کارپوریٹر عرفان فضل الرحمٰن انصاری اور عامر پٹھان نے نائب کمشنر کو مکتوب دیکر ان اسکولوں کے انضمام کی کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 10:25 AM IST | Ismail Shaad | Dhule
کارپوریٹر عرفان فضل الرحمٰن انصاری اور عامر پٹھان نے نائب کمشنر کو مکتوب دیکر ان اسکولوں کے انضمام کی کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
دھولیہ میونسپل کارپوریشن کے ۴؍ اردو اسکولوں کو غیر قانونی طریقے سے ایک ہی کیمپس کےاسکولوں میں ضم کرنے کے فیصلے کے خلاف کارپوریٹر انصاری عرفان فضل الرحمٰن نے لوکل باڈی کمیٹی کی میٹنگ میں صدائے احتجاج بلند کی۔ انہوں نے اردو اسکولوں کے غیر قانونی انضمام کی کارروائی کو فوری طور پر روکنے اور ان ۴؍ اسکولوں کو نئی مسلم اکثریتی آبادی والی بستیوں میں منتقل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ کارپوریٹر عرفان انصاری نے اسکول کمیٹی کے اراکین اور سرپرستوں کو اطلاع دئیے بغیر اور اعتماد میں لئے بغیر من مانی طریقے سے فیصلہ لینے پر اسکول بورڈ کے ایجو کیشن آفیسر داسر واڑ کو آڑے ہاتھوں لیا۔اس ضمن میں عرفان انصاری اور عامر پٹھان نے نائب کمشنر دہاڑے کو مکتوب پیش کرکے اسکولوں کے غیر قانونی انضمام کا فیصلہ فوری طور پر رد کرنے اور جہاں اردو اسکولوں کی ضرورت ہیں ان علاقوں میں کارپوریشن کے ان چار اسکولوں کو منتقل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے:عامر خان، کبیر خان اور آسٹریلوی پروڈیوسرز کا ’’سلکیارا۴۱‘‘ بنانے کا اعلان
اس ضمن میں عرفان انصاری نے انقلاب کے نمائندے کو بتایا میونسپل کارپوریشن ایجوکیشن بورڈ کے ایجو کیشن آفیسر داسرواڑ نے میونسپل اردو اسکول نمبر۴۳؍اور۴۷؍کو اسی کیمپس کے اسکول نمبر ۴۴؍مولوی گنج علاقے کی اسکول میں ضم کردیا ہے۔اسکول نمبر۳۴؍ کو اسی کیمپس کی اسکول نمبر۲۰؍لوہا بازار کی اسکول میں جبکہ اسکول نمبر۵۴؍کو اسی کیمپس کے اسکول نمبر ۵۳؍مولانا آزاد نگر کے اسکول میں ضم کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مالیگاؤں ـ: بیشتر ’بی ایل اوز‘ غائب ،رائے دہندگان سخت پریشان
عرفان انصاری نے یہ بھی بتایا کہ اسکول نمبر ۵۴؍کے صدر مدرس نے طلباء کی تعداد کم ہونے کا جواز دے کر اسکول کو ۱۰۰؍ فٹ روڈ مسجد ابراہیم کے پاس منتقل کرنے کی مانگ انتظامیہ سے کی تھی اسکول کمیٹی نے اس بابت تجویز کو متفقہ رائے سے منظور کیا ہے۔وارڈ نمبر۱۹؍کے کارپوریٹرس اور اکھل مہاراشٹر پرائمری اساتذہ کی تنظیم نے بھی جون مہینے میں اسکول منتقل کرنے کیلئے انتظامیہ کو مکتوب دیا تھا۔اسکول نمبر۳۴؍کے صدر مدرس اور اسکول کمیٹی کے اراکین نے بھی اسکول کو وارڈ نمبر ۱۹؍ میں کارپوریشن کے اوپن اسپیس جگہ پر منتقل کرنے کے ضمن میں انتظامیہ کو مکتوب پیش کیا تھا۔ عرفان انصاری نے کہا کہ مسلم اکثریتی آبادی والے علاقوں کے غریب سرپرستوں کے بچوں کیلئے اسکول نہیں ہے۔ آر ٹی ای قانون کے تحت غریب عوام کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا شہری انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔سرپرستوں، عوامی نمائندوں کے ذریعے مذکورہ علاقوں میں کارپوریشن کے اسکول شروع کرنے کی مانگ کرنے کے باوجود انتظامیہ نے ہنوز اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ نائب کمشنر دہاڑے کو پیش کردہ مکتوب میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ کارپوریشن کی ملکیت کے اوپن اسپیس موجود ہیں،اساتذہ بھی موجود ہیں۔ سرپرست بچوں کو میونسپل اسکولوں میں داخل کرنے کو تیار ہے۔ان سب کے باوجود انتظامیہ اردو اسکولیں منتقل کرنے میں کیا دشواری ہے؟ مکتوب کے ذریعے انتظامیہ کو یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ماضی میں دیوپورکی کارپوریشن کی اردو اسکول نمبر۱۷؍میں صرف دو طلبہ تھے۔اس وقت کی انتظامیہ نے اسکول کو بند یا دوسری اسکول میں ضم نہیں کیا بلکہ کبیر گنج منتقلی کی تجویز نہ صرف پیش کی گئی بلکہ اسے منظور کرلیا گیا ۔آج اسکول میں محنت کش طبقے کے تقریباً۴۰۰؍ بچّے یہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔مکتوب میں انتظامیہ سے سوال کیا گیا کہ ایجوکیشن آفیسر نے اردو اسکولوں کو بچانے کے لئے ایسی کوئی کوشش کی ہے؟