• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کووڈ ۱۹؍ کے بعد طلاق کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے: مدراس ہائی کورٹ

Updated: October 17, 2026, 6:37 PM IST | Chennai

مدراس ہائی کورٹ نے کووڈ ۱۹؍ کی عالمی وبا کے دوران شادی کرنے والے جوڑوں کے ازدواجی تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت کے مطابق، گزشتہ ۳؍ ماہ کے دوران اس کے سامنے آنے والے ۹۵؍ فیصد سے زائد ازدواجی تنازعات ایسے جوڑوں سے متعلق تھے جن کی شادیاں وبا کے دوران یا اس کے آس پاس ہوئی تھیں۔ عدالت نے ان معاملات کو الگ زمرے میں دیکھنے، ریاست بھر سے اعداد و شمار جمع کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے نئے طریقے تلاش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

Madras High Court. Image: INN
مدراس ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

مدراس ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایک سول رویژن پٹیشن کی سماعت کے دوران مشاہدہ کیا کہ کووڈ ۱۹؍ کی عالمی وبا اور اس کے نتیجے میں نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن نے ازدواجی تعلقات کو متاثر کیا۔ جسٹس این آنند وینکٹیش نے کہا کہ گزشتہ ۳؍ ماہ کے دوران ان کے سامنے آنے والے ۹۵؍ فیصد سے زائد ازدواجی تنازعات ایسے جوڑوں سے متعلق تھے جن کی شادیاں ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان ہوئی تھیں۔ عدالت کے مشاہدے کے مطابق، ان میں بیشتر جوڑے شادی کے بعد صرف ۶؍ سے ۹؍ ماہ تک ساتھ رہ سکے۔ عدالت نے کہا کہ وبا کے دوران ایک ہی گھر میں طویل عرصے تک رہنے، مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال اور غیر معمولی ذہنی دباؤ نے جوڑوں کے تعلقات کو متاثر کیا۔ مسلسل ساتھ رہنے کے دوران ایک دوسرے کی شخصیت اور مزاج کے مثبت اور منفی پہلو زیادہ نمایاں ہوئے، جبکہ معاشی مشکلات اور مستقبل کے خدشات نے بھی ازدواجی زندگی پر اثر ڈالا۔

یہ بھی پڑھئے: بہار: تین طلاق مخالف قانون کے تحت پہلی سزا، ملزم کو دو سال قید

جسٹس وینکٹیش نے ان تنازعات کو ایک الگ زمرے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے حل کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئے اور اختراعی راستے تلاش کیے جانے چاہئیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں تمل ناڈو کے تمام پرنسپل ڈسٹرکٹ ججوں کو ہدایت دی کہ وہ ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان ہونے والی شادیوں سے متعلق فیملی کورٹس اور دیگر متعلقہ عدالتوں میں زیرِ التوا ازدواجی تنازعات کے اعداد و شمار جمع کریں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ یہ تفصیلات ۲۷؍ نومبر کو ہونے والی اگلی سماعت سے قبل پیش کی جائیں۔ اس کے بعد اعداد و شمار کا جائزہ لے کر ان مقدمات کو باہمی رضامندی اور مصالحت کے ذریعے حل کرنے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اس عمل میں فیملی کورٹس کے وکلا کی مدد بھی لی جاسکتی ہے، تاکہ ایسے جوڑوں کے لیے مؤثر اور عملی حل تلاش کیے جاسکیں۔یہ مشاہدات ایک ایسے مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آئے جس میں ایک شخص نے ماتحت عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت اسے اپنی علیحدہ رہنے والی بیوی کو ماہانہ ۱۰؍ ہزار روپے عبوری نان و نفقہ ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ماتحت عدالت نے ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۵ء کی دفعہ ۲۴؍ کے تحت بیوی کی درخواست پر یہ رقم مقرر کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: احمد آباد: گربا پروگرام سے مسلمانوں کو نکل جانے کا حکم؛ گلوکار آدتیہ گڑھوی نے خود کو اس سے الگ کرلیا

ہائی کورٹ نے نان و نفقہ کی مقررہ رقم میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے شوہر کو بقایا رقم ۴؍ ہفتوں کے اندر ادا کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم، جسٹس وینکٹیش نے اس انفرادی مقدمے کے دوران کووڈ کے زمانے میں ہونے والی شادیوں سے متعلق وسیع تر ازدواجی تنازعات پر بھی توجہ دی اور ریاست بھر سے معلومات جمع کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کی جانب سے طلب کردہ اعداد و شمار سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ وبا کے دوران شادی کرنے والے جوڑوں کے ازدواجی تنازعات کی نوعیت کیا ہے، ان مقدمات میں علیحدگی کے اسباب کیا رہے اور مصالحت کے ذریعے کتنے معاملات حل کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم، عدالت کے سامنے گزشتہ ۳؍ ماہ میں آنے والے مقدمات میں ۹۵؍ فیصد سے زائد کا تناسب ریاست بھر میں طلاق کی شرح یا ازدواجی تنازعات میں مجموعی اضافے کا حتمی ثبوت نہیں ہے۔ اس کے لیے تمل ناڈو کے ریاستی سطح کے اعداد و شمار اور مزید تجزیے کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK