• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیپال کا سیلاب بہار کیلئے بھی خطرہ

Updated: September 01, 2026, 4:40 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai

نیپال کے راسووا سے شروع ہونے والی تباہی، بھوٹے کوشی اور تریشولی کے دریائی راستے سے آگے نارائنی اور پھر ہندوستان میں گنڈک کے نظام تک پہنچتی ہے۔ یہی جغرافیائی تسلسل بتاتا ہے کہ ہمالیہ، نیپال، اترپردیش اور بہار الگ الگ قدرتی دنیا نہیں بلکہ ایک ہی دریائی اور ماحولیاتی نظام کے حصے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

قدرتی آفات کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ پہاڑوں میں ہونے والی ایک تباہی چند گھنٹوں کے اندر دریا کے راستے سیکڑوں کلومیٹر دور واقع آبادیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ نیپال اور تبت کی سرحد پر ۲۶؍اگست ۲۰۲۶ء کو آنے والا تباہ کن فلیش فلڈ اسی حقیقت کی ایک المناک مثال ہے۔ اس سیلاب نے نیپال کے شمالی حصے میں نہ صرف انسانی جانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا بلکہ سڑکوں، پلوں، بجلی کے منصوبوں، تجارتی راستوں اور رہائشی علاقوں کو بھی تباہ کردیاہے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ پانی جس دریائی نظام سے گزرا ہے، وہ آگے چل کر ہندوستان میں داخل ہوتا ہے اور بالخصوص شمالی بہار کے نصف درجن اضلاع مثلاً مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، مظفرپور، مدھوبنی، دربھنگہ، سپول، شیوہر اورسہرسہ کے لئے اس کے اثرات نہایت باعثِ فکر مندی ہوسکتے ہیں۔اس قدرتی سانحے کا مرکز نیپال کا راسووا ضلع ہے، جو نیپال۔ تبت سرحد کے قریب واقع ہے۔راسوواگدھی، تیمور اور اس کے اطراف کا علاقہ سب سے پہلے اور سب سے شدید متاثر ہوا۔ سرحد کے دوسری طرف تبت کے گیرونگ کے علاقے میں بھی شدید تباہی ہوئی۔ سیلاب اور ملبے کے ریلے نے اس اہم تجارتی راستے کو بری طرح متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کا احسان مانیں گے ہم؟

تباہی کا اگلا اہم جغرافیائی مرحلہ کوسی بھوت اور پھرتریشولی ندی کا دریائی نظام ہے۔ سیلابی پانی اور ملبے نے راسووا سے آگے دریا کے راستے میں واقع علاقوں کو متاثر کیا اور اس کا اثرنوواکوٹ اور دھاڈنگ جیسے اضلاع تک پہنچا۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق راسووا، نواکوٹ اور دھاڈنگ میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے متاثر ہوئے اور بجلی کی پیداوار میں بڑا خلل پڑاہے۔یہاں جغرافیہ کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ تریشولی آگے چل کر نرائنی دریائی نظام کا حصہ بنتا ہے اور یہی دریائی نظام ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد گنڈک کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چنانچہ راسووا میں ہونے والی تباہی اور بہار میں گنڈک کے پانی کے درمیان ایک قدرتی دریائی تعلق موجود ہے۔نیپال کے پہاڑی علاقوں سے نکلنے والا پانی جب میدانی علاقے میں آتا ہے تو اس کی رفتار، مقدار اور پھیلاؤ بدل جاتا ہے۔ اسی لئے راسووا میں آنے والا فلیش فلڈ اپنی اسی شدت کے ساتھ بہار تک نہیں پہنچتا۔ راستے میں دریا کا حجم، معاون ندیاں، بارش، مٹی، قدرتی رکاوٹیں اور بیراجوں کا انتظام پانی کے بہاؤ کو تبدیل کرتے ہیں۔لیکن خطرہ اسلئے اہم ہے کہ گنڈک،نرائنی  براہ راست ہندوستان کے شمالی میدانوں سے جڑا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے بہار، اترانچل اور اترپردیش میں گنڈک کے پانی پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے۔موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ توجہ مغربی چمپارن، گوپال گنج، سارن، مشرقی چمپارن، مظفرپور اور ویشالی سمیت گنڈک سے وابستہ علاقوں پر ہے۔ بعض تازہ رپورٹس میں بہار کے آٹھ اضلاع میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ان میں مغربی چمپارن کی جغرافیائی اہمیت سب سے زیادہ ہے، کیونکہ گنڈک کا دریائی نظام اسی خطے سے ہندوستانی میدانوں میں نمایاں طور پر داخل ہوتا ہے۔ والمی کینگر، بگہا، گنڈک کے کنارے کے نشیبی علاقے اور آگے دریا کے ساتھ واقع آبادیوں پر خصوصی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتےغزہ جارحیت، ایس آئی آر اور طلبہ مظاہرے بیشتر اخبارات کے موضوعات رہے

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذکورہ تمام اضلاع میں نیپال کا سیلاب داخل ہوگا۔ فی الحال معاملہ زیادہ تر ممکنہ خطرے، پانی کے بہاؤ اور انتظامی ہائی الرٹ کا ہے۔ بعض تازہ اطلاعات میں گنڈک بیراج سے اخراج میں کمی اور صورتحال میں عارضی بہتری کی بھی اطلاع ہے۔گنڈک بیراج اس پورے معاملے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نیپال سے آنے والے پانی کا ایک بڑا حصہ گنڈک کے راستے ہندوستان میں داخل ہوتا ہے اور بیراج کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو منظم کیا جاتا ہے۔اگر اوپر سے پانی کا بہاؤ اچانک بڑھ جائے تو بیراج اور اس سے منسلک نہری و دریائی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اسی لئے ہندوستانی حکام مسلسل پانی کی مقدار، دریا کی سطح اور بیراج سے اخراج کی نگرانی کررہے ہیں۔ تازہ رپورٹ میں ایک ہی رات میں گنڈک بیراج سے اخراج تقریباً  ۷۰؍ ہزار کیوسک کم ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے، جس سے فی الحال کچھ راحت ملی ہے۔

واضح رہے کہ  پانی کا اثر صرف دریا کے فوری کناروں تک محدود نہیں رہتا۔ اگر دریا کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو، بند یا حفاظتی پشتے کمزور ہوں یا پانی کا بہاؤ کئی معاون ندیوں کے ذریعے بڑھ جائے تو سیلابی پانی کئی کلومیٹر اندر تک پھیل سکتا ہے۔لیکن موجودہ نیپال فلیش فلڈ کے بارے میں ابھی کسی مستند سرکاری ذریعہ سے یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ سیلابی پانی اتنے یا اتنے کلومیٹر اندر بہار کی آبادی میں داخل ہوچکا ہے۔ اس لئے قیاس کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔البتہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ شمالی بہار کے لئے نیپال کے دریاؤں کا خطرہ معمولی نہیں۔ گنڈک کے علاوہ کوسی، باگمتی، کملا، بوڑھی گنڈک اور مہانندا جیسے دریائی نظام بھی نیپال کے پہاڑوں اور ترائی سے پانی لے کر بہار میں داخل ہوتے ہیں۔ اسی لئے شمالی بہار کی سیلابی صورت حال کو پورے ہمالیائی بارش کے نظام سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

دربھنگہ زیادہ تر باگمتی، کملا اور ادھوارہ گروپ کے دریاؤں کے نظام سے متاثر ہوتا ہے۔اس لئے راسووا اور گنڈک کی موجودہ صورتحال کا دربھنگہ پر اثر فوری اور براہ راست سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ تاہم اگر نیپال میں مسلسل شدید بارش ہوتی ہے اور ایک ہی وقت میں باگمتی، کملا، کوسی اور دوسری ندیوں میں بھی پانی بڑھتا ہے تو شمالی بہار کی مجموعی سیلابی صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔یہ فرق سمجھنا عوامی خوف کو کم کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔نیپال سے آنے والے پانی کا اثر صرف بہار تک محدود نہیں۔ مشرقی اترپردیش کے بعض علاقے بھی گنڈک اور اس سے وابستہ دریائی نظام کی وجہ سے حساس ہیں۔  تازہ اطلاعات میں اترپردیش اور بہار دونوں میں ہائی الرٹ کیا گیا ہے۔یہ پورا خطہ دراصل ایک مشترکہ جغرافیائی اکائی ہے۔ سیاسی سرحدیں الگ ہیں، لیکن دریا ایک ہی ہیں۔

مختصر یہ کہ نیپال کے راسووا سے شروع ہونے والی تباہی، بھوٹے کوشی اور تریشولی کے دریائی راستے سے آگے نارائنی اور پھر ہندوستان میں گنڈک کے نظام تک پہنچتی ہے۔ یہی جغرافیائی تسلسل بتاتا ہے کہ ہمالیہ، نیپال، اترپردیش اور بہار الگ الگ قدرتی دنیا نہیں بلکہ ایک ہی دریائی اور ماحولیاتی نظام کے حصے ہیں۔اس وقت بہار کو خوف نہیں بلکہ چوکسی کی ضرورت ہے۔

nepal bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK