فلسطین کے حق میں میکلمور کے بیانات پر تنقید کے بعد گلوکارہ کو ردعمل کا سامنا؛ پنک کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے مستقبل اور انسانی وقار کی حمایت کرتی ہیں، مگر یہود دشمنی پر بھی تشویش ہے۔
EPAPER
Updated: September 15, 2026, 1:03 PM IST | Washington
فلسطین کے حق میں میکلمور کے بیانات پر تنقید کے بعد گلوکارہ کو ردعمل کا سامنا؛ پنک کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے مستقبل اور انسانی وقار کی حمایت کرتی ہیں، مگر یہود دشمنی پر بھی تشویش ہے۔
امریکی گلوکارہ پنک نے فلسطین کے حق میں معروف ریپر میکلمور کے سیاسی بیانات پر اپنی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ردعمل ’’اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانے‘‘ کی کوشش تھا۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب میکلمور نے ایڈ شیرن کے ساتھ نیو جرسی میں ہونے والی پرفارمنس کے دوران فلسطین کی حمایت میں سیاسی پیغامات دیے اور پنک نے سوشل میڈیا پر ان پر تنقید کی۔
پنک، جو یہودی ہیں، نے وضاحت کی کہ ان کا اعتراض ’’آزاد فلسطین‘‘ کے مطالبے پر نہیں تھا۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام بھی مستقبل، آزادی اور انسانی وقار کے مستحق ہیں، تاہم انہیں خدشہ تھا کہ میکلمور کے سیاسی پیغامات کا اثر وہاں موجود یہودی مداحوں پر پڑ رہا تھا۔
گلوکارہ نے کہا کہ وہ میکلمور کو خاموش کرانے یا ایڈ شیرن کے دورے سے ہٹانے کی حمایت نہیں کرتیں۔ ان کا یہ مؤقف اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں میکلمور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پنک نے کہا کہ ان کے سابقہ ردعمل اور موجودہ وضاحت کے درمیان فرق اس بات سے متعلق ہے کہ کسی فنکار کے سیاسی اظہار اور کسی گروہ کو نشانہ بنانے کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے۔
پنک نے اپنے بیان میں فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے مستقبل کی حمایت کرتی ہیں جس میں فلسطینی عوام کو انسانی وقار حاصل ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے یہود دشمنی کے خلاف تشویش ظاہر کی اور حماس کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دیا۔
میکلمور گزشتہ کچھ عرصے سے غزہ جنگ اور فلسطین کے معاملے پر اپنی کھلی حمایت کے باعث موسیقی کی دنیا میں نمایاں آواز بنے ہوئے ہیں۔ ان کا گانا “Hind’s Hall” فلسطینیوں کے حق میں احتجاج اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف ایک نمایاں ثقافتی بیان بن گیا تھا۔ اس گانے میں انہوں نے غزہ میں ہلاک ہونے والی ۶؍ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کا حوالہ دیا تھا۔
میکلمور نے بعد میں بھی فلسطین کے حق میں اپنے مؤقف کو برقرار رکھا اور کہا کہ فنکاروں کو سیاسی اور انسانی مسائل پر بات کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مؤقف کو فلسطینی حامی حلقوں کی جانب سے پذیرائی ملی، جبکہ اسرائیل نواز اور بعض یہودی تنظیموں نے ان کی زبان اور اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی کے تناظر میں دیکھا ہے۔ میکلمور نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔
پنک کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی تنقید کا مرکز فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کا بنیادی حق نہیں بلکہ اس کے اظہار کے طریقے اور اس کے ممکنہ اثرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو میکلمور کو خاموش کرانے کی کوشش کررہی ہیں اور نہ ہی فلسطینیوں کے حقوق سے انکار کررہی ہیں، بلکہ اپنے خدشات بیان کررہی ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ نے امریکی موسیقی اور تفریحی صنعت میں بھی گہری تقسیم پیدا کردی ہے۔ متعدد فنکار فلسطینیوں کے حق میں کھل کر بول رہے ہیں، جبکہ بعض یہودی فنکار اور تنظیمیں ایسے بیانات پر یہود دشمنی کے خدشات ظاہر کررہی ہیں۔ اس بحث میں فلسطینیوں کے حقوق، اسرائیل کی پالیسیوں، حماس، یہود دشمنی اور فنکاروں کی آزادی اظہار جیسے مختلف موضوعات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔