Updated: May 05, 2026, 9:07 AM IST
| Kolkata
بی جےپی دفتر میں جشن کے دوران وزیراعظم کا خطاب، بنگال میں پارٹی کی فتح کو ’’جمہوریت پر عوام کے اعتماد‘‘ کا نتیجہ قرار دیا، اپوزیشن کو نصیحتیں کیں۔
مودی جیت کے بعد منعقدہ جشن کی تقریب میںپارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر:پی ٹی آئی
نئی دہلی(ایجنسی): وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال اور آسام میں بی جےپی کی فتح کے بعد دہلی میں پارٹی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے زعفرانی پارٹی کی جیت کو ’’ جمہوریت پرعوام کے اعتماد کانتیجہ‘‘ قراردیا۔ بنگال میں پارٹی کی فتح پر خوشی کاا ظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’گنگوتری سے گنگا ساگر تک کنول کھل رہا ہے۔‘‘
مودی نے اس موقع پر اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے ’’بدلہ ‘‘کی جگہ ’’بدلاؤ‘‘ کی سیاست کا نعرہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں تقریباً۹۳؍ فیصد ووٹنگ اپنے آپ میں تاریخی واقعہ ہے، جبکہ آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کیرالا میں بھی ووٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، خاص طور پر خواتین کی بڑی شرکت نے جمہوریت کی ایک روشن تصویر پیش کی ہے۔وزیر اعظم نے انتخابی عمل میں شامل تمام افراد، الیکشن کمیشن، سیکوریٹی فورسیز اور دیگر عملے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن نے جمہوریت کی عظمت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت کی یہ مضبوطی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنے گی۔مودی نے اپنی تقریر میں گنگا ندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ گنگا جی بہار سے بہتے ہوئے گنگا ساگر (مغربی بنگال) تک جاتی ہیں اور اب مغربی بنگال میں جیت کے ساتھ گنگوتری (اتراکھنڈ) سے لے کر گنگا ساگر تک کمل کھل چکا ہے۔ انہوں نے نتائج کو خوف پر جمہوریت کی جیت قرار دیا۔