Updated: November 05, 2026, 4:19 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ مادھوری دکشٹ نے ۱۹۹۰ء کی دہائی کے فلمی دور اور آج کے سوشل میڈیا کے ماحول کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس زمانے میں بھی اداکاروں اور فلمی شخصیات کے بارے میں رسائل اور اخبارات میں تبصرے شائع ہوتے تھے، لیکن موجودہ دور جیسی شدید آن لائن ٹرولنگ اور تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔
مادھوری دکشت۔تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ مادھوری دکشٹ نے ۱۹۹۰ء کی دہائی کے فلمی دور اور آج کے سوشل میڈیا کے ماحول کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس زمانے میں بھی اداکاروں اور فلمی شخصیات کے بارے میں رسائل اور اخبارات میں تبصرے شائع ہوتے تھے، لیکن موجودہ دور جیسی شدید آن لائن ٹرولنگ اور تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ ذرائع ابلاغ اور لوگوں کے اظہارِ خیال کے طریقوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے، جس نے فلمی ستاروں کی نجی اور پیشہ ورانہ زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔
مادھوری دکشٹ کا شمار ہندی سنیما کی ان مقبول اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ۱۹۸۰ء اور ۱۹۹۰ء کی دہائی میں اپنی اداکاری، رقص اور دلکش شخصیت کے ذریعے فلمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس دور میں فلمی رسائل اداکاروں کی زندگی، ان کے تعلقات، لباس، فلموں اور ذاتی معاملات پر تبصرے کیا کرتے تھے۔ فلمی ستاروں کے بارے میں خبریں اور افواہیں بھی شائع ہوتی تھیں، تاہم ان کا دائرہ زیادہ تر رسائل، اخبارات اور ٹیلی ویژن تک محدود تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’کنگ‘‘ کے گیت ’’تو مل جائے‘‘ کیلئے ایڈ شیرن کے سامنے صرف ایک شرط رکھی گئی تھی
اداکارہ کے مطابق آج صورتحال پہلے سے مختلف ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مقبولیت نے ہر شخص کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ کسی فلم، اداکار کے بیان، لباس یا ذاتی زندگی سے متعلق معمولی بات بھی چند لمحوں میں بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فنکاروں کو نہ صرف مثبت ردعمل بلکہ سخت تنقید، منفی تبصروں اور ٹرولنگ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مادھوری دکشٹ کے اس تبصرے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ۹۰ء کی دہائی اور موجودہ دور میں شہرت اور عوامی مقبولیت کے اظہار کا انداز کس طرح تبدیل ہوا ہے۔ پہلے کسی اداکار کے بارے میں شائع ہونے والے تبصرے مخصوص رسائل اور اخبارات کے قارئین تک پہنچتے تھے، لیکن اب سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی بھی تبصرہ عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔ اس تبدیلی نے فلمی شخصیات کے لیے اپنی شبیہ اور عوامی مقبولیت کو برقرار رکھنا پہلے سے زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔
مادھوری دکشٹ نے اپنے طویل فلمی سفر میں متعدد کامیاب فلموں کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ’’تیزاب‘‘،’ ’رام لکھن‘‘،’ ’دل‘‘،’’بیٹا‘‘، ’’ہم آپ کے ہیں کون‘‘،’ ’دل تو پاگل ہے‘‘ اور’’دیوداس‘‘ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا۔ وہ اپنی بہترین رقص کی صلاحیت اور منفرد اداکاری کے لیے بھی مشہور ہیں۔ انہیں کئی فلمی اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی سی سی رینکنگ: مچل اسٹارک پھر ٹیسٹ کرکٹ کے نمبر ایک گیند باز بن گئے
اداکارہ آج بھی فلموں، ٹیلی ویژن اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں۔ ان کے تجربات اور پرانے دور سے متعلق یادیں نہ صرف بالی ووڈ کی بدلتی ہوئی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ وقت کے ساتھ فلمی ستاروں کی زندگی، میڈیا کی توجہ اور عوامی ردعمل کی نوعیت کس قدر تبدیل ہوچکی ہے۔ مادھوری کا یہ بیان موجودہ دور میں سوشل میڈیا ٹرولنگ اور فنکاروں پر اس کے اثرات کے حوالے سے ایک اہم بحث کو بھی اجاگر کرتا ہے۔