مرکزی وزارت تعلیم کے سروے میں ہر اسکول میں ۲؍ سو طلبہ کو پڑھانے کیلئے محض ۷؍ اساتذہ موجود، ان میں بھی بیشتر ایس آئی آر جیسے کاموں کے سبب اسکول میں حاضر نہیں ۔ریاست میں ایک لاکھ ۸؍ ہزار ۱۳۹؍ اسکولوں میں ۲۱؍ لاکھ ۶۳۲؍ ہزار ۶۶۹؍طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
ایک میونسپل اسکول کے کمرہ جماعت کی فائل فوٹومیں طلباء و طالبات اور ٹیچر دیکھے جاسکتے ہیں۔تصویر:آئی این این
ابتک سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی کمی، اسکولوں کے بند ہونے اور موجودہ اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کے فقدان کی شکایت طلبہ ، والدین ،اساتذہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ ہی کی جاتی رہی ہیں ۔ اسکے خلاف شہر اور ریاست کے کئی لیڈران نے بھی آواز اٹھائی ہے ۔ وہیںریاستی حکومت اور بی ایم سی کی زیر سر پرستی چلائے جانے والے ہزاروں سرکاری اسکولوں میں پانی، بجلی، بیت الخلا اور دیگر انفرااسٹرکچر و دیگر مسائل کے ہونے کی تصدیق خود مرکزی وزارت تعلیم نے کر دی ہے۔
مرکزی وزارت تعلیم نے اس ضمن میں یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس کے ذریعہ ممبئی کے علاوہ پوری ریاست کے سرکاری اسکولوں کا سروے کرایا ہے ۔ اس ضمن میں مذکورہ ادارہ نے جو رپورٹ پیش کی وہ انتہائی تشویشناک ہے ۔جس کے مطابق شہر اور ریاست کے الگ الگ شہر اور اضلاع میں کل ایک لاکھ ۸؍ ہزار ۱۳۹؍ سرکاری اسکول اب بھی موجود ہے ۔ ان میں کل ۲۱؍ لاکھ ۶۳۲؍ ہزار ۶۶۹؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۲۱؍ لاکھ سے زائد طلبہ کو پڑھانے کیلئےمحض ۷۵۰؍ ہزار ۲۷۲؍ ٹیچر ہی موجود ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ان اسکولوں میں ۱۱؍ لاکھ ۱۶۲؍ ہزار ۴۵۷؍ لڑکے جبکہ ۱۰؍ لاکھ ۴۷۰؍ ہزار ۲۱۲؍ طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان ترتیب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک اسکول میں ۲؍ سو سے زائد طلبہ کو پڑھانے کے لئے محض ۷؍ ٹیچر ہیں موجود ہیں ۔ یہی نہیں ان میں سے اکثر ٹیچروں کو ایس آئی آر جیسے کاموں میں الجھا کر رکھا گیا ہے جس سے نہ صرف اساتذہ کی بڑی تعداد اسکول میں موجود نہیںہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد اسکولوں میں ۲۱؍ لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ان میں ۱۶؍ ہزار ۳۴۱؍ اسکولیں وہ بھی شامل ہیں جس میں ۳۲؍ ہزار سے زائد مختلف معذوری کے شکار بچے زیر تعلیم ہیں ، اکثر وبیشتر اسکولوں میں پانی ، بجلی ، بیت الخلا اور بنیادی انفرا اسٹرکچر بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق ۴۱۹؍ ہزار ۹۰؍ اسکولوں کے طلبہ کو کمپیوٹر فراہم نہیں کیا گیا ہے اور ۸۵۵؍ ہزار ۲۳؍ اسکولوں میں انٹر نیٹ کی سہولت ہی فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ریاست کی ۹۳۸؍ ہزار ۱۰؍ اسکولوں میں سرے سے بجلی ہی نہیں ہے ۔یہی نہیں ۳۰؍ ہزار سے زائد اسکولوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے بیت الخلاء کی حالت انتہائی ناقص ہے ۔اسکے علاوہ ۹۳۲؍ ہزار اسکولوں میں پلے گراؤنڈ ہی موجود نہیں ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اکثر اسکولوں میں لائبریری اور ڈیجیٹل بورڈ کا کوئی نظم بھی نہیںگیا ہے ۔اکثر اسکولوں میں صحت عامہ کی ضرورت کو پورا کرنے اور ایمرجنسی فرسٹ ایڈ کا بھی کوئی نظم نہیں ہے ۔