راجستھان میں کمرشیل ایل پی جی کی شدید قلت سے ٹیکسٹائل، ماربل اور کیمیکل فیکٹریاں بند ،ہزاروں مزدور بے روزگار ، گھروں کو لوٹنے پر مجبور۔ گجرات اور ممبئی کا بھی یہی حا ل
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 11:23 PM IST | Mumbai
راجستھان میں کمرشیل ایل پی جی کی شدید قلت سے ٹیکسٹائل، ماربل اور کیمیکل فیکٹریاں بند ،ہزاروں مزدور بے روزگار ، گھروں کو لوٹنے پر مجبور۔ گجرات اور ممبئی کا بھی یہی حا ل
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا اثر اب ہندوستان کی کئی ریاستوں میں واضح طور پر نظرآنے لگا ہے جہاں ایل پی جی بحران نے صنعت سے لے کر روزمرہ کی عوامی زندگی تک ہر چیز کو درہم برہم کردیا ہے۔ راجستھان میں کمرشیل ایل پی جی کی کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل، ماربل اور کیمیکل فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں جس سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو کر یوپی اور بہار میں اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہیں۔ یہی صورتحال گجرات اورممبئی کی بھی ہے۔ ممبئی کی کمرشیل ایل پی جی کی صورتحال تو ابتر ہے ہی گھریلو گیس سلنڈر کیلئے بھی طویل قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ یہاں پر لوگ ایک ایک سلنڈر کے لئےلمبی لائن میں کھڑے ہیں اور بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے قیمتیں دوگنا اور ۳؍گنا بڑھ گئی ہیں۔
گجرات کے سورت میں بھی گیس کی شدید قلت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر غیر مقیم مزدوروں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ یہاں کی بہت سی انڈسٹریز کمرشیل گیس پر ہی منحصر تھیں جو گیس نہ ملنے کی وجہ سے اب بند ہو رہی ہیں۔ متاثرہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ جب کھانا پکانا ہی مشکل ہو گیا ہے تو شہر میں رہنا بیکار ہے۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال سنگین بنی ہوئی ہے۔اس وقت سب سے بڑا سوال ملک کی معیشت کا ہے جو اس صورتحال سے متاثر ہو نا شروع ہوگئی ہے اور اس کا اعتراف خود حکومت نے کیا ہےکہ ملک کی شرح نمو اس بحران سے متاثر ہو گی اور معیشت کی رفتار میں بھی کمی آئے گی۔
ایران جنگ کے اثرات راجستھان میں بھی محسوس ہونے لگے ہیں۔ یہاں ٹیکسٹائل سے لے کر سیرامکس اور ماربل تک کی کمپنیوں کو کمرشیل ایل پی جی سپلائی کی قلت نے صنعتی سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ہزاروں فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں جس سے مزدوروں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہو گئی ہے۔ فیکٹریاں بند ہونے سے کووڈ جیسی صورتحال کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جو مزدور بچے بھی ہیں ان کے ایل پی جی گھریلو سلنڈر نہ ملنے سے کھانے پینے کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہوٹل بھی بند ہورہے ہیں۔ ایسےمیں کوئی بھی مزدور یہاں ٹھہرنا نہیں چاہتا ہے۔
موجودہ حالات سے ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کے کچن بھی متاثر ہیں۔ لوگ راشن کیلئے نہیں بلکہ ایک سلنڈر کیلئے لائن میں کھڑے ہیں۔اس دوران بحران کا فائدہ اٹھانے والے بلیک مارکیٹرز بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ عام لوگوں کا الزام ہے کہ جو سلنڈر پہلے ۹۰۰؍ سے ہزار روپے میں دستیاب ہوجاتا تھا اب وہ ۳؍ ہزار روپے تک مل رہا ہے۔ ایک سلنڈر کیلئے اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے بعد بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ انہیں سلنڈر ملے گا۔کئی گیس ایجنسیوں کے پاس سلنڈروں کی قلت ہے جبکہ جن کے پاس دستیاب ہو رہا ہے انہیںبھی مطلوبہ تعداد نہیں مل رہی ہے۔ ایسے میں حالات بہت زیادہ خراب ہونے کے درپے ہیں۔
اسی طرح گجرات کے سورت میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، بلیک مارکیٹ میں قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پرغیر مقیم مزدوروں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ بہت سے مزدور اپنا پورا سامان برتن، چولہے، بالٹیاں وغیرہ لے کر ٹرین میں سوار ہوکر گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ نقل مکانی پر مجبور مزدوروں کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت کی وجہ سے وہ کھانا نہیں کھا پارہے ہیں۔ ایسی صورت میںوہ شہر میں رہیں بھی تو کیسے رہیں۔ اسی لئے اپنا تمام سازو سامان لے کر واپس جارہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ کم از کم ان کے گاؤں میں ایندھن، لکڑی اور کھیتی باڑی جیسے ذرائع ہیں، جہاں وہ اپنا گزر بسر کرسکتے ہیں۔ جب حالات بہتر ہو جائیں گے تو وہ پھر واپس آنے کے بارے میں سوچیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی کشیدگی کم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں ایندھن کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔