شہریت ترمیمی قانون کے معاملے میں اپنی پارٹی کے اعلانیہ موقف سے الگ رائے رکھنے والے جے ڈی یو کے قومی نائب صدر پرشانت کشور نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا ہے جس سے بی جے پی میں اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: December 30, 2019, 8:56 PM IST | Inquilab News Network | Patna
شہریت ترمیمی قانون کے معاملے میں اپنی پارٹی کے اعلانیہ موقف سے الگ رائے رکھنے والے جے ڈی یو کے قومی نائب صدر پرشانت کشور نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا ہے جس سے بی جے پی میں اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔
پٹنہ : شہریت ترمیمی قانون کے معاملے میں اپنی پارٹی کے اعلانیہ موقف سے الگ رائے رکھنے والے جے ڈی یو کے قومی نائب صدر پرشانت کشور نے ایک بار پھر ایسا بیان دیا ہے جس سے بی جے پی میں اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔ پرشانت کشور نے بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں کہا ہے کہ ریاست میں این ڈی اےمیں شامل جماعتوں میں جے ڈی یو سب سےبڑی پارٹی ہے۔ اسلئے اسمبلی الیکشن میں سیٹوں کی تقسیم لوک سبھا انتخابات کی طرح نہیں ہوگی۔
جے ڈی یو لیڈرنےکہا کہ سیٹوں کی تقسیم جیسے پہلے ہوتی رہی ہے، آگےبھی اسی بنیاد پر ہوگی۔ ہم بی جے پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیں گے۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان سیٹوںکا بٹوارہ ایک اور ۱ء۴؍ کے تناسب میں ہو گا۔ اس میں تھوڑا بہت اوپر نیچے ہو سکتا ہےلیکن جے ڈی یو زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑےگا۔ پرشانت کشور نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تناسب صرف جے ڈی یو اور بی جے پی کے لیے ہے، ایل جے پی کیلئےنہیں۔ مطلب یہ کہ جے ڈی یو کو۱۴؍سیٹیں ملتی ہیں تو بی جے پی کو۱۰؍ ملیں گی۔ تناسب یہی رہے گا۔ پرشانت کشور نے یہ باتیں ایک ٹی وی چینل کودیے گئے انٹرویو میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۱۰ءمیں ہوئے بہاراسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو نے۱۴۱؍اور بی جے پی نے۱۰۲؍ سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا۔ پرشانت کشور نے کہا کہ ۲۰۱۵ء کے اسمبلی انتخابات کا نتیجہ دیکھیں تو جے ڈی یو اور بی جےپی کی جیتی ہوئی سیٹوں کا تناسب بھی تقریباًایک اور۱ء۴؍کا رہا تھا۔انہوں نے کہاکہ اسمبلی انتخابات میں لوک سبھا الیکشن کافارمولہ نہیںنافذہوگا۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اور اگلے سال ہونے والے انتخابات میں حالات بالکل مختلف ہیں۔ گزشتہ انتخابات سے بی جے پی اور جے ڈی یو کی سیٹوں کی تقسیم سےکوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پرشانت کشور نےکہا کہ ایک بات صاف ہے کہ دونوں پارٹیوں کا برابر سیٹوں پر لڑنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا چہرہ ہے۔
واضح رہے کہ۲۰۰۵ء اور۲۰۱۰ءکا بہار اسمبلی الیکشن جے ڈی یو اور بی جے پی نے ساتھ مل کر لڑا تھا۔ البتہ ۲۰۱۴ءمیں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے پہلے این ڈی اے میں ٹوٹ پھوٹ ہوگئی تھی۔جے ڈی یو نے اکیلےلوک سبھا کا الیکشن لڑا۔ اس کے بعد۲۰۱۵ء کے اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو نے آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا تھا۔ مہاگٹھ بندھن کو اکثریت ملی اور نتیش کمار پھر وزیر اعلیٰ بنے لیکن محض۲۰؍ ماہ کے بعد نتیش کمار مہاگٹھ بندھن سے الگ ہو گئے اور بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی۔