حزب اختلاف نے صدائے احتجاج بلند کی، اسے جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 9:52 AM IST | Mumbai
حزب اختلاف نے صدائے احتجاج بلند کی، اسے جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا۔
مہایوتی حکومت کا تقریباً ۵؍ ہفتوں تک جاری رہنے والا اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیر۲۳؍ فروری سے ممبئی میں واقع ودھان بھون میں شروع ہورہا ہے۔ اجلا س سے ایک روز قبل اتوار کو حکومت کی جانب روایتی چائے پارٹی کا انعقاد کیاجس کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا۔
چونکہ حکومت کے دونوں ایوانوں (قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل )میں اپوزیشن لیڈر کاعہدہ خالی اور نامزدگی کے باوجود حکومت کی جانب سے ان کی تقرری نہیں ہوئی ، اس لئے یہ اسمبلی اجلاس بھی اپوزیشن لیڈرکے بغیرہی شروع ہوگا۔ حکومت کے اس رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئےشیو سینا (ادھو) کے ترجمان اور رکن پارلیمان سنجے راؤت نے کہا کہ جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں آنے والی مہایوتی کی حکومت ڈرپوک ہے، اپوزیشن لیڈروں کے آئینی عہدوں پر تقرری نہ کر کے غیر آئینی کام کر رہی ہے اور یہ شرمناک ہے۔
سنجے راؤت کے مطابق دونوں ہی ایوان میں اپوزیشن کا تقرر نہ کرنے پر نہ صرف مہاراشٹر حکومت بلکہ وزیر اعظم کو بھی اس کانوٹس لینا چاہئے کہ اس ملک میں کس طرح جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ جو اپوزیشن لیڈر عوام کے مسائل کو پورے جوش سے اٹھا سکتے ہیں ان عہدہ کو حکومت نے خالی رکھا ہے اس کا کیا مطلب سمجھا جائے۔