• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی مانگ سے فائبر آپٹک کی صنعت میں ہلچل

Updated: November 05, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی توسیع سے آپٹیکل فائبر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ، سپلائی میں کمی اور ترسیل کا وقت دوگنا، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اربوں ڈالر کے معاہدوں کے ذریعے رسد یقینی بنانے میں مصروف۔

Fibre Cable.Photo;INN
فائبرکیبل۔ تصویر:آٓئی این این

 مصنوعی ذہانت  کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی صنعتی دوڑ شروع کردی ہے۔ اب تک اے آئی کے شعبے میں زیادہ تر توجہ جدید چپس، طاقتور پروسیسرز اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر مرکوز تھی، لیکن اب ایک اور اہم شعبہ تیزی سے نمایاں ہورہا ہے اور وہ ہے آپٹیکل فائبر (Optical Fiber)۔ اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے لاکھوں سرورز اور ہزاروں طاقتور پروسیسرز کے درمیان انتہائی تیز رفتاری سے معلومات کی منتقلی ضروری ہوتی ہے۔ اس کام میں فائبر آپٹک کیبلز بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے ساتھ فائبر کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے اور اس کی تیاری کرنے والی کمپنیاں پیداوار بڑھانے کے لیے تیزی سے سرمایہ کاری کررہی ہیں۔
فائبر آپٹک کیبلز باریک شیشے یا دیگر مخصوص مواد سے تیار کی جاتی ہیں، جن کے ذریعے روشنی کی مدد سے ڈیٹا ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کیا جاتا ہے۔ روایتی انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلات کے نظام میں بھی ان کا استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے جدید نظاموں نے ان کی اہمیت کئی گنا بڑھا دی ہے۔ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے اور صارفین کے سوالات کے جواب دینے کے لیے بڑی تعداد میں جی پی یواور سرورز ایک دوسرے سے منسلک رہتے ہیں۔ ان کے درمیان جتنی زیادہ اور تیز رفتار فائبر کنکٹیویٹی ہوگی، اتنی ہی تیزی سے معلومات کی منتقلی ممکن ہوگی اور اے آئی نظام بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر ڈیٹا سینٹرز میں مناسب مقدار میں فائبر دستیاب نہ ہو تو سرورز اور پروسیسرز کے درمیان رابطے میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ اس سے اے آئی چیٹ بوٹس کی رفتار متاثر ہونے، صارفین کو انتظار کرنا پڑنے اور بعض اوقات سروس میں خرابی آنے کا خدشہ ہے۔ مستقبل میں فائبر کی قلت اے آئی خدمات کی لاگت بڑھانے اور اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کی رفتار سست کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رنبیر کپور اور یش کی’’رامائن‘‘ ایڈوانس بکنگ میں ’’چنئی ایکسپریس‘ سے بھی پیچھے

بڑھتی ہوئی طلب نے فائبر آپٹک کی سپلائی چین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق فائبر کے آرڈرز کی فراہمی میں لگنے والا وقت تقریباً تین سال پہلے کے مقابلے میں دُگنا ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ صرف فائبر کی تیاری نہیں بلکہ کنیکٹرز کی دستیابی، کیبلز کی جانچ، تنصیب کے لیے درکار افرادی قوت اور زمین میں کیبل بچھانے کے کام میں بھی مشکلات ہیں۔ اس صورتحال کا اثر صرف اے آئی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ گھروں، دفاتر، صنعتی اداروں اور عام براڈبینڈ انٹرنیٹ صارفین کے لیے فائبر کی دستیابی بھی متاثر ہوسکتی ہے چونکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے بڑی مقدار میں فائبر حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں، اس لیے چھوٹی ٹیلی کام اور براڈبینڈ کمپنیوں کو بھی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔امریکی کمپنی Corning اس بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کررہی ہے۔ کمپنی نے امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں اپنی مینوفیکچرنگ سہولتوں کو وسعت دینے کے لیے ۵۸۵؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔ کورننگ نے رواں سال بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں امیزون، میٹا اور این ویڈیا کے ساتھ فائبر اور کیبلز کی فراہمی کے لیے طویل مدتی معاہدے بھی کیے ہیں۔
کمپنی کے آپٹیکل کمیونی کیشنز ڈویژن کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر ۴۴؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا، جبکہ جنریٹو اے آئی سے متعلق مصنوعات کی فروخت دوگنی سے زیادہ ہوگئی۔ کمپنی کے مطابق اس کے صارفین بڑی تعداد میں جی پی یو کو ایک دوسرے سے جوڑ رہے ہیں، جس کے لیے محدود جگہ میں زیادہ فائبر اور کنکشنز کی ضرورت پڑ رہی ہے۔کورننگ صرف پیداوار بڑھانے پر توجہ نہیں دے رہی بلکہ فائبر کی ساخت اور کارکردگی میں بھی جدت لارہی ہے۔ کمپنی نے نسبتاً کم قطر والے فائبر اور زیادہ گنجائش کی حامل کیبلز تیار کی ہیں، جن کے ذریعے ایک ہی جگہ میں زیادہ کنکشنز فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ کمپنی کی ایک نئی ٹیکنالوجی میں فائبر کے بیرونی حصے کا رقبہ تقریباً ۴۰؍ فیصد کم کیا گیا ہے، جبکہ اسے روایتی فائبر کے مقابلے میں کہیں زیادہ محدود جگہ میں موڑنا ممکن ہے۔ اسی پیش رفت کی بنیاد پر کمپنی نے ’Contour Flow Cable‘ بھی متعارف کرائی ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کے لیے اہم ہے جہاں ہزاروں سرورز اور پروسیسرز کو محدود جگہ میں ایک دوسرے سے منسلک کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ گنجائش والی کیبلز سے نہ صرف جگہ کی بچت ہوتی ہے بلکہ نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
 فائبر آپٹک کی صنعت میں نئی کمپنیاں بھی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی کوشش کررہی ہیں۔ امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی Relativity Networks نے ’ChronoCore‘ نامی ہولو کور فائبر (Hollow-Core Fiber) تیار کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں روایتی شیشے کے بجائے کھوکھلی ساخت استعمال کی جاتی ہے، جس کے ذریعے روشنی کے سگنلز کو تقریباً ۹۹ء۷؍ فیصد رفتار سے منتقل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں روایتی شیشے کے فائبر میں روشنی کی رفتار، خلا میں روشنی کی رفتار کے تقریباً دو تہائی کے برابر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو کا پرتگال کی قومی فٹ بال ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے ذریعے مختلف مقامات پر قائم ڈیٹا سینٹرز کو زیادہ تیزی سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ Relativity Networks نے فائبر کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے دنیا کی بڑی کیبل ساز کمپنیوں میں شامل Prysmian کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے۔ کمپنی کو ایک بڑے کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹر صارف سے ۴۰؍ ملین ڈالر کا آرڈر ملنے کی اطلاع بھی ہے۔ اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی بڑی کمپنیاں اب صرف چپس اور سرورز کی خریداری تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ فائبر کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھی طویل مدتی معاہدے کررہی ہیں۔ ان معاہدوں کے ذریعے کمپنیاں آنے والے برسوں کے لیے اپنی ضرورت کے مطابق فائبر اور کیبلز کی فراہمی محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ صنعت کے ماہرین کے مطابق اب ایسی مصنوعات کے لیے بھی کئی برسوں پر مشتمل اربوں ڈالر کے معاہدے کیے جارہے ہیں جنہیں کچھ عرصہ پہلے عام صنعتی اشیا سمجھا جاتا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی رفتار کسی مرحلے پر کم ہوسکتی ہے، لیکن اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈجیٹل خدمات کی توسیع کے باعث آپٹیکل فائبر کی طلب طویل عرصے تک مضبوط رہنے کا امکان ہے۔ اس طرح مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں فائبر آپٹک کا شعبہ بھی ایک اہم سرمایہ کاری اور کاروباری موقع بن کر ابھر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK