ریاست میں قحط جیسی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تمام وزراء کو اپنے اپنے اضلاع کا مطالعہ کرکے ابتدائی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 1:18 PM IST | Agency | Nagpur
ریاست میں قحط جیسی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تمام وزراء کو اپنے اپنے اضلاع کا مطالعہ کرکے ابتدائی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریاست میں قحط جیسی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تمام وزراء کو اپنے اپنے اضلاع کا مطالعہ کرکے ابتدائی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اتوار کو ناگپور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ہفتے ان ابتدائی رپورٹس کا جائزہ لیا جائے گا اور پنچ نامہ مکمل ہونے کے بعد فوری امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ایل نینو کے بحران کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا گیا تھا، اسی لئے چارا پیداوار کے فروغ کا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت چارے کی کاشت کرکے رکھی گئی ہے۔
’’کسانوں کی مدد کیلئے ریاستی حکومت پابند عہد‘‘
وزیرِ اعلیٰ فرنویس نے کہا کہ۵؍ اکتوبر تک فصلوں کے پنچ نامے مکمل ہونے کے بعد امداد کے لئے مرکز کو تجویز بھیجنی ہوگی۔ اسی بنیاد پر کسانوں کو امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ’’قحط کا اعلان کرو‘‘ کا مطالبہ کرکے سیاست کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایس ٹی کے بیڑے میں ۲۰۰؍ والوو بسوں کی شمولیت
وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت قومی آفات امدادی فنڈ سے ملنے والی امداد کا انتظار کیے بغیر، کسانوں کے لیے جو بھی فوری مدد ممکن ہے، وہ فراہم کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مراٹھواڑہ کے کچھ علاقوں میں قحط جیسی صورتحال ہے۔ وہاں ڈیم چھوٹے ہیں اور ان میں پانی بھی کم ہے۔ بڑے ڈیموں کے پانی کو پینے کے مقصد کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔
’’انتظامیہ زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرے‘‘
جب وزیرِاعلیٰ کی توجہ ناندیڑ میں قحط سے متعلق جائزہ اجلاس میں کاجو اور بادام کھانے کی جانب دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو ایسی چیزوں سے واضح طور پر گریز کرنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عام طور پر ہمارے یہاں میٹنگوں میں خشک میوہ جات رکھنے کا رواج ہے، لیکن انتظامیہ کو حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کو ہر معاملے میں سیاست کرنے کی عادت ہے، جو مناسب نہیں ہے۔