نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی ناگہانی موت پرابوعاصم اعظمی، عارف نسیم خان، امین پٹیل،حسین دلوائی سمیت دیگر مسلم لیڈران کا ردعمل
EPAPER
Updated: January 28, 2026, 11:08 PM IST | Mumbai
نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی ناگہانی موت پرابوعاصم اعظمی، عارف نسیم خان، امین پٹیل،حسین دلوائی سمیت دیگر مسلم لیڈران کا ردعمل
بارامتی میںبدھ کی صبح ایک طیارہ حادثہ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کےصدر اور نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار ہلاک ہو گئے۔ اجیت پوار کی اس ناگہانی موت پر مسلم لیڈران نے خراجِ عقیدت پیش کیا اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کی مختلف خوبیوں اور صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ایک مسلم دوست رہنما قرار دیا۔
سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی جو اس وقت سعودی عرب میں نے، تعزیتی بیان جاری کیا اور مہاراشٹر کے نائب وزیراعلی اجیت پوار کی ناگہانی موت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا اور کہاکہ اس حادثے سے مہاراشٹر کی سیاست کا عظیم خسارہ ہوا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نےکہا کہ اجیت پورا ایک اچھے انسان، دور اند یش لیڈر اور سیکولر سیاستداں تھے۔ این ڈی اے کے ساتھ جانے کےبعد بھی انہوں نے اپنی سیکولر سوچ اور فکر کو قائم اور برقرار رکھا۔ نسیم خاں نے بتایا کہ میرا اور اجیت پوار کا ایک لمبا ساتھ اور رشتہ رہا ہے۔۲۰۱۴ءمیں جب میں نے مسلمانوں کیلئے پسماندگی کے بنیاد پر تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ریزویشن دئے جانے کی تجویز پیش کی تھی تو سب سے پہلے اجیت پوار نےہی اس کی تائید اورحمایت کی تھی۔اور بعدازاں یہ تجویز منظور ہوئی تھی۔
رکن اسمبلی امین پٹیل نے اجیت پوار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ میں’’وہ ہر سماج، ہر مذہب اور ہر مکتب فکر کو ساتھ لیکر چلتے تھےاور بہت کم لیڈر ایسے ہوتے ہیں جن کی گرفت دیہی اور شہری علاقوں دونوں جگہ ہوتی ہے۔ ان کے جانے سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا مشکل ہے۔ ‘‘
سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ یہ صرف مہاراشٹر کا ہی نقصان نہیں بلکہ ریاست کے مسلمانوں کا بھی ایک بڑا نقصان ہے، کیوںکہ آج وہ ایک مسلم دوست رہنما سے محروم ہوگئے ۔ مسلمانوں اور اقلیتوں کے اجیت پوار کے ذریعے کیے گیے اہم کاموں کا ذکر کرتے ہوئے رئیس شیخ نے کہا کی اجیت پوار نے اقلیتوں کے لئے علاحدہ ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، نیز ریاست میں اردوگھر کی تعمیر ہو یا اردو اکادمی کو فنڈ مہیا کرانا ہو انہوں نے فراخ دلی سے کام لیا اور اسے فوری منظوری دی۔
سابق رکن پارلیمنٹ اور وزیر اور مولانا آزاد وچار منچ کے صدر حسین دلوائی نے اجیت پوار کی رحلت کو ایک ناقابل تلاقی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا مگر کبھی بھی سیکولرازم او ر مسلمانوں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔انتظامی صلاحیت بہت اچھی تھی اور انتظامیہ کو وہ بہت اچھی طرح سے چلاتے تھے۔ اجیت پوار کی دیگر خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے حسین دلوائی نے کہا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ جب کوئی ان کے پاس کام لیکر گیا تو اسے پورا کرتے تھے۔ ان کی ایک اچھی عادت یہ تھی کہ وہ دیگر سیاست دانوں کی طرح صرف ہاں نہیں کرتے تھے بلکہ صاف گوئی سے کہہ دیتے تھے کی یہ کام ہو سکتا ہے یا نہیں۔
مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے ڈائریکٹر و این سی پی لیڈر سلیم سارنگ نے کہا کہ’’ ریاست نے پہلی مرتبہ اقلیتی طلباء کو بیرون ملک جاکر پیشہ وارانہ کورسیز کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے جو بلاسودی قرض اسکیم شروع کی ہی وہ اجیت پوار کی ہی مرہون منت ہے، انہوں نے کہا کہ ریاست کے موجودہ ماحول میں اجیت پوار ہمیشہ سے اقلیتوں کی ہمت بندھاتےتھے کہ جب تک وہ زندہ ہیں اقلیتوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘
این سی پی (اجیت) اقلیتی شعبہ ،ممبئی کے چیئرمین مخلص شیخ نے کہا کہ وہ ایک اقلیت دوست اور بے باک لیڈر تھے،جنہوں نے ہمیشہ عام آدمی کے حقوق کی بات کی اور خصوصی طور پر اقلیتوں کے بارے میں ان کی پالیسی یکساں رہی ہے۔ان کی صبح جلد ہو جاتی اور فوراً دوردراز کے علاقوں سے آنے والے عام آدمی سے ملتے اور ان کے مسائل پر توجہ دیتے تھے اور حل کرواتے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اجیت پوار نے بی جے پی اور شندےسینا کے ساتھ اتحاد کے باوجود آرایس ایس اوراسکی تقاریب سےدوری بنائے رکھی اور کئی بار کہا بھی کہ ان کا اتحاد سیاسی ہے اور وہ شاہو پھلے امبیڈکر کے نظریات پر چلنے والے شخص ہیں۔