• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس پر امریکی پابندیوں کے بل میں ہندوستان کا نام شامل کرنے کی تجویز، ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کا خطرہ

Updated: September 15, 2026, 12:11 PM IST | Washington

 روس کے خلاف مجوزہ امریکی پابندیوں کے بل کو حتمی شکل دینے سے قبل امریکی قانون سازوں نے اس میں متعدد ترامیم پیش کی ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 روس کے خلاف مجوزہ امریکی پابندیوں کے بل کو حتمی شکل دینے سے قبل امریکی قانون سازوں نے اس میں متعدد ترامیم پیش کی ہیں۔ ان میں ایک اہم ترمیم میں روس کے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں ہندوستان اور چین بھی شامل ہیں، کے نام قانون میں واضح طور پر درج کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ دوسری ترمیم میں بل کے اس حصے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو روس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی ایوانِ نمائندگان میں Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026 پر تیزی سے کام جاری ہے۔ امریکی سینیٹ اس بل کو گزشتہ ماہ ۸۶؍ کے مقابلے میں ۱۱؍ ووٹوں سے منظور کر چکا ہے۔ بل کا بنیادی مقصد روسی حکومت، اس کے توانائی کے شعبے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے نیٹ ورک پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ اس میں روسی تیل اور گیس خریدنے والے بعض ممالک کے خلاف بھی سخت تجارتی اقدامات کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:نائن الیون حملوں سے قبل بل کلنٹن اور بش کو مسلسل خبردار کیا گیا تھا: سی آئی اے

ہندوستان کے لیے کیا خطرہ ہے؟

مجوزہ قانون امریکی صدر کو روس سے بڑی مقدار میں توانائی خریدنے والے ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔ ہندوستان اور چین روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شمار ہوتے ہیں، اسی لیے نئی قانون سازی میں ہندوستان کو ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس وقت ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد نہیں ہوا ہے؛ یہ صرف مجوزہ قانون کے تحت ممکنہ اختیار ہے، جس کا استعمال صدر کے فیصلے اور قانون کی حتمی شکل پر منحصر ہوگا۔ 

ایک ترمیم ہندوستان کا نام واضح کرنا چاہتی ہے

امریکی قانون سازوں کی جانب سے پیش کی گئی ایک ترمیم میں روس کے اہم تجارتی شراکت داروں کے نام قانون کے متن میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ روسی توانائی کی تجارت جاری رکھنے والے بڑے ممالک کن ممکنہ تجارتی پابندیوں کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ ہندوستان کا نام اس فہرست میں شامل ہونا نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے جاری تجارتی مذاکرات کے لیے بھی اہم معاملہ بن سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اے آئی انسانوں کے کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی بے معنی ہے: مائیکروسافٹ سربراہ نڈیلا

دوسری ترمیم ٹیرف شق ختم کرنا چاہتی ہے

اس کے برعکس ایک دوسری اہم ترمیم بل میں موجود اس شق کو ہی ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو روس کے تجارتی شراکت داروں پر وسیع پیمانے پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اس ترمیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ صدر کو اس طرح کے وسیع اختیارات دینے سے امریکی درآمد کنندگان، کاروباری اداروں اور عام صارفین پر بھی اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ امریکی کاروباری تنظیموں نے بھی قانون سازوں سے ٹیرف کی شق پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔ 

ہندوستان، روس تعلقات اور امریکی دباؤ

ہندوستان روس سے بڑی مقدار میں خام تیل خریدتا ہے اور نئی دہلی کا مؤقف رہا ہے کہ توانائی کی ضروریات اور قومی مفاد کے پیش نظر اسے مختلف عالمی ذرائع سے تیل خریدنے کا حق حاصل ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور توانائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی ہے۔ ہندوستان اور روس نے دوطرفہ تجارت کو ۲۰۳۰ء تک تقریباً ۷۰؍ارب ڈالر سے بڑھا کر ۱۰۰؍ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی رکھا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسپتالوں میں قبل ازوقت پیدائش کا بحران، انکیوبیٹر کم پڑگئے

اب آگے کیا ہوگا؟

اب اصل توجہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں اس بل اور پیش کردہ ترامیم پر ہونے والی کارروائی پر ہے۔ اگر ٹیرف سے متعلق شق برقرار رہتی ہے تو روسی توانائی کے بڑے خریداروں، خصوصاً ہندوستان اور چین، کے لیے امریکی مارکیٹ میں اضافی تجارتی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب اگر ٹیرف والی شق حذف کر دی جاتی ہے تو ہندوستان پر براہِ راست اس اضافی ٹیرف کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جائے گا۔

یوں روسی تیل کی خریداری کا معاملہ اب صرف ہندوستان-روس توانائی تجارت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ہندوستان-امریکہ تجارتی تعلقات، امریکی پابندیوں کی پالیسی اور عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ امریکی کانگریس میں ترامیم پر ہونے والی بحث اس بات کا تعین کرے گی کہ ہندوستان کو ممکنہ ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا یا بل میں موجود یہ متنازع شق ہی ختم کر دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK