سنجے نروپم راستے پر اتر کر احتجاج کرنے کے بجائے پرتاپ سرنائیک سے ملاقات کیوں نہیں کرتے جو انہی کی پارٹی کے ہیں؟ راج ٹھاکرے شندے سے بات کرکے نروپم کو خاموش کیوں نہیں کرواتے؟
ممبئی کے رکشا والے زبان کے تنازع میں پھنسے ہیں یا سیاست کے جھمیلے میں؟-تصویر:آئی این این
مہاراشٹر کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے کہ جن رکشا والوں کو مراٹھی زبان نہ آتی ہو انہیں نیا لائسنس نہیں دیا جائے گا اور جن کے پاس لائسنس ہے اگر انہوں نے مراٹھی نہیں سیکھی تو ان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ اس پر خاص کر ممبئی شہر میں بڑا ہنگامہ ہوا۔ ریاست کے باہر سے آئے ہوئے باشندے جو رکشا چلاتے ہیں ، انہوں نے ہڑتال کا بھی اعلان کیاجواب میں مراٹھی لیڈران نے ان کے احتجاج کے مقابل ایک احتجاج کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا۔ سوشل میڈیا پر جو لڑائی جاری ہے سو الگ۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں مہایوتی حکومت میں شامل یا اس کے طرفدار افراد ہی پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔ اپوزیشن اس پورے منظر نامے میں کہیں دکھائی دنہیں دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر برائے ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک کا تعلق ایکناتھ شندے کی شیوسینا سے ہے۔ جبکہ اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے لیڈران میں سب سے پیش پیش سنجے نروپم ہیں جو رہتے تو کئی دہائیوں سے مہاراشٹر میں ہیں لیکن بنیادی طور پر بہار کے ہیں ، برسوں کانگریس میں گزارنے کے بعد ۲۰۲۴ء الیکشن سے قبل وہ شیوسینا (شندے) میں شامل ہوئے ہیں۔ اس وقت وہ سڑکوں پر اتر کر اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ یوپی بہار سے تعلق رکھنے والے رکشا والوںکو دلاسہ دے رہے ہیں ، مراٹھی کی حمایت میں یوپی بہار کے رکشا والوں کو دھمکانے والے کارکنان کو جواب دے رہے ہیں لیکن ایک بار اپنی پارٹی کے وزیر پرتاپ سرنائیک سے مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ یہاں ا یک بات یاد دلانا بے حد ضروری ہے کہ ۲۰۰۴ء میں کانگریس میں شامل ہونے سے پہلے سنجے نروپم بال ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا ( غیر منقسم) میں تھے۔ پارٹی چھوڑنے سے کچھ ہی دن پہلے انہوں نے ریلوے کا امتحان دینے آئے یو پی بہار کے طلبہ کو پیٹنے والے شیوسینکوں کی قیادت کی تھی۔ اس وقت انہوں نے بال ٹھاکرے کے اس موقف کی ذرا بھی مخالفت نہیں کی تھی کہ مہاراشٹر میں خالی پڑی سرکاری اسامیوں پر پہلا حق مراٹھی باشندوں کا حق ہے۔ بلکہ ان کی حمایت میں میڈیا کے سامنے بڑھ چڑھ کر بیانات دیئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اب اچانک انہیں یو پی بہار کے باشندوں کی فکر کیوں ستانے لگی جبکہ وہ بال ٹھاکرے کی راہ پر چلنے کا دعویٰ کرنے والی شیوسینا کے رکن ہیں؟
دوسری طرف پرتاپ سرنائیک کے فرمان کی مخالفت میں بی جے پی کی کٹھ پتلی کہے جانے والے وکیل گنا رتنے سدا ورتے ہیں ۔ یہ صاحب مہایوتی حکومت کے ہر فیصلے کے دفاع میں عدالت پہنچ جاتے ہیں اور اپوزیشن کے احتجاج کے خلاف اسٹے لے آتے ہیں۔ اس بار وہ مہایوتی حکومت کے فیصلے کے خلاف ہیں لیکن یہ بھی سنجے نروپم کی طرح اپنے آقا دیویندر فرنویس سے بات کرنے کے بجائے سڑکوں پر اتر کر غیر مراٹھی رکشا والوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گنا رتنے اپنے آپ کو فرنویس کا مرید بتاتے ہیں اور ان کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے لیکن اتنے سے کام کیلئے وہ کالا کوٹ اتار کر سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا احتجاج اس لئے بھی دلچسپ ہو جاتا ہے کہ وہ خاص طور پر ایکناتھ شندے کے شہرتھانے میں جا کر آواز بلند کر رہے ہیں۔مراٹھی غیر مراٹھی کے اس مسئلے کا ایک تیسرا زاویہ بھی ہے اور وہ ہے راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا جو کہ ہر بار اس طرح کے معاملات میں پیش پیش رہتی ہے۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی کھل کر پرتاپ سرنائیک کے فیصلے کی حمایت کر رہی ہے اور رکشا والوں میں اسٹیکر بانٹ رہی ہے جس پر لکھا ہے کہ ’’مجھے مراٹھی آتی ہے ، آپ میرے رکشا میں بیٹھ سکتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی پارٹی کے ممبئی صدر سندیپ دیشپانڈے غیر مراٹھی رکشا والوںکو دھمکا رہے ہیں کہ تم ہڑتال کرکے دکھائو ، پھر ہم بتاتے ہیں۔
یہاں پھر سوال اٹھتا ہے کہ اگر ایم این ایس کو پرتاپ سرنائیک کے فیصلے کے خلاف سنجے نروپم اور گنارتنے سدا ورتے کے موقف پر اعتراض ہے تو راج ٹھاکرے جیسے لیڈر کیلئے کیا مشکل ہے کہ وہ ایک میٹنگ ایکناتھ شندے یا پھر دیویندر فرنویس کے ساتھ منعقد کرکے ان دونوں کو خاموش کروائیں؟ مگر راج ٹھاکرے بالکل خاموش ہیں۔ ان کی پارٹی کے کارکنان ہی میڈیا کے سامنے بیان دے رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ عام طور پر کسی بھی معاملے میں ایک دوسرے کی مخالفت درپردہ سیاست دانوں کی رضامندی ہی سے ہوتی ہے لیکن وہ چیزیں دکھائی نہیں دیتی ہیں لیکن اس بار سب کچھ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہی ہو رہا ہے۔
راج ٹھاکرے کی پارٹی پہلے بھی مراٹھی اور غیر مراٹھی کے معاملے پر جارحانہ رویہ اختیار کرتی آئی ہے لیکن اس وقت کانگریس اور این سی پی کی حکومت ہوا کرتی تھی اور ان پارٹیوں کے لیڈران سے راج ٹھاکرے کی قربت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اب تو ہر چوتھے دن راج ٹھاکرے وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ کے گھر پہنچ جاتے ہیں اور اگلے دن ان کے کارکنان سڑک پر اتر کر حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیارکشاوالوں کے لائسنس کو مراٹھی سے مشروط کرنے کا مقصد کچھ دنوں تک میڈیا کو سرخیاں فراہم کرنا ہے یا اس کے بہانے شندے گروپ اور بی جے پی کے درمیان جاری رسہ کشی کو سڑکوں پر لانا ہے۔ کیونکہ لگ تو یہی رہا ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کے حامی ایک دوسرے کے سامنے ہیں۔ اپوزیشن تو کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔