انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ مریض علی باغ تعلقہ اور پنویل کے شہری علاقوں میں پائے گئے۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 1:22 PM IST | Siraj Sheikh | Alibag
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ مریض علی باغ تعلقہ اور پنویل کے شہری علاقوں میں پائے گئے۔
رائے گڑھ ضلع میں گزشتہ ساڑھے آٹھ ماہ میں ڈینگو کے۴۰۰؍ سے زیادہ مریض پائے گئے ہیں۔ دیہی علاقوں کے مقابلے پنویل کے شہری اور علی باغ کے دیہی علاقوں میں ڈینگو کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد پائی گئی ہے۔ رائے گڑھ ضلع میں پچھلے کچھ مہینوں سے ڈینگو زور پکڑ رہا ہے۔ محکمہ صحت نے ڈینگو سے بچاؤ کیلئے کام شروع کر دیا ہے۔
رائے گڑھ ضلع سیاحت کے ساتھ ساتھ صنعتی ضلع کے طور پر مشہور ہوا ہے۔مختلف منصوبوں کے آنے کیساتھ ساتھ نئی زمینوں پر فارم ہاؤس اور بنگلے بنانے کا جنون بڑھ گیا ہے۔ ضلع کے دیہی علاقوں میں کنکریٹنگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسکی وجہ سے پانی کی نکاسی کے بہت سے راستے بند ہو گئے ہیں۔ کئی گھروں کے اطراف یا عقب میں نشیبی علاقوں میں پانی کی بڑی مقدار جمع ہو جاتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے ضلع میں کبھی دھوپ اور کبھی بارش کا ماحول ہے۔ اس بارش کی وجہ سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مچھروں کی افزائش ہونے لگی ہے۔
اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ضلع کے پنویل اور علی باغ کے ساتھ ساتھ پین، روہا، مہاڈ جیسے کئی تعلقوں میں ڈینگو کے مریض پائے جا رہے ہیں۔ دیہی علاقو میں بخار پھیل رہا ہے۔ بخار کی وجہ سے بہت سے لوگ علاج کے لیے پرائیویٹ اسپتال جا رہے ہیں۔ محکمہ ملیریا کے ذریعے خون کے نمونے لے کر ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ جنوری سے ستمبر تک کے ساڑھے آٹھ ماہ میں ضلع میں ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد کے خون کے نمونےٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں۴۱۵؍ افراد ڈینگو میں مبتلا پائے گئے۔ جنوری سے اگست تک ڈینگو کے۳۷۱؍ مریض پائے گئے ہیں۔۱۶؍ ستمبر تک۴۴؍ مریض پائے گئے ہیں۔ اس میں پنویل کے شہری علاقے میں۲۸۸؍ مریض اور ضلع کے دیہی علاقوں میں۱۲۷؍ مریض شامل ہیں۔ پنویل کے اطراف و اکناف کے دیہاتوں، علی باغ شہر، مروڈ، مہاڈ مانگاؤں پین اور روہا میں ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ضلع میں ڈینگو کے مریضوں میں اضافہ ہوتے ہی محکمہ صحت نے بھی بھاگ دوڑ شروع کردی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گاؤں اور دیہاتوں میں ان دنوں گنپتی کے سبب شہر سے آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلئے ضلعی محکمہ ملیریا نے شہر کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی ڈینگو کے مریضوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اسلئے ڈسٹرکٹ فیور آفس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں بخار ہوجائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور علاج کریں۔
یہ بھی پڑھئے:سائنسدانوں نے۲۷-۲۰۲۶ءمیں ہندوستان کو ایک مضبوط ایل نینو اثر سے متنبہ کیا
ڈینگو کی روک تھام کیلئے گرام پنچایت سطح پر میٹنگیں کی جارہی ہیںاور رہنمائی کی جارہی ہے۔چونکہ برسات کا موسم ہے لہٰذا مچھروں کی افزائش تیز ہونے اس باعث ڈینگو پھیلنے کا خطرہ ہے۔مسلسل بخار رہنےپر قریبی اسپتال جاکر ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ شہری اس بات کا خیال رکھیں کہ مچھروں کی افزائش نہ ہو۔
-انیل پاٹل، رائے گڑھ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر
ڈینگو کی روک تھام کیلئے ہدایات
اگر بارش کا پانی گھروں کے آس پاس یا چھتوں پر پڑے خالی کنٹینرز، پلاسٹک کی اشیاء، ٹائر وغیرہ میں جمع ہو جائے تو یہ مچھروں کی افزائش کیلئے جگہ بن جاتی ہے۔ ایسی جگہوں پر پانی جمع نہ ہونے دیں۔
نشیبی علاقوں میں جمع پانی کو نکال کر علاقے کو خشک کیا جائے۔
کھڑکیوں پر جالیاں لگا کر مچھروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکا جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں کہ مچھر آپ کو نہ کاٹیں۔