• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیشم ساہنی اداکار، انگریزی کے استاد، ادیب، مدیر اور کامیاب ڈرامانگار بھی تھے

Updated: November 01, 2026, 12:03 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

بھیشم ساہنی کا جنم۸؍اگست۱۹۱۵ء کو راولپنڈی میں ہوا تھا، جو تقسیم وطن کے بعد اب پاکستان میں ہے۔ ان کے والد ہربنس لال ساہنی راولپنڈی کے ایک دومنزلہ مکان میں اپنی بیوی لکشمی، دو بیٹوں بلراج اور بھیشم اور دو بیٹیوں، ویراں اور سمترا کے ساتھ رہتے تھے۔

Bhisham Sahni. Photo: INN
بھیشم ساہنی۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کے صوبہ پنجاب نے جہاں زندگی کے بہت سے شعبوں میں بڑے بڑے فنکار، دانشور اور اہل قلم پیدا کئے ہیں، وہیں فنون لطیفہ سےتعلق رکھنے والے کئی ادیب، شاعر، ڈراما نگار اور فلم اداکار بھی دیئے ہیں۔ اقبال، ساحر لدھیانوی، پرتھوی راج کپور، دلیپ کمار، راج کپور، راج کھوسلہ، بی آر چوپڑا، یش چوپڑا، راجندر سنگھ بیدی، بلراج ساہنی، دھرمیندر، پران اور نوُرجہاں جیسی ادبی اور فلمی شخصیات کے درمیان ایک نام بھیشم ساہنی کی بھی ہے۔ 
بھیشم ساہنی کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ انگریزی ادب کے اچھے قاری اور استاد تھے۔ ہندی کے ادیب اور ادبی رسالوں کے مدیرتھے۔ ایک اچھے مترجم اور ڈراما نویس تھے۔ اُن کے ناول ’تمس‘ پر جنوری۱۹۸۸ء میں ایک ٹیلی ویژن سیریل بن کر عوام و خواص میں مقبول ہوچکا تھا۔ اس ناول میں انہوں نے اُن تمام مناظر کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جو انہوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھے تھے اور جو بعد میں بند آنکھوں کے خوابیدہ جھروکوں سے جھانک کر اُن کو زندگی بھر ہراساں کرتے رہے۔ انہوں نے کئی فلموں میں اداکاری بھی کی تھی۔ ۱۹۸۴ء میں سعید مرزا کی فلم ’موہن جوشی حاضر ہو‘، ۱۹۹۳ء میں برنارڈ وبرٹولوسی کی فلم ’’لٹل بدّھا‘‘ اور۲۰۰۲ء میں اپرنا سین کی فلم ’مسٹر اینڈ مسز ایئر‘ میں انہوں نے اداکاری کی تھی۔ ۱۹۹۸ء میں انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی اعزازات اور انعامات حاصل کیے، مگر غرور اُن کے قریب سے بھی نہیں گزرا تھا۔ 
بھیشم ساہنی کا جنم۸؍اگست۱۹۱۵ء کو راولپنڈی میں ہوا تھا، جو تقسیم وطن کے بعد اب پاکستان میں ہے۔ ان کے والد ہربنس لال ساہنی راولپنڈی کے ایک دومنزلہ مکان میں اپنی بیوی لکشمی، دو بیٹوں بلراج اور بھیشم اور دو بیٹیوں، ویراں اور سمترا کے ساتھ رہتے تھے۔ اِن میں بھیشم ساہنی سب سے چھوٹے تھے۔ اُن کے والد کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ جس میں کمیشن کے طور پر اوسط آمدنی ہو جایا کرتی تھی۔ اُن کے والد کی بازار میں کوئی دُکان نہیں تھی بلکہ گھر پر ہی مکان کے نچلے حصے میں انہوں نے ایک چھوٹا سا دفتر بنا لیا تھا۔ باقی خاندان گھر کے اوپری حصے میں رہتا تھا۔ بھیشم ساہنی کے والد ہربنس لال ساہنی آریہ سماجی خیالات کے تھے اور راولپنڈی کے آریہ سماج کے منتری بھی تھے۔ اُن دنوں آریہ سماج کا پورے سماج پر اثر بڑھ رہا تھا۔ اس کی وجہ سے مورتی پوجا، مذہبی ڈھونگ اور اندھے عقائد کے خلاف ویدک اَدب، سنسکرت زبان اور سچے صوفی اِزم کے خیالات کا رجحان سماج پر اثر ڈال رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ابھیجیت بھٹاچاریہ ممبئی میں گلوکار بننے نہیں ’سی اے‘ بننے کیلئے آئے تھے

بلراج اوربھیشم ساہنی دونوں بھائیوں کو بچپن میں گروکُل میں سنسکرت پڑھنے کیلئے بھیجا گیا مگر وہاں دونوں کا دل نہیں لگا اور ایک دن بلراج نے اپنا فیصلہ اپنے والد کو سنادیا کہ وہ اب گروکُل میں نہیں بلکہ اسکول میں پڑھیں گے۔ اُن کے والد اِس بات پر چونکے تو ضرور لیکن حقیقت میں بلراج نے جیسے اُن کے دل کی بات کہہ دی تھی۔ وہ اپنا سارا کاروبار انگریزی یا اُردو میں کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ نئی طرز کی تعلیم اب بچوں کیلئے ضروری ہو گئی ہے۔ ان کی والدہ بھی بچوں کو نئی تعلیم دلانے کے حق میں تھیں، اسلئے دونوں بھائیوں کو اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ بڑے بھائی بلراج ساہنی بھیشم ساہنی سے صرف دو سال ہی بڑے تھے مگر انہیں چوتھی کلاس میں اور بھیشم ساہنی کو پہلے درجے میں داخلہ ملا۔ 
بھیشم ساہنی کو بچپن ہی سے ادبی ماحول اپنے خاندان میں مل گیا تھا لہٰذا ادیب بننے کیلئے اُنہیں کوئی خاص محنت یا جدوجہد نہیں کرنا پڑی۔ اُن کی دو پھوپی زاد بہنیں کشمیر میں رہتی تھیں، جن میں سے ایک پروشارتھ وَتی کے شوہر جانے مانے ادیب اور مدیر چندرگپت وِدیالنکار تھے۔ بھیشم ساہنی نے بچپن میں اپنی ماں سے سنا تھا کہ اُن کی دادی بھی کویتا کہتی تھیں اور اُن کے کاروباری والد نے بھی بتایا تھا کہ ایک زمانے میں انہوں نے بھی ایک ناول لکھا تھا مگر وہ شائع نہیں ہو سکا تھا اور بڑے بھائی بلراج ساہنی بھی کم عمری ہی سے اپنا ادبی رجحان نظموں کے ذریعہ ظاہر کرنے لگے تھے۔ صرف ۱۵؍برس کی عمر میں ہی وہ اُردو میں شعر کہنے لگے تھے اور وہ آگے چل کر فلموں کے مقبول ترین اداکار بنے، اور جب بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی تو بلراج ساہنی نے ایک پوری نظم انگریزی میں بھگت سنگھ کی یاد میں کہہ ڈالی تھی۔ 
بھیشم کے والدنے بڑے بیٹے بلراج کی پڑھائی پوری ہونے پر انہیں اپنے کاروبار میں شامل کر لیا تھا۔ ایم اے پاس کرنے پر بھیشم کو بھی انہوں نے کاروبار میں لگانا چاہا۔ بعد میں جب بلراج ساہنی کی شادی ہو گئی اور ۱۹۳۷ء میں وہ ایک دن اپنے چھوٹے بھائی بھیشم کو دفتر کا کام کاج سونپا، گھر والوں سے وداع لی اور اپنی بیوی کے ساتھ شانتی نکیتن چلے گئے تو کچھ دن بعد بھیشم نے بھی اپنے والد کے کاروبار سے الگ ہوکر اپنی راہ خود الگ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی دوران انہیں اپنے پُرانے انٹر کالج کی یاد آئی جہاں وہ لاہور جانے سے پہلے پڑھتے تھے۔ اب وہ ڈگری کالج بن چکا تھا اور اُس کے پرنسپل اُن کے پرانے استاد جسونت رائے تھے جن کی چھوٹی بہن دمینتی کی شادی بلراج ساہنی کے ساتھ ہوئی تھی۔ انہوں نے بھیشم کو کالج کے لڑکوں کو ساتھ لے کر کالج کے اسٹیج پر ڈراما پیش کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ ہی گیسٹ لیکچرر کے طور پر دو گھنٹے پڑھانے کا کام بھی سونپ دیا۔ 
اُس وقت بھیشم ساہنی کو ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُن کی زندگی کا رُخ بدل رہا ہے۔ دو گھنٹہ روز گیسٹ لیکچرر کے طور پر پڑھانا، آگے چل کر اُن کا پیشہ ہی بن جائے گا اور یہ بات بھی اُن کے ذہن میں نہیں تھی کہ کالج میں اسٹیج کیا گیا پہلا ڈراما اُس لمبی زنجیر کی ایک کڑی ثابت ہوگا، جوانہیں پورے ملک میں معاشرتی تبدیلی کی تحریک کی طرف لے جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایشوریہ رائے نے ہیروئن کے محض شو پیس ہونے کی شبیہ کو تبدیل کیا

اُسی ماحول میں ان کی توجہ ادب اور ڈرامے کی طرف زیادہ راغب ہوئی۔ انہوں نے ادب کا عمیق مطالعہ کرنے کے ساتھ ہی مضامین لکھنے شروع کر دیے۔ اُن کے مضامین ’سرسوتی‘ اور ’وشال بھارت‘ جیسے رسائل میں شائع ہوئے۔ 
اسی دوران بلراج ساہنی شانتی نکیتن چھوڑکر مہاتما گاندھی کے ساتھ کام کرنے کی غرض سے سیواگرام چلے گئے اور ’نئی تعلیم‘ نام کے رسالے کے معاون مدیر ہو گئے تھے۔ بھیشم ساہنی بھی کچھ وقت کیلئے اُن کے پاس چلے گئے۔ وہاں انہیں گاندھی جی کو قریب سے دیکھنے اور اُن سے بات چیت کرنے کے مواقع بھی ملے۔ یہی وہ وقت تھا جب تحریک آزادی میں بھی حصہ لینے کے انہیں مواقع ملے۔ 
 بلراج ساہنی جن دنوں ممبئی میں تھے، ان دنوں اُن کے والد اُن کی طرف سے فکرمند رہا کرتے تھے، لہٰذا وہ بھیشم ساہنی کو ممبئی بھیجتے تھے کہ بلراج کو سمجھا بجھاکر واپس لے آئیں۔ بھیشم خوش ہوکر ممبئی جاتے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ گئے تو تھے فلموں میں کام کرنے مگر وہاں وہ اِپٹا کے ساتھ بڑی گرمجوشی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اِپٹا کے اداکاروں میں اِتنا جوش دیکھ کر بھیشم ساہنی بھی اس سے وابستہ ہو گئے اور خواجہ احمد عباس کے ڈراما ’زبیدہ‘ سے بہت متاثر ہوئے اور پھر ممبئی سے واپسی پر’زبیدہ‘ کی ایک کاپی اپنے ساتھ لے آئے اور کچھ عرصے بعد انہوں نے راولپنڈی میں ’زبیدہ‘ کو اسٹیج کیا۔ 
جس زمانے میں بھیشم سوویت روس میں رہے، وہاں کا نظام حکومت بدل رہا تھا۔ انہیں لگتا تھا جیسے وہ ایک نئی دُنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ۱۹۵۷ء کی بات ہے۔ انقلاب کے بعد ثقافتی میدان میں سوویت روس نے جو طریقۂ کار اختیار کیا تھا، اس کے تحت وہاں بڑے پیمانے پر ترجمہ نگاری کا کام کیا جا رہا تھا۔ جہاں روسی اور دیگر سوویت زبانوں سے ترجمے کیے جا رہے تھے، وہیں دوسرے ممالک کے ادب کے بھی روسی زبان میں ترجمے ہو رہے تھے۔ بھیشم ساہنی ماسکو میں مع اہل و عیال سات برس تک رہے اور۱۹۶۳ء میں واپس ہندوستان آگئے۔ یہاں آنے پر اُنہیں ایک بار پھر دِلی کالج (جو بعدمیں ذاکر حسین کالج کہلایا) میں ملازمت پر بحال کر دیا گیا۔ اس درمیان دہلی کا ادبی ماحول کافی کچھ بدل چکا تھا۔ کلچرل فورم کی مجالس ختم ہو چکی تھیں، اسلئے انہیں وہاں پر کافی اجنبیت محسوس ہو رہی تھی۔ 
بھیشم ساہنی کی زندگی کابیشتر حصہ گھر کے باہر کی مصروفیات میں گزرا تھا مگر وہ اپنے اہل خانہ کیلئے ایک نہایت ذمہ دار شخصیت تھے۔ بے حد دوستانہ مزاج رکھنے والے بھیشم کو دوستوں سے بھی بہت محبت ملتی تھی۔ اپنے والدین کا بے حد احترام کرتے تھے اور اپنے بچوں سے بہت محبت کرنے والے بھیشم اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں بھی ایک پسندیدہ شخصیت کے حامل، انسان دوست انسان تھے۔ ادب کی دنیا بھی اُن کیلئے ایک خاندان کی حیثیت رکھتی تھی اور اس میں نرم گفتار بھیشم جی کو سب کا پیار ملتا تھا۔ 
بھیشم کے مقبول ترین ناول ’تمس‘ پر اُن کو ۱۹۷۵ء ساہتیہ اکیڈمی اعزاز سے نوازا گیا۔ بعد میں وہ ساہتیہ اکیڈمی کے ممبر بھی نامزد ہوئے۔ بنیادی طور پر سادہ لوح بھیشم ساہنی کبھی بھی آگے بڑھ کر زبردستی قیادت کرنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ اپنے آپ کو ایک عام آدمی کی طرح محسوس کرتے تھے۔ دوسروں کا احترام کرنا یا اُن کے احساسات کا خیال رکھنا اُن کو بے حد عزیز تھا۔ ۱۱؍جولائی۲۰۰۳ء کو دہلی میں بھیشم ساہنی جی کی آتما نے جسم خاکی سے نجات حاصل کی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ اب صرف اُن کی خوشگوار یادیں ا اور ان کی تخلیقات ہی باقی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK