عدالت کا اسٹے آرڈر آتے آتے ۴؍ گھنٹوں میں ۱۰۰؍ دوکانیں زمین بوس۔بیوپاری اور دکاندار کارروائی سے ناراض۔شنوائی ۱۴؍اکتوبر کو ہوگی۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 3:41 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
عدالت کا اسٹے آرڈر آتے آتے ۴؍ گھنٹوں میں ۱۰۰؍ دوکانیں زمین بوس۔بیوپاری اور دکاندار کارروائی سے ناراض۔شنوائی ۱۴؍اکتوبر کو ہوگی۔
یہاں اجنٹا چوپھلی کے قریب موجود بھنگار بازار میں میونسپل کارپوریشن کی ٹیم نے اب تک کی سب سے بڑی انہدامی کارروائی کی ہے۔ گزشتہ روز صبح۱۱؍ بجے سے سہ پہر۳؍ بجے کے درمیان۱۱۷؍دکانوں میں سے۱۰۰؍ کو۶؍جے سی بی کے ذریعے منہدم کیا گیا۔ اسی درمیان متاثرہ بیوپاریوں اور تاجروں کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں اسٹے کیلئے عرضی داخل کی گئی۔ جسے کورٹ نے سماعت کیلئے منظوری دی اور باقی ۱۷؍ دکانوں کو کارروائی سے تحفظ دیتے ہوئے دوپہر ۲؍ بجکر ۴۰؍منٹ پر صورتحال کو جوں کی توں حالت میں برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت۱۴؍اکتوبر کو ہوگی۔جس میں بھنگار بازار کے بیوپاریوں اور میونسپل انتظامیہ اپنا اپنا موقف پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:منڈھوا زمین گھوٹالے میں پارتھ پوار کو ملزم کیوں نہیں بنایا؟
حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے ۸۰؍ سے زیادہ آفیسران، ملازمین اور۱۰۰؍ پولیس اہلکاروں کی فورس صبح۱۰؍ بجے اجنٹا چوپھلی پہنچی۔ کارروائی سے قبل محکمہ بجلی نے مارکیٹ میں بجلی کے کنکشن منقطع کر دیئے۔ تاجروں نے استدعا کی کہ ہمیں سامان ہٹانے کیلئے۲؍ سے۳؍ گھنٹے کا وقت دیا جائے۔ کچھ کو سامان کو ہٹانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم صبح۱۱؍بجے کمشنر آدتیہ جیونے اور پولیس سپرنٹنڈنٹ شریکانت دھیوارے موقع پر پہنچے اور فوری کارروائی کا حکم دیا۔کل ۶؍جے سی بی مشینوں کے ذریعہ مبینہ غیرقانونی دکانوں اور شیڈز کی انہدامی کارروائی کی گئی۔ اس درمیان سابق ڈپٹی میئر کریم سالار، اور بھنگار بازار بیوپاری کارپوریٹر ابراہیم عرف ایبا پٹیل، فاروق شیخ، مفتی ہارون ندوی، جمیل شیخ بازار پہنچے۔ ایبا پٹیل نے الزام لگایا کہ یہ کارروائی نوٹس جاری کیے بغیر کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دھولیہ: خشک سالی سے پریشان کسان نے پپیتے کی فصل پرٹریکٹرچلادیا
انتظامیہ نے واضح کیا کہ۲۰۲۱ء سے وقتاً فوقتاً نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ دریں اثنا، کارروائی کے دوران سڑک پر ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے صبح۱۱؍بجے سے علاقے میں زبردست ٹریفک جام تھا۔ صبح۱۱؍ بجے درخواست پر روک لگانے کی افواہ سے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔اسی درمیان کارپوریٹر ابراہیم موسی پٹیل کے ذریعے ہائی کورٹ اورنگ آباد بنچ میں ایک فوری عرضی داخل کی گئی۔ جیسے ہی ڈھائی بجے سماعت کا خط موصول ہوا، افواہ پھیلی اور ہجوم نے انہدامی کاروائی کو روکنے کی کوشش کی۔ عبدالکریم سالار، ابراہیم پٹیل اور دیگر نے ہجوم کو پرسکون رہنے کی درخواست کی ۔ ابراہیم پٹیل اور فاروق شیخ نے بتایا کہ صبح ہی کورٹ نے اپنے ابتدائی احکامات میں یہ کہہ دیا تھا کہ اس انہدامی کاروائی کو روکا جائے لیکن کارروائی جاری رہی۔