سے زائد افراد نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کئے ہیں، جسے اب شاہی مداخلت کے مطالبے کے ساتھ بکنگھم پیلس کے سامنے پیش کرنے کا منصوبہ ہے۔ مہم کے حامیوں میں ریستوراں کی تاریخ سے وابستہ افراد کے علاوہ مشہور شیف، معاشرتی کارکن اور ثقافتی قدردان شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویر سوامی کی موجودگی نے نسلوں کو متاثر کیا ہے اور اسے محفوظ رکھنا چاہیے۔ واضح رہے کہ ویر سوامی کو ۱۹۲۶ء میں ایڈورڈ پالمر نے قائم کیا تھا، جو ایک سابق اینگلو انڈین فوجی افسر تھے، اور برطانیہ میں ہندوستانی کھانوں کا تعارف کروانے میں ان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ ابتدائی دور میں انہوں نے انگلش اور ہندوستانی ذائقوں کا امتزاج پیش کیا، جس نے برطانوی معاشرے میں ہندوستانی پکوانوں کی دلچسپی بڑھائی۔ وقت کے ساتھ ریستوراں نے اپنے مینو کو جدید اور روایتی دونوں طرز کے کھانوں سے مزین کیا، جن میں پنجاب، لکھنؤ، کشمیر اور گوا کے منفرد پکوان شامل ہوئے۔
۹۹؍ سال کے عرصے میں ویرسوامی نے متعدد نامور شخصیات کی مہمان نوازی کی ہے جن میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، ونسٹن چرچل، چارلی چیپلن نیز دیگر اہم سفارت کار اور معروف شخصیات شامل ہیں۔ ۲۰۱۶ء میں اسے مشی لین اسٹار کے اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا جو اس کی معیاری پکوانوں اور بے مثال خدمات کا عالمی اعتراف سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ تنازع کی جڑ کرائے کا معاہدہ نہ بڑھانے کا فیصلہ ہے، جس کے نتیجے میں ریستوراں کی مستقبل کی غیر یقینی صورتحال نے عوامی بحث اور جذبات کو جنم دیا ہے۔ کراؤن اسٹیٹ ریستوراں کے لیے متبادل جگہ تلاش کرنے یا معاوضہ دینے کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم حامی اس کو متبادل حل سمجھنے سے انکار کررہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: فن لینڈ: بے روزگاری کے دوران سماجی امداد کے قواعد سخت

گاہکوں کا کہنا ہے کہ ویر سوامی کی بندش لندن کی کھانے پینے کی صنعت کی تاریخ، ثقافتی تنوع اور برصغیر اور برطانیہ کے مشترکہ ورثے کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا۔ اسے محفوظ رکھنے کے لیے بحالی کے پروگرام، شاہی حمایت اور عدالت تک جانے کی تیاری بھی زیر غور ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ ۲۰۲۶ء میں ویرسوامی کی ۱۰۰؍ ویں سالگرہ منائی جانے والی ہے، جو اَب ممکن ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK