Updated: September 15, 2026, 2:59 PM IST
| Los Angeles
امریکی ریپر میکلمور نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطین کے حق میں واضح مؤقف اختیار کرنے اور ’’فری فلسطین‘‘ کا نعرہ لگانے کے باعث انہیں ایڈ شیرن کے امریکی میوزک ٹور کی باقی ماندہ تقریبات سے ہٹا دیا گیا۔ میکلمور کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے اسٹیڈیم مالکان کا دباؤ تھا، جبکہ ٹور کے منتظمین نے بھی تصدیق کی ہے کہ بعض مقامات پر ان کی شمولیت کے ساتھ کنسرٹ کی اجازت نہ دینے کی بات سامنے آئی تھی۔ معاملے نے فنکاروں کی آزادیِ اظہار، فلسطین کی حمایت اور موسیقی کی صنعت پر تجارتی دباؤ سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
ایڈ شیرن اور میکلمور۔ تصویر: آئی این این
امریکی ریپر میکلمور نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطین کے حق میں اپنے واضح مؤقف اور غزہ و مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی حمایت میں دیے گئے بیانات کے باعث انہیں ایڈ شیرن کے امریکی دورۂ موسیقی کی باقی ماندہ تقریبات سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایڈ شیرن کو مداحوں اور فلسطین کے حامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کروڑوں ڈالر مالیت رکھنے والا کوئی فنکار بھی نسل کشی کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تو پھر کون لے گا؟ میکلمور، جن کا اصل نام بینجمن ہیگَرٹی ہے، رواں ماہ کے آغاز میں نیو جرسی میں ایڈ شیرن کے امریکی دورے کے دوران ان کیلئے بطور معاون فنکار پرفارم کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے فلسطینیوں کے حق میں بات کی اور ’’فری فلسطین‘‘ یعنی ’’فلسطین آزاد ہو‘‘ کا نعرہ بھی لگایا۔ انہوں نے فلسطینی پرچم کی تصویر بھی شیئر کی۔ ان بیانات کے بعد ان کی ایڈ شیرن کے دورے میں مزید پرفارمنس پر سوالات اٹھنے لگے۔ میکلمور نے انسٹاگرام پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایڈ شیرن نے انہیں بتایا کہ نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ نے ذاتی طور پر شیرن سے رابطہ کیا تھا۔ کرافٹ کی کمپنی کرافٹ گروپ میساچوسٹس کے جِلٹ اسٹیڈیم کی مالک ہے، جہاں ایڈ شیرن کے دورے کی ایک پرفارمنس بھی مقرر تھی۔ میکلمور کے مطابق کرافٹ نے شیرن کو بتایا کہ انہیں اس اسٹیڈیم میں پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
میکلمور نے مزید دعویٰ کیا کہ کرافٹ نے دوسرے اسٹیڈیم مالکان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور سب نے مل کر ایڈ شیرن کے سامنے ایک طرح کی شرط رکھ دی۔ ان کے مطابق شیرن کو کہا گیا کہ اگر میکلمور دورے کا حصہ رہے تو انہیں ان کے اسٹیڈیمز میں پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میکلمور نے کہا کہ اس صورت حال نے ایڈ شیرن کو ایک انتہائی مشکل پوزیشن میں ڈال دیا تھا، اسی لیے وہ انہیں ذاتی طور پر میکلمور کو دورے سے ہٹانے کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ میکلمور کے مطابق ایڈ شیرن نے انہیں بتایا کہ ’’فری فلسطین‘‘ کے الفاظ اور فلسطینی پرچم کی تصویر ان بہت سے لوگوں کیلئے تکلیف دہ تھی جن سے انہوں نے بات کی تھی۔ میکلمور نے جواب میں کہا کہ اگر یہ الفاظ اسرائیل کے ہاتھوں دسیوں ہزار فلسطینی بچوں کی ہلاکت سے زیادہ قابل اعتراض سمجھے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کے مؤقف اور ان کے اپنے مؤقف کے درمیان بنیادی اختلاف موجود ہے۔ میکلمور نے یہ بھی کہا کہ شیرن اپنے عوامی مؤقف، یعنی ’’میں کسی فریق کا ساتھ نہیں لیتا‘‘، سے آگے نہیں بڑھ سکے، اگرچہ وہ سمجھتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسا مؤقف اختیار کرنے سے کیوں گریز کرتے ہیں۔ فلسطین کے حق میں اپنے کھلے مؤقف کی وجہ سے میکلمور نے کہا کہ انہیں مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے پیسہ، برانڈ معاہدے، اسپانسرشپس، میوزک فیسٹیولز، نجی شوز، تعلقات اور کئی مواقع تک رسائی کھوئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ فلسطین کے معاملے پر اپنی آواز اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دوسری جانب ایڈ شیرن کے امریکی دورے کے منتظم میسینا ٹورنگ گروپ نے بھی تصدیق کی کہ انہیں دورے میں شامل مستقبل کے مقامات کی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہ ایسے کنسرٹ کی اجازت نہیں دیں گے جس کی فہرست میں میکلمور شامل ہوں۔ منتظمین کے مطابق اگر میکلمور کو دورے میں برقرار رکھا جاتا تو پورا دورہ منسوخ ہونے کا خدشہ تھا، جس سے لاکھوں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مداح متاثر ہوتے۔ مختلف متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ میکلمور دورے کی باقی ماندہ معاون پرفارمنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد ایڈ شیرن کو سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ متعدد مداحوں اور فلسطین کے حامی افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک عالمی شہرت یافتہ اور کروڑوں ڈالر مالیت رکھنے والا فنکار فلسطین میں جاری انسانی بحران اور مبینہ نسل کشی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے سے کیوں گریز کرے گا۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اگر ایک ایسے فنکار کیلئے بھی فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا ممکن نہیں جو مالی اور عالمی اثر و رسوخ رکھتا ہو، تو پھر عام فنکار یا شخص کس طرح کھل کر اس مسئلے پر بات کرے گا؟
اس معاملے نے موسیقی کی دنیا میں فنکاروں کی آزادیِ اظہار، سیاسی و انسانی حقوق کے معاملات پر ان کے مؤقف اور بڑے میوزک ٹورز کے تجارتی دباؤ سے متعلق بحث کو بھی دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ میکلمور کا کہنا ہے کہ ان کیلئے ’’فری فلسطین‘‘ کہنا محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی مؤقف ہے، جبکہ ان کے دورے سے اخراج نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ بڑے فنکار اپنے خیالات کے اظہار میں کس حد تک آزاد ہیں اور تجارتی مفادات ان کے فیصلوں کو کس حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک ایڈ شیرن یا رابرٹ کرافٹ کی جانب سے میکلمور کے ان مخصوص دعووں کی مکمل طور پر الگ اور تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم میکلمور کے بیان اور ٹور کے منتظمین کی جانب سے جاری وضاحت کے بعد یہ معاملہ عالمی موسیقی کی صنعت میں ایک اہم تنازع بن گیا ہے۔