۲۹؍ میں سے ۱۳؍ میونسپل کارپوریشنوں میں پارٹی کی قابل ذکر کارکردگی ۔ اورنگ آباد۳۳،مالیگاؤں۲۱؍اورناندیڑ۱۴؍سیٹوں کے ساتھ سرفہرست
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 8:30 AM IST | Z A khan | Nanded
۲۹؍ میں سے ۱۳؍ میونسپل کارپوریشنوں میں پارٹی کی قابل ذکر کارکردگی ۔ اورنگ آباد۳۳،مالیگاؤں۲۱؍اورناندیڑ۱۴؍سیٹوں کے ساتھ سرفہرست
ممبئی سمیت مہاراشٹر کی۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں واضح طور پر سامنے آگئی ہیں۔ اگرچہ ان انتخابات میں بی جے پی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، تاہم ان نتائج کی سب سے نمایاں اور چونکا دینے والی بات آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم )کی غیر معمولی پیش رفت رہی ہے، جو اسدالدین اویسی کی قیادت میں بلدیاتی سیاست کی ایک مضبوط طاقت بن کر ابھری ہے۔انتخابی نتائج کے مطابق ایم آئی ایم نے ریاست کی۲۹؍ میں سے ۱۳؍ میونسپل کارپوریشنوں میں مجموعی طور پر ۹۵؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جو پارٹی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل تصور کی جارہی ہے۔ ان نتائج سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ایم آئی ایم اب صرف بی جے پی یا روایتی علاقائی جماعتوں کیلئے ایک متبادل نہیں رہی بلکہ براہِ راست ایک مؤثر اور فیصلہ کن سیاسی قوت بن چکی ہے۔
ایم آئی ایم کی کامیابی صرف مراٹھواڑہ یا مسلم اکثریتی علاقوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ پارٹی نےممبئی جیسے میٹرو شہر میں بھی اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی ہے۔ ممبئی کے بعض وارڈز میں ایم آئی ایم نے روایتی اور قد آور سیاسی جماعتوں کے انتخابی حساب کتاب کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر مانخورد میں، جو ابو عاصم اعظمی کی سماج وادی پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں ایم آئی ایم کی کامیابی کو ایک بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔بی ایم سی میں ۸؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان نتائج کے بعد ممبئی کی سیاسی بساط میں نمایاں تبدیلی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، خصوصاً اقلیتی ووٹرز کی سیاسی ترجیحات میں تبدیلی پر کھل کر بحث شروع ہوچکی ہے۔ریاستی سطح پر دیکھیں تو اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں ایم آئی ایم نے۳۳؍ نشستیں جیت کر دوسری بڑی جماعت بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس شہر میں امیدواروں کے انتخاب کے دوران شدید تنازعات سامنے آئے تھے، مگر ان سب کے باوجود ایم آئی ایم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مراٹھواڑہ میں یہ کامیابی پارٹی کیلئے خاص سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ایم آئی ایم نے۲۱؍ امیدواروں کو کامیاب کراکر ایک مرتبہ پھر اپنی مقبولیت کا ثبوت دیا ہے۔ اسی طرح شولاپور، دھولیہ میں۸۔۸؍جبکہ ناندیڑ میونسپل کارپوریشن میں ۱۴؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان شہروں میں ایم آئی ایم نے سماج وادی پارٹی کو واضح طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔دیگر شہروں میں بھی ایم آئی ایم کی پیش رفت قابلِ ذکر رہی۔ امراوتی میں۶، تھانے میں۵؍ اور ناگپور میں۴؍نشستوں پر ایم آئی ایم کے امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ چندرپور میونسپل کارپوریشن میں پارٹی نے پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا انتخابی کھاتہ کھولا ہے۔ریاست کے مختلف حصوںمیں ملنے والی یہ کامیابیاں ایم آئی ایم کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ کی عکاس سمجھی جا رہی ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کامیابی کے پیچھے ایم آئی ایم کے صدراسد الدین اویسی کی ریاست گیر جارحانہ انتخابی مہم کا اہم کردار رہا ہے۔ اویسی نے مہاراشٹر کے مختلف شہروں میں جلسے کر کے براہِ راست ووٹروں سے رابطہ قائم کیا۔ ان نتائج کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ آئندہ دنوں میں مہاراشٹرمیں ایم آئی ایم کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔