Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایل پی جی بحران مزید گہرا، کہیں فیکٹریاں بند ، کہیں لکڑیو ں پر کھانا پکانا مجبوری

Updated: March 20, 2026, 1:36 AM IST | New Delhi

سانگانیر میںسلنڈرکی قلت کے سبب ایک ہزار سے زائد فیکٹریوں پر تالا،ہماچل اسمبلی کے اسٹاف اور اراکین کیلئے کھانا لکڑی کے چولہو ں پر بنایاجارہا ہے،کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا کی مرکز سے فوری مداخلت کی اپیل

The government is denying reports of a shortage of LPG gas cylinders in the country, but the ground situation appears to be the opposite.
ملک میں ایل پی جی گیس سلنڈرکی قلت کی خبروں حکومت کو مسترد کررہی ہےمگرزمینی حالات اس کے برعکس نظر آرہے ہیں

ملک بھر میںرسوئی گیس سلنڈرکا بحران گہرا ہوتا جارہا ہے۔حکومت جہاںگیس سلنڈروں کی قلت کی خبروں کی ہی تردید کی کررہی ہے وہیں مختلف ریاستوں کے منظر نامے عوام کی شدید پریشانیوں کو بیان کررہے ہیں۔ایل پی جی بحران کے سبب جے پور کے سانگانیرصنعتی علاقے میں چل رہی ایک ہزارسے زیادہ ٹیکسٹائل پرنٹنگ فیکٹریوں میں تقریباً۹۰؍ فیصد کمپنیاں فی الحال کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قلت کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں۔ مینوفیکچرنگ مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ اس سے کاروباریوں کو روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ مزدور بے حال بیٹھے ہیں۔ کورونا وائرس وبا کے بعد اب ایک بار پھر مزدوروں کو نقل مکانی کا سامنا ہے۔
 ٹیکسٹائل پرنٹنگ کی یہ ایک ہزارسے زیادہ فیکٹریاں جے پور کے سانگانیر علاقے میں کام کرتی ہیں جو وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کا انتخابی حلقہ ہے۔ کاروباری اور مزدور اب وزیراعلیٰ بھجن لال شرما سے فریاد کر رہے ہیں کہ انہیں کمرشل سلنڈر فراہم کیا جائے۔ فیکٹری آپریٹروں نے مزدوروں کو۲؍ دنوں میں حالات معمول پر نہ آنے کی صورت میں اپنے گھروں کو واپس جانے کا فرمان سنادیا ہے۔ اس آرڈر کے بعد مزدوروں میں زبردست مایوسی ہے۔ ان پر دوہری مار کا اندیشہ ہے۔ انہیں کچھ دنوں کیلئے بے روزگار ہونا پڑے گا تو وہیں دوسری طرف گھر آنے جانے پر ہزاروں روپئے الگ سے خرچ کرنے پڑیں گے۔ ایل پی جی بحران کی وجہ سے یہاں روزانہ تقریباً۱۲؍ سے۱۵؍لاکھ میٹر کپڑوں کی چھپائی کا کام نہیں ہوپا رہا ہے۔
ایم پی کے کٹنی میں سرکاری اسکولوں سےسلنڈر چوری
  حکومت کی طرف سے ایل پی جی وافر مقدار میں موجود ہونے کے دعوؤں کے باوجود عوام میں گیس کے حوالے سے گھبراہٹ اور پریشانی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ حد تو تب ہوگئی جب سلنڈر کی مارا ماری میں چور بھی سرگرم ہوگئے۔ اس اثنا میں مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع میں ایک چونکانے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ چوروں کے ایک گروہ نے بارواڑہ تھانہ علاقے میں ایک نہیں بلکہ ۴؍سرکاری اسکولوں کو نشانہ بنایا اور وہاں موجود ایل پی جی گیس سلنڈر پر ہاتھ صاف کردیا۔ اس واردات سے پورے علاقے میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
  پولیس نے مقدمہ درج کرکے فی الحال جانچ شروع کردی ہے۔ ساتھ ہی اسکولوں میں سیکوریٹی بڑھانے کا بھی حکم دیا ہے۔ اسکول کے پرنسپل نے اس سلسلے میں تحریری شکایت بھی درج کرائی ہے۔ اس واردات کے بعد اب بچوں کے دوپہر کے کھانا ’مڈ ڈے میل‘ پر بحران آسکتا ہے۔
 اطلاعات کے مطابق ضلع کے سرکاری سیکنڈری اسکول بھجیا ودیالیہ کے پرنسپل نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چور رات کے وقت اسکول میں گھس آئے اور گیس سے بھرے۴؍سلنڈر چوری کر لیے۔ اسی رات گینگ نے بھجیا گرلز اسکول سے بھی ایک سلنڈر چوری کیا۔ گورنمنٹ سیکنڈری شالا اسکول پرسیل سے۳؍ سلنڈر چوری ہونے کی تحریری شکایت پولیس میں درج کرائی گئی ہے۔ پنشوکھر گورنمنٹ سیکنڈری اسکول میں بھی چوروں نے حملہ کرکے سلنڈر چوری کر لیے۔وہیں دوسری طرف سلنڈر کی بڑھتی ہوئی قلت کے درمیان ضلعی انتظامیہ نے کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سدارمیا کی مرکز سے فوری مداخلت کی اپیل 
  کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے کمرشل ایل پی جی اور آٹو ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری کو خط لکھ کر فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلور سمیت ریاست کے کئی حصوں میں گیس کی فراہمی میں شدید رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ طلب اور رسد کے درمیان بڑا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل، ریسٹورنٹ، کیٹرنگ یونٹس اور پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں کی جانب سے روزانہ تقریباً پچاس ہزار سلنڈروں کی ضرورت ہے جبکہ اس کے مقابلے میں صرف ایک ہزار سلنڈر ہی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ 
 وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی اضافی ایل پی جی ٹینکر ملک پہنچنے سے صورتحال میں بہتری آئے گی، تاہم انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ کرناٹک، خاص طور پر بنگلور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب مقدار میں کمرشل اور آٹو ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
اسمبلی اسٹاف واراکین کیلئے لکڑیوں پر کھانا پکایاجارہا ہے
 ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ میں ان دنوں کمرشیل ایل پی جی کی شدید قلت دیکھی جا رہی ہے جس کا اثر اب عام زندگی کے ساتھ ساتھ اسمبلی کی کارروائیوں پر بھی پڑنے لگا ہے۔ حالات اتنے سنگین ہو گئے ہیں کہ گیس سلنڈروں کی کمی کی وجہ سے اسمبلی کیلئے تیار ہونے والا کھانا بھی اب لکڑی کے چولہوں پر بنایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اسمبلی سیشن کے دوران روزانہ سیکڑوں افراد کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے لیکن کمرشیل سلنڈروں کی سپلائی رکنے کی وجہ سے باورچیوں کو روایتی طریقوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ ہماچل پردیش ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایچ پی ٹی ڈی سی) کے ہوٹلوں میں خاص طور پر ’ہالیڈے ہوم‘ اور ’پیٹر ہاف‘ میں روزانہ تقریباً۸۰۰؍ لوگوں کا کھانا لکڑیوں پر پکایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ملازمین کو بھی اضافی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK