• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیا: سینیٹر فاروقی کی نسلی توہین کے فیصلے کے خلاف پولین ہینسن کی اپیل پر ہائی کورٹ سماعت کریگی

Updated: November 05, 2026, 9:06 PM IST | Canberra

اب ہائی کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا ہینسن کے تبصروں نے نسلی امتیازی سلوک کے قانون (Racial Discrimination Act) کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت اس بات پر بھی غور کرے گی کہ کیا فیڈرل کورٹ کے فیصلے نے ان کی سیاسی رابطے کی مضمر آزادی (implied freedom of political communication) میں مداخلت کی ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 18C کسی شخص کی نسل، رنگ، یا قومی یا نسلی بنیاد کی وجہ سے اسے ناراض کرنے، اس کی توہین کرنے، اسے ذلیل کرنے یا خوفزدہ کرنے کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

Picture: X
تصویر: ایکس

آسٹریلیا کی ایک ہائی کورٹ نے ’ون نیشن‘ پارٹی کی لیڈر پولین ہینسن کی اس فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس میں انہیں گرینز سینیٹر مہرین فاروقی کی نسلی توہین کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے جمعرات کے روز انہیں اپیل دائر کرنے کی خصوصی اجازت (special leave to appeal) دے دی ہے۔ 

یہ تنازع ستمبر ۲۰۲۲ء میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد شروع ہوا تھا۔ فاروقی نے ٹویٹ کیا کہ وہ مقبوضہ اور محکوم اقوام کی چھینی گئی جانوں، زمینوں اور دولت پر قائم ”نسل پرست سلطنت“ کی سربراہ کا سوگ نہیں منا سکتیں۔ ہینسن نے جواباً فاروقی سے کہا کہ وہ ”اپنا بوریا بستر باندھیں اور واپس پاکستان چلی جائیں“ (pack your bags and piss off back to Pakistan)۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فاروقی نے ہجرت کے بعد آسٹریلیا سے ہر ممکن فائدہ اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا کسی بھی قیمت پر دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا عزم

نومبر ۲۰۲۴ء میں، جسٹس اینگس اسٹیورٹ نے فیصلہ دیا کہ ہینسن کا ٹویٹ غیر قانونی تھا کیونکہ اس نے فاروقی کو ایسے ”درجہ دوم کی شہری“ کے طور پر پیش کیا جسے شکر گزار ہونا چاہئے اور خاموش رہنا چاہئے۔ انہوں نے ”واپس چلے جاؤ“ کے جملے کو ایک نسل پرستانہ فرسودہ خیال (racist trope) اور نسل پرستی کی ایک شدید شکل قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہینسن کی مقبولیت نے ممکنہ طور پر دیگر افراد کو بھی ایسے ہی یا اس سے بدتر تبصرے کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے منصفانہ تبصرے (fair comment) کے ان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اس ٹویٹ کو غصے پر مبنی، ذاتی حملہ قرار دیا۔ رواں سال جولائی میں، فیڈرل کورٹ کے تین ججوں، میلیسا پیری، جیفری کینیٹ اور الزبتھ بینیٹ نے متفقہ طور پر اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھئے: نائب صدر ٹرمپ کے ناراض حامیوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کے خواہاں: رپورٹ

ہائی کورٹ کس بات کا جائزہ لے گی؟

اب ہائی کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا ہینسن کے تبصروں نے نسلی امتیازی سلوک کے قانون (Racial Discrimination Act) کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت اس بات پر بھی غور کرے گی کہ کیا فیڈرل کورٹ کے فیصلے نے ان کی سیاسی رابطے کی مضمر آزادی (implied freedom of political communication) میں مداخلت کی ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 18C کسی شخص کی نسل، رنگ، یا قومی یا نسلی بنیاد کی وجہ سے اسے ناراض کرنے، اس کی توہین کرنے، اسے ذلیل کرنے یا خوفزدہ کرنے کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

اس پیش رفت پر ۷۲ سالہ ہینسن نے بیان دیا کہ یہ مقدمہ ”مجھ سے اور ایک ٹویٹ سے کہیں بڑا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی شہریوں کو خوفزدہ ہو کر خاموش رہنے کے بجائے اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی ہونی چاہئے۔ دوسری طرف، فاروقی نے ”لے آؤ، میں تیار ہوں“ (Bring it on) کہہ کر ردِعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ ترین عدالت اب ایک بار اور ہمیشہ کیلئے یہ طے کر سکتی ہے کہ آسٹریلیا میں لوگ نسل پرستی کے خلاف محفوظ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر سفید فام افراد، تارکینِ وطن اور مسلمان محفوظ محسوس کرنے کے حقدار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: کرنسی کی دوبارہ تزئین کاری، ۱۰؍ روپئے کے نوٹ کی سکوں میں تبدیلی

اٹارنی جنرل مشیل رولینڈ کے ترجمان نے کہا کہ دفعہ 18C سماجی ہم آہنگی کیلئے پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چونکہ معاملہ عدالت کے روبرو ہے، اس لئے مزید تبصرہ کرنا نامناسب ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK