ماہم:حضرت مخدوم علی مہائمیؒ کا چلّہ منہدم کردیا گیا

Updated: March 24, 2023, 3:02 PM IST | Saeed Ahmed Khan and Iqbal Ansari | Mahim

کلکٹرکی جانب سے بھاری پولیس بندوبست میں کارروائی،جتیندراوہاڑکی سرکار پر تنقید۔ درگاہ کہہ کرغلط فہمی پیدا کی جارہی ہے،یہ جگہ وقف بورڈ میںرجسٹرڈ ہے :ماہم درگاہ کے ٹرسٹی

In Maham, the city administration demolished the challah of Hazrat Makhdoom Mahaimi in the midst of heavy arrangements
ماہم میںسمندر کنارے شہری انتظامیہ نے بھاری بندوبست کے درمیان حضرت مخدوم مہائمیؒ کا چلّہ منہدم کردیا

ماہم سمندر میںبنائے گئے معروف بزرگ مفسر قرآن، قطب کوکن حضرت مخدوم علی مہائمیؒ کے چلّے کو جمعرات کی صبح بھاری پولیس بندوبست میں منہدم کردیا گیا۔اس خبر کے عام ہوتے ہی حضرت مخدوم علی مہائمیؒ کے عقیدت مندوں میںشدید ناراضگی پھیل گئی ۔اس کارروائی کے تعلق سے درگاہ انتظامیہ کے ذمہ داران کو پیشگی نوٹس بھی نہیںدیا گیا۔یہ چلّہ وقف بورڈ میںرجسٹرڈ ہے ۔ عام طور سے سمندر میںطغیانی کے وقت یہ جگہ ڈوب جاتی ہے اور محض جھنڈا دکھائی دیتا ہے۔
راج ٹھاکرے کی شر انگیزی
  یاد رہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاںچند سال قبل یہ بات مشتہر ہوئی تھی کہ اس حصے میںسمندر کا پانی میٹھا ہوگیا ہے ا وریہ خبرعام ہوتے ہی بڑی تعداد میںلوگوں نےوہاں کا رخ کیا تھا ۔ اس کارروائی کے تعلق سے کہا جارہا ہے کہ دراصل اس تعلق سےگزشتہ روز راج ٹھاکرے نےاشتعال انگیزی کی تھی اوراپنی تقریر میں سخت اعتراض   کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں نیا حاجی علی یہاں کیسے بنادیا گیا ؟ اگر ایک ماہ میں حکومت نے کارروائی نہیں کی تو ہم ا س سے متصل دنیا کا سب سے بڑا گنپتی مندر تعمیر کریں گے۔اس کےبعد انتظامیہ حرکت میںآیا اورآناًفاناً کارروائی کی ۔ 
لیکن یہ درگاہ نہیںچلّہ ہے
  اس کارروائی کے تعلق سےماہم درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی سے نمائندۂ انقلاب کوبتایا کہ ’’جمعرات کی صبح ساڑھے ۷؍بجےکارروائی کی گئی  ہے ۔ ہمیں اس تعلق سے کوئی نوٹس بھی نہیں دیا گیا۔ کچھ لوگ اسے درگاہ کہہ کر غلط فہمی پیدا کررہے ہیںلیکن یہ واضح رہے کہ  یہ چلّہ ہے اوریہ جگہ  وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ روایات کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاںحضرت خضرؑ،حضرت مخدوم علی مہائمیؒ کوتعلیم دیا کرتے تھے۔ اس لئے اس جگہ کی اپنی تاریخی و ثقافتی حیثیت ہے۔‘‘
چلّہ کا اصل حصہ محفوظ ہےمگرخطرہ اس پر بھی ہے
 ماہم درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نےیہ بھی بتایاکہ چلّے کی جگہ چھوٹی سی ہے ،وہ اب بھی محفوظ ہےلیکن وہا ںبھی کچھ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ جب اتنا سب کچھ ہوگیا ہے تواس جگہ کے تعلق سے بھی اندیشہ برقرار ہے۔چلّے کے قریب کے حصے میںجو پتھروغیرہ جمع تھے اسے توڑا دیاگیا ہے۔یہ پتھر وغیرہ سمندر میںطغیانی کے وقت بہہ کرجمع ہوگئے تھے اورکچھ لوگوں نے بھی عقیدتاً جمع کردئیے تھاتاکہ یہاں آنے والے عقیدت مندوں کوآسانی ہو۔ سمندر میںپانی کم ہوجانے کے بعد کچھ لوگ یہاںبھی عقیدت سے حاضر ہوتے ہیں،تلاوت کرتے ہیں اور وہ پھول وغیرہ بھی ڈال دیتے ہیں لیکن یہ مزار نہیں ہے ۔
ایسی مستعدی  سےتو ممبئی صاف ہوسکتی ہے 
 سہیل کھنڈوانی نےیہ بھی کہاکہ ہم خود غیرقانونی تعمیرات کے حامی نہیںہیں البتہ اتنا ضرور کہیںگے کہ اگر شہر کی  ایجنسیاں دیگر جگہوں پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف اسی طرح مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی کریں تو پوری ممبئی صاف ہوسکتی ہے۔جہاںتک راج ٹھاکرے کی مخالفت کی بات ہے تووہ اور ان کا خاندان حضرت مخدوم علی مہائمیؒ اورحضرت حاجی علی ؒ کا عقیدت مندرہا ہے ۔باقی صفحہ ۳؍ پر 

mahim Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK