راؤز ایوینیو کورٹ کے فیصلے کے خلاف سی بی آئی کی ہائی کورٹ میںعرضی پرسماعت، تفتیشی ایجنسی کا نچلی عدالت پر شواہد کو نظر انداز کرنے کا الزام۔
اروند کیجریوال اور منیش سیسودیا-تصویر:آئی این این
دہلی ہائی کورٹ میں بدنام زمانہ شراب گھوٹالہ معاملے میں پیر کو سی بی آئی کی عرضی پر سماعت ہوئی جس میں ایجنسی نے گھوٹالے کے الزامات سےسابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سیسودیا کو راؤز ایوینیوکورٹ کے ذریعے بری کئےجانے کو چیلنج کیا تھا ۔ راؤز ایوینیو کورٹ نے مذکورہ دونوں لیڈروں کے علاوہ دیگر ۲۱؍ملزمین کو بری کردیاتھا ۔ سی بی آئی کی اپیل پر اب ہائی کورٹ نے ملزمین کو نوٹس دے کر جواب طلب کیا ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سی بی آئی کی طرف سے دلیل دی۔اس دوران دہلی ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق کیس کی سماعت سے بھی روک دیا ہے۔اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے عدالت کے ذریعے سی بی آئی افسروں پر کئے گئے تبصروںپر بھی روک لگا دی ہے۔
ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ اس عرضی پر کوئی فیصلہ ہونے تک وہ ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ روک تھام قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت چل رہے معاملے کی مزید سماعت نہ کرے ۔ ہائی کورٹ نے ان تمام ملزمین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے جنہیں اس معاملے میں بری کیا گیا تھا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت۱۶؍مارچ کو ہوگی۔
سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے عرضی قبول کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے سب سے بڑے گھپلوں میں سے ایک ہے اور باعث شرم ہے۔ایس جی تشار مہتا نے ہائی کورٹ میں کہا کہ یہ معاملہ خالصتاً بدعنوانی کا ہے اور ملزمین کے ذریعہ کل۱۷۰؍ فون تباہ کئے گئے ہیں۔ کورونا وبا کے دوران جب پورا ملک لاک ڈاؤن میں تھا اور سفر پر مکمل پابندی تھی، اس وقت رشوت لینے اوردینے کے لیے پرائیویٹ جیٹ تک کا استعمال کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ کے حکم میں منظوری دینے والے دنیش اروڑہ کے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ دنیش اروڑہ اس کیس میں کلیدی گواہ ہیں اور انہوں نے بتایا کہ میٹنگوں میں کیا ہوا تھا۔ دنیش اروڑہ کے بیانات کو الزامات طے کرنے کے مرحلے پر قبول کیا جانا چاہیے۔
سی بی آئی نے اپنی ۹۷۴؍ صفحات کی عرضی میں نچلی عدالت کے فیصلے کو چونکانے والا اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اہم شواہد کو نظر انداز کیا اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق پر صحیح طریقے سے غور نہیں کیا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایکسائز پالیسی کے ذریعے کچھ نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی سازش کا واضح معاملہ تھا لیکن نچلی عدالت نے اسے نظر انداز کر دیا۔واضح رہےکہ یہ کیس۲۲-۲۰۲۱ء کی دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق ہے جسے عام آدمی پارٹی حکومت نے نافذ کیا تھا لیکن بدعنوانی، رشوت خوری اور کارٹیلائزیشن کے الزامات کے درمیان جولائی ۲۰۲۲ء میں اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ پالیسی سےجان بوجھ کر شراب کی تجارت میں کچھ لوگوں اجارہ داری ملی اور کروڑوں روپے کی رشوت کا تبادلہ کیا گیا۔۲۷؍ فروری۲۰۲۶ء کو خصوصی جج جتیندر سنگھ کی عدالت نے ۵۹۸؍صفحات کے حکم میں تمام۲۳؍ ملزمین کو بری کر دیا تھا۔