ایکناتھ شندے اور دیویندر فرنویس نے بھی کانگریس کو نشانہ بنایا ، کانگریس کے تبصرے کو خواتین کی توہین قرار دیا سنیل تٹکرے کی دھننجے منڈے کو نصیحت، نگراں وزیر کی پریس کانفرنس میں خود خطاب کرنے کی ضرورت نہیں تھی
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 7:57 AM IST | Mumbai
ایکناتھ شندے اور دیویندر فرنویس نے بھی کانگریس کو نشانہ بنایا ، کانگریس کے تبصرے کو خواتین کی توہین قرار دیا سنیل تٹکرے کی دھننجے منڈے کو نصیحت، نگراں وزیر کی پریس کانفرنس میں خود خطاب کرنے کی ضرورت نہیں تھی
ایک روز قبل کانگریس نے سوشل میڈیا پر نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوارکا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے تبصرہ کیا تھا ’’ سنونیترا پوار کب تک گونگی گڑیا بنی رہیں گی؟‘‘ اس معاملے کو مہایوتی کی جانب سے اس قدر طول دیا گیا کہ ریاست بھر میں کانگریس کےریاستی صدر ہر ش وردھن سپکال کے خلاف احتجاج تو کیا ہی گیا اب خود وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی اس پر کانگریس کی مذمت کی ہے۔
یاد رہے کہ کانگریس نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کیا تھا جو بیڑ میںمنعقد ہوئی ایک پریس کانفرنس کا تھا۔ پریس کانفرنس میں میڈیا نے جب سونیترا پوار سے بیڑ میں بڑھتی تشدد کی واردات پر سوال کیا تو وہاں موجود رکن اسمبلی دھننجے منڈے نے سونیترا پوار کو جواب دینے سے روک دیا اور خود جواب دینے لگے۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد سونیتراپوار وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں۔ اس پر کانگریس نے سوال کیا کہ ’’ سونیترا پوار کب تک گونگی گڑیا بنی رہیں گی؟‘ ‘ اس معاملے میں ایکناتھ شندے نے کہا ہے کہ ’’خواتین کے احترام پر سیاست کرنے والی کانگریس کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔سیاسی مخالفت کیجئے لیکن کسی خاتون کی توہین کرکے سیاست کرنا یہ کانگریس کی روایت ہے کیا؟ ‘‘ انہوں نے کہا’’ سونیترا پوار کی توہین کرنے کی کوشش میں کانگریس نے تمام خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ مہاراشٹر کی خواتین کانگریس کو اس کیلئے کبھی معاف نہیں کریں گی۔ خواتین کا احترام کرنے والا مہاراشٹر اس طرح کی زبان کبھی برداشت نہیں کرے گا۔‘‘
اس دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بھی اس پر بیان دیا۔انہوں نے کہا’’ کانگریس انتہائی سطحی معیار تک پہنچ گئی ہے۔ اس نے خود کو خبروں میں رکھنے کیلئے اس طرح کا بیان دیا ہے۔‘‘ میڈیا نے سونیترا پوار سے بھی اس معاملے میں رد عمل معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ’’ صحیح وقت آنے پر میں اس کا جواب دوں گی۔‘‘ البتہ ان کےبیٹے جے پوار نے ضرور اس بیان پر اعتراض ظاہر کیا۔ جے کا کہنا تھاکہ ’’سونیترا پوار مہا راشٹر کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن خواتین کی عزت، وقار اور شخصیت کو مجروح کرنے یا ان کی توہین پر مبنی زبان کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے میں ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔ ‘‘ اس دوران ریاست بھر میں این سی پی کارکنان نے احتجاج بھی کیا۔
ایک طرف جہاں ریاست بھر میں این سی پی کارکنان اس بات پر احتجاج کر رہے ہیں کہ کانگریس نے ان کی پارٹی سربراہ سونیترا پوار کو ’گونگی گڑیا‘ کہہ دیا تو دوسری طرف این سی پی کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے نے دھننجے منڈے کو تلقین کی ہے ایک رکن اسمبلی اگر نگراں وزیر کے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھا ہے تو کوئی ہرج نہیںہے لیکن اسے پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ نگراں وزیر کا حق ہے۔
یاد رہے کہ کانگریس نے جو ویڈیو شیئر کیا ہے اس میں دھننجے منڈے پریس کے ایک سوال پر سونیترا پوار کو بولنے روکتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ سونیترا پوار بیڑ کی نگراں وزیر ہیں۔ اسی حیثیت سے انہوں نے یہ پریس کانفرنس بلوائی تھی۔ سنیل تٹکرے نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ بیڑ میں ہوئی پریس کانفرنس کے تعلق سے میری دھننجے منڈے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے اس لئے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس پریس کانفرنس میں کیا ہوا۔ البتہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ نگراں وزیر کی پریس کانفرنس میں مقامی رکن اسمبلی کا اسٹیج پر موجود ہونا ایک عام بات ہے اس میں کوئی نامناسب بات نہیں ہے لیکن یہ پریس کانفرنس دراصل نگراں وزیر کی ہوتی ہے اس لئے اس میں انہی کو بولنا چاہئے۔ رکن اسمبلی کو اس میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘
سنیل تٹکرے نے کہا ’’ سونیترا پوار پارٹی کی قومی صدر ہیں اور بخوبی میڈیا کے سوالوں کے جواب دے سکتی ہیں۔ پارٹی کے تمام اراکین کو اس تعلق سے اعتماد ہے لیکن بیڑ میں جو کچھ ہوا اس کا پہلے پس منظر سمجھنا ہوگا۔‘‘ تٹکرے نے کہا’’ اس کے باوجود ایک پیغام تو گیا ہے۔ اس لئے جب کوئی کلیدی شخصیت اسٹیج پر موجود ہوتو اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ بات کرنےکا موقع اس کلیدی شخصیت ہی ملنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ پریس کانفرنس چونکہ انہی کے نام سے ہوتی ہے اس لئے انہی کو میڈیا کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع ملنا چاہئے تھا۔‘‘ تٹکرے کے اس بیان سے اتنا تو واضح ہے کہ پریس کانفرنس میں ایسا کچھ ضرور ہوا ہے جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ کانگریس نے بھی شاید وہی کیا لیکن اس کی جانب استعمال کی گئی گونگی گڑیا کی اصطلاح این سی پی کو بری لگی۔ اس معاملے میں اب تک دھننجے منڈے کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔