مدھیہ پردیش:حالیہ فسادات کےمقدموں میں مسلمانوں کی پیروی کیلئےقانونی ٹیم کی تشکیل

Updated: May 16, 2022, 10:32 AM IST | Agency | Indore

اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سو ِل رائٹس نےقانونی معاملات میں  بے قصور افراد پر قائم کئے گئے مقدموں کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی پر بھی غوروخوض کیا

A number of important decisions were taken at the APCR meeting held in Indore on Friday..Picture:INN
جمعہ کو اندور میں ہونے والے اے پی سی آر کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے ہوئے۔ ۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش میں حالیہ دنوں  میں ہونےوالے مسلم مخالف فسادات   میں  ماخوذ کئے گئے بے قصور افراد پیروی اوران کے مقدمات لڑنےکیلئے سماجی کارکنان، وکلاء اور فکرمند شہریوں نے  متحد ہوکر ایک لیگل ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کو ہونےو الی میٹنگ میں  صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بھی غور وخوض کیاگیا۔ 
ہر شہر کیلئے ایک لیگل ٹیم
 کلیریون  انڈیا ڈاٹ نیٹ  میں وقار حسن  نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس سلسلے میں  ایک مشاورتی میٹنگ کا انعقاد جمعہ کواسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سو ِل رائٹس (اے پی سی آر) کے بینر تلے  ہوا۔ میٹنگ  میں وکیلوں کی ایک ٹیم کے ساتھ  دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند، اے پی سی آر کے سیکریٹری ندیم خان اور سماجی کارکن آصف مجتبیٰ  سمیت متعدد شخصیات شریک تھیں۔ ندیم خان  نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’’ہم نے کچھ بنیادی چیزیں طے کی ہیں۔  ہر شہر کیلئے ایک لیگل ٹیم قائم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیاگیاہے کہ بے قصور افراد  پر قائم کئے گئے مقدموںکو کس طرح چیلنج کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی ایک ٹیم ضلعی عدالتوں کے مقدمات کو ہائی کورٹ میں دیکھنےکیلئے بھی بنا دی گئی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ مدھیہ پردیش میں رام نومی اور ہنومان چالیسا کی ریلیوں   کے دوران اشتعال انگیزی  کا مظاہرہ کرتے ہوئے   پہلے فرقہ وارانہ  تصادم کی راہ ہموار کی گئی ا ورپھر تصادم کے بعد مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ان کے گھروں پر بلڈوزر چلادیئے گئے۔
انہدام کرنے والےافسران کیخلاف مقدمہ
 اس معاملے میں متعدد پٹیشن ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ہیں۔ جمعہ کی میٹنگ میں مذکورہ پٹیشنوں کو از سر نوداخل کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کیاگیا کہ جن افسران   نے کسی پیشگی نوٹس کے بغیر  مکانات منہدم کئے ، کیاان کےخلاف کیس درج کرایا جا سکتا ہے؟انہیں  انہدام کے خلاف داخل کئے گئے مقدموں  میں  فریق بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ندیم خان نے بتایاکہ انہدامی کارروائی کے خلاف پہلے ہی ۴؍ پٹیشن داخل کی جاچکی ہیں۔ ان میں سے ایک پٹیشن ۳؍ متاثرین کی طرف سے سپریم کورٹ میں بھی داخل کی گئی ہے جبکہ مزید مقدموں کے امکانات پر غور کیا جارہاہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK