حملہ آوروں نے عرفان پر یہ من گھڑت الزام عائد کیا کہ وہ سیب میں انجکشن لگا کر انہیں مصنوعی طریقے سے پکاتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 10:33 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
حملہ آوروں نے عرفان پر یہ من گھڑت الزام عائد کیا کہ وہ سیب میں انجکشن لگا کر انہیں مصنوعی طریقے سے پکاتا ہے۔
مسلم پھل فروش ساتھ پیش آنے والے غیر انسانی سلوک اور تشدد کے واقعہ نے ایک بار پھر سماجی و انتظامی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا( ایم این ایس) کارکنوں کی جانب سے کی گئی اس مارپیٹ کے ۲؍ ماہ گزر جانے کے باوجود محکمہ خوراک و ادویات کی جانب سے لیبارٹری رپورٹ میں تاخیر نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی دہلیز پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ عیاں رہے کہ کولسے واڑی علاقے میں پھل فروش محمد عرفان کو چند نوجوانوں نے اس کے مسلمان ہونے کی بنیاد پر وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں کے حافظ مولانا محمد اطہرمحمد سعید ۴۱؍برس سےتراویح پڑھا رہے ہیں
تفصیلات کے مطابق ۹ ؍دسمبر کو محمد عرفان نامی پھل فروش کو ایم این ایس کے شرپسند کارکنان نے اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا تھا۔ حملہ آوروں نے عرفان پر یہ من گھڑت الزام عائد کیا کہ وہ سیب میں انجکشن لگا کر انہیں مصنوعی طریقے سے پکاتا ہے۔ اسی بہانے اسے علاقے میں کاروبار کرنے سے روکتے ہوئے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس واقعے کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ واقعہ کے فوری بعد پولیس نے محمد عرفان کو حراست میں لیا تھا تاہم کسی بھی قسم کا مجرمانہ ثبوت نہ ملنے پر اسے رہا کر دیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے سیب کے نمونے ضبط کر کے جانچ کیلئے محکمہ خوراک و ادویات کو روانہ کر دئیے تھے۔ حیرت انگیز طور پر ان نمونوں کی رپورٹ ۲؍ ماہ گزرنے کے بعد بھی موصول نہیں ہو سکی ہے جس کے باعث نہ تو حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو پا رہی ہے اور نہ ہی عرفان اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر پا رہا ہے۔ متاثرہ پھل فروش کی اہلیہ شبانہ بانو نے اس معاملے میں سخت احتجاج کرتے ہوئے حکام کو خط لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو اور جھوٹے پروپیگنڈے نے ان کے شوہر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے اب کوئی ان سے پھل خریدنے کو تیار نہیں۔ شبانہ بانو نے مطالبہ کیا ہے کہ لیبارٹری رپورٹ فوری طور پر جاری کی جائے تاکہ شوہر کی بے گناہی ثابت ہو سکے اورسوشل میڈیا پر موجود تضحیک آمیز ویڈیو کو فوری طور پر ڈیلیٹ کرایا جائے۔