• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہم : ۳؍میونسپل اسکولوں کے طلبہ ایک ہی اسکول میں پڑھنے پر مجبور

Updated: February 15, 2026, 3:24 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

علاقے کے سماجی رضاکاروں کی اپیلوں کے بعد رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ نےمکتوب روانہ کیا اور میونسپل کمشنر اور محکمہ تعلیم سے ان اسکولوں کی جلد از جلد مرمت و تعمیر کرنےکا مطالبہ کیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

یہاں ۴ ؍ میونسپل اسکول اوران کے ہزاروں طلبہ میونسپل محکمہ تعلیم اورمتعلقہ محکموں کی بے حسی کا شکار ہیں۔ ایک طرف ماہم کے مکین اور سماجی رضا کارخستہ خال قرار دیئے جانے والے اسکول کو بچانے اور طلبہ کودوسری اسکول میں منتقل کرنے کے خلاف جدو جہد کرر ہے ہیں وہیں بی ایم سی نے ایک اوراسکول کومنہدم کردیا ہے اور تیسری بی ایم سی اسکول میںطلبہ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ اب تین اسکولوں کے طلبہ آر سی ماہم میونسپل اسکول میں زیر تعلیم ہیںجہاں بے شمار مسائل اور سہولتوں کا فقدان ہے۔اس سنگین مسئلہ پر رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ نے ریاستی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور بی ایم سی کمشنر کو مکتوب روانہ کرکے طلبہ کی تعلیم اور مستقبل سے کھلواڑ نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اعضاء کی پیوندکاری میں تھانے سرکل مہاراشٹرکیلئےمثالی ماڈل بنتا جارہا ہے

 ماہم موری روڈ میونسپل اسکول کو تقریباً ۴؍ سال قبل انتہائی خستہ حال قرار دیتے ہوئے منہدم کر دیا گیاتھا اور اس میں زیر تعلیم بچوں کو آر سی ماہم میونسپل اسکول میں منتقل کر دیا گیاتھا ۔ اس کے بعد گزشتہ سال کیڈل روڈ میونسپل اسکول کو خستہ حال قرار دیتے ہوئے اسے خالی کرا لیاگیا اور اس کے بچوں کو بھی آر سی ماہم اسکول میں منتقل کر دیا تھا۔ اسی طرح نیو ماہم میونسپل پبلک اسکول کو بھی بچوں کو خالی کردیا گیا ہے اور یہاں بچوں کو سائن کے ایک اسکول میںاور چند کلاس کے طلبہ کو ماہم میں ہی ایک رہائشی عمارت میں بلڈر کے ذریعہ دیئے جانے والے ایک فلور پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہاں بھی تعلیمی اور دیگر بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔
 ماہم ریسیڈنٹ گروپ اور سماجی رضا کار پرنالی گریش راؤت جو’ آپ‘ پارٹی کی لیڈر ہیں ، بی ایم سی اسکولوں کو ختم کرنے اور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے خلاف  بی ایم سی کمشنر اور محکمہ تعلیم سے مسئلہ کو حل کرنے کی مسلسل اپیل کررہے ہیں۔ باوجود اس کے ۴؍ سال قبل زمین بوس کی گئی ماہم موری روڈ میونسپل اسکول کی از سر نو تعمیر کا کام اب بھی شروع نہیں ہوا ہے۔
اس ضمن میں ماہم ریسڈنٹ گروپ کے ممبر عرفان مچھی والا کا الزام ہے کہ اس عمارت کے تعلق سے یہ بازگشت  جاری ہے کہ اسے ۱۰؍ منزلہ عمارت میں تبدیل کیاجائے گا جس میں اوپر کا ۵ ؍منزلہ کمرشیل مقصد کیلئے بنایا جارہا ہے۔ اس سلسلےمیں میں نے کانگریس ایم پی کو تفصیلات فراہم کی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان ڈومبیولی: ۲۸ ؍دن سے لاپتہ شیوسینا (ادھو) کے۳؍کارپوریٹرس منظرعام پر

 اس ضمن میں ورشا گائیکواڑ نے بتایا کہ مذکوررہ علاقے میں موجود بی ایم سی اسکولوں کو بند کرنے یا انہیں تجارتی مقصد کے لئے استعمال کرنے کے علاوہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے خلاف ملنے والی شکایت کے بعد میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو مکتوب روانہ کیا ہے اور اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے سنجیدگی سے مسئلہ کو حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح دیگر اسکولوں کے تعلق سے بھی بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی کو مکتوب روانہ کرکے مسئلہ کے حل اور طلبہ کے تعلیمی نقصانات کی بھر پائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ 
 نیو ماہم اسکول کے طلبہ کو سائن کے ایک اسکول میں منتقل کرنے اور بلڈر کے ذریعہ چند کلاس کے طلبہ کو ماہم کی ایک رہائشی بلڈنگ میں ایک فلور پر منتقل کرنےکےعلاوہ کیڈل روڈمیونسپل اسکول کوبھی مخدوش قرار دے کر آر سی ماہم اسکول میں منتقل کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ’آپ‘ لیڈر پرنالی راؤت نے کہا کہ ’’میں گزشتہ ایک سال سے مسلسل مذکورہ عمارت کے مخدوش نہ ہونے اور خود بی ایم سی کے انجینئروں کے ذریعہ اسے قابل مرمت قرار دیئے جانے کا حوالہ د ے کر اس کی مرمت کے لئے کوشاں ہوں لیکن بی ایم کے محکمہ تعلیم اور متعلقہ ڈپارٹمنٹ کی بے حسی کے سبب یہ معاملہ ہنوز معلق ہے۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’جب تک طلبہ کو انصاف نہیں ملے گا، وہ اس جنگ کو جاری رکھیں گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK