• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: خشک سالی سے متاثر کسان اپنے پیاسے جانور بیچنے پر مجبور

Updated: October 02, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر میں خشک سالی سے متاثرکسان اپنے پیاسے جانور بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جبکہ پانی کے ٹینکر صرف انسانوں کے لیے آتے ہیں،تاہم کسانوں نے مویشیوں کی پناہ گاہیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 مہاراشٹر کے بیشتر حصوں میں خشک سالی جیسی صورتحال کی وجہ سے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے کسان اور بے زمین مزدور اپنے مویشیوں کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے حکومت سے جانوروں کی پناہ گاہیں مانگ رہے ہیں،  جبکہ بیشتر  کو خدشہ ہے کہ وہ اپنے مویشی بیچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔بعد ازاں جب ریاستی حکومت نے۲۵؍ ستمبر کو مہاراشٹر کے ۲۶۵؍ تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا، تو حکومتی قرارداد میں اعلان کردہ امدادی اقدامات میں سے ایک جانوروں کے لیے چارے کا انتظام کرنا ہے۔ تاہم، ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فوری ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان علاقوں میں فی الحال چارہ دستیاب ہے۔جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ فوری ضرورت جانوروں کے لیے پانی کی ہے، ٹینکر صرف گھریلو ضروریات کے لیے پانی فراہم کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ ماضی میں خشک سالی کے حالات میں کسانوں کی مدد کے لیے مویشیوں کی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ ۲۰۱۸ء -۱۹ء میں اس طرح کے کیمپ جنوری میں قائم کیے گئے تھے۔ اس سال ستمبر سے پناہ گاہوں کی مانگ کئی سالوں میں سب سے پہلی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ: خشک سالی سے پریشان کسان نے پپیتے کی فصل پرٹریکٹرچلادیا

 مہاراشٹر کی رہائشی سنگیتا گائیکواڑ جمعرات کو اوسا میں ہفتہ وار منڈی کے اپنے دوسرے دورے پر ہیں۔ وہ اپنی دو بکریوں کے ساتھ سفر کر چکی ہیں، انہیں بیچنا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں چارہکھلانا اور پانی فراہم کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔اوسا کی ہفتہ وار منڈی، ریاست کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بہت سی منڈیوں کی طرح، چھوٹی اراضی والے کسانوں کو اپنے مویشی بیچنے کی کوشش کرتے ہوئے اور بے زمین لوگوں کو پانی کی قلت کی وجہ سے پریشانی میں اپنی بکریاں بیچتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔اسی بازار میں، سریش کدم اپنے دو بیل، سرجن اور راجن لایا ہے۔ چار سالہ بیلوں کو ہل چلانے کے لیے استعمال ہونے والے بیلوں کو بیچنے کے لیے تیار نہ ہونے پر، کدم کا کہنا ہے کہ اس کے گھر میں مزید آٹھ بیل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے تمام مویشیوں کے لیے، مجھے روزانہ تقریباً ایک ہزار لیٹر پانی کی ضرورت ہے۔ میں اتنی قلت میں پانی کہاں سے لاؤں؟ 

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۱۹۷۲ء کے بعد ابتک کا سنگین قحط،۸۰؍ فیصد فصلیں تباہ

واضح رہے کہ ٹینکر مراٹھواڑہ خطے میں فراہم کیے جا رہے ہیں، حکومت بدھ تک۱۵۷؍ دیہاتوں کو ۲۹۵؍ ٹینکر فراہم کر رہی ہے۔  جبکہ کئی لوگ ایک ٹینکر کے لیے۸۰۰؍ سے۱۵۰۰؍ روپے اپنی جیب سے بھی ادا کر رہے ہیں۔۲۰۱۴ء میں ہونے والی۲۱؍ ویں لائیو اسٹاک مردم شماری کے مطابق، مراٹھواڑہ میں مویشیوں کی آبادی۵۳؍ لاکھ ۵۹؍ ہزار سے زیادہ ہے۔کسانوں نے کہا کہ اگرچہ فصلوں کے نقصان کا تعین کرنے کے لیے پنچنامے گزشتہ ہفتے شروع ہوئے تھے، لیکن جانوروں کے بارے میں کوئی کارروائی شروع نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK