• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان: الاقصیٰ مسجد تک فلسطینی مسلمانوں کی رسائی محدود کرنے کا اسرائیلی منصوبہ

Updated: February 13, 2026, 9:03 PM IST | Al Quds

اسرائیلی حکام آئندہ ہفتے رمضان کے دوران مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع الاقصیٰ مسجد تک فلسطینیوں کی رسائی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یروشلم کے سابق مفتی نے ان پابندیوں کو مذہبی آزادی کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مجوزہ اقدامات خاص طور پر مغربی کنارے سے آنے والے نمازیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Al-Aqsa Mosque. Photo: X
مسجد اقصیٰ۔ تصویر: ایکس

آئندہ ہفتے رمضان سے قبل اسرائیلی سیکوریٹی حکام نے مسجد الاقصیٰ تک رسائی کے حوالے سے نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہر سال رمضان کے دوران لاکھوں فلسطینی نمازی مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ انکشاف سابق مفتیٔ یروشلم عکرمہ صابری نے میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام مغربی کنارے سے آنے والے نمازیوں کے داخلے پر سخت شرائط عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں عمر کی حد، خصوصی اجازت نامے اور اضافی سیکوریٹی چیک شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ اقدامات کے تحت:مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں کے لیے خصوصی پرمٹ لازمی ہو سکتا ہے۔ نوجوان مردوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔چیک پوائنٹس پر سیکوریٹی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: حماس نے غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی کو مسترد کر دیا

یہ پابندیاں رمضان المبارک کے دوران نافذ کیے جانے کا امکان ہے، جو آئندہ ہفتے شروع ہو رہا ہے۔ اسرائیلی پابندیاں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ پر لاگو ہوں گی، جو مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقام سیاسی اور مذہبی اعتبار سے انتہائی حساس حیثیت رکھتا ہے۔ فلسطینی مذہبی قیادت اور مقامی لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور عبادت کے بنیادی حق کے خلاف ہیں۔عکرمہ صابری نے کہا کہ ’’رمضان میں الاقصیٰ تک رسائی محدود کرنا نہ صرف عبادت کے حق پر قدغن ہے بلکہ یہ کشیدگی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔‘‘ اگر یہ پابندیاں نافذ ہوئیں تو ہزاروں فلسطینی نمازی، خصوصاً مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے افراد، مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مذہبی سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ علاقائی سطح پر کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز کر نے کا خدشہ

واضح رہے کہ رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ میں بڑے اجتماعات کی روایت طویل عرصے سے جاری ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھی اسرائیلی حکام نے عمر کی بنیاد پر داخلے کی پابندیاں عائد کی تھیں، جس پر فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اعتراض کیا تھا۔ الاقصیٰ کمپاؤنڈ کی حیثیت اسرائیل فلسطین تنازع میں ایک مرکزی نکتہ ہے، اور یہاں معمولی انتظامی تبدیلی بھی سیاسی و سفارتی سطح پر ردعمل پیدا کر سکتی ہے۔ فلسطینی حلقوں میں اس خبر پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اسے ’’مذہبی آزادی پر قدغن‘‘ قرار دیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران سخت اقدامات کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے بھی اس طرح کی پابندیوں پر نظر رکھتی رہی ہیں اور عبادت کے حق کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK