کے ڈی ایم سی ا سکول میں کلاس بند ہونے اور دہم جماعت کی مارک شیٹ نہ ملنے سے ۶۰؍طلبہ کا مستقبل داؤ پر۔
نیتولی میں واقع پربودھن کار ٹھاکرے میونسپل اسکول- تصویر:آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے محکمہ تعلیم کا ایک لاپروائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے تحت چلنے والے مراٹھی میڈیم اسکول کی نویں اور دسویں جماعتیں اچانک بند کر دئیے جانے کی وجہ سے طلبہ اور والدین میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ ۲۰۲۶ ءمیں دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے والے تقریباً ۶۰؍ طلبہ کو ابھی تک ان کی مارک شیٹ اور اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ (لیونگ سرٹیفکیٹ) نہیں دیا گیا ہے۔ گیارہویں جماعت میں داخلے جاری ہیں اور ہاتھ میں ضروری دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے ان تمام طلبہ شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا ہیں۔
نیتولی میں واقع پربودھن کار ٹھاکرے میونسپل اسکول میں نویں اور دسویں جماعت کی کلاسیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک بند کر دی گئیں جس کے بعد علاقے کے غریب والدین اور طلبہ میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ سال ۲۰۲۶ ءمیں دسویں کا امتحان پاس کرنے والے تقریباً ۶۰؍ طلبہ کو تاحال ان کی مارک شیٹ اور اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ نہیں ملا ہے۔متاثرہ طلبہ کے والدین نے میڈیا کو بتایا کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل اسکول انتظامیہ کے دفتر کے چکر کاٹ رہے تھے لیکن انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔آخر کار مایوس ہو کر والدین نے شیو سینا ( ادھوٹھاکرے) کے مقامی عہدیداران سچن باسرے اور سریش تیلاونے سے رابطہ کیا اور اپنی پریشانی سنائی۔اس کے فوراً بعد مشتعل والدین طلبہ اور شیو سینا کے وفد نے براہِ راست کے ڈی ایم سی کے صدر دفتر کا رخ کیا اور ڈپٹی میونسپل کمشنر پرساد بورکر کا گھیراؤ کیا۔ معاملے کی حساسیت اور سنگینی کو بھانپتے ہوئے ڈپٹی میونسپل کمشنر پرساد بورکر نے فوری طور پر محکمہ تعلیم کے تمام متعلقہ افسران کو اپنے چیمبر میں طلب کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی طالب علم کا تعلیمی نقصان ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے موقع پر ہی افسران کو پھٹکار لگاتے ہوئے تمام ۶۰ ؍طلبہ کو فوری طور پر مارک شیٹ اور لیونگ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا قطعی حکم دیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرساد بورکر نے یقین دلایا کہ دستاویزات کی فراہمی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے اور نہم اور دہم کی کلاسیں کس کے حکم پر اور کیوں بند کی گئیں اس کی اعلیٰ سطح پر جانچ کر کے قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت ترین قانونی و تادیبی کارروائی کی جائے گی۔