اداکار سورج بیری کا کہنا ہے کہ اپنے کریئر سے متعلق زیادہ تر فیصلے میں نے خود ہی کیے ہیں، خواہ پہلی فلم ہو یا اس کے بعد کے منصوبے، البتہ والد سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 12:02 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
اداکار سورج بیری کا کہنا ہے کہ اپنے کریئر سے متعلق زیادہ تر فیصلے میں نے خود ہی کیے ہیں، خواہ پہلی فلم ہو یا اس کے بعد کے منصوبے، البتہ والد سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔
معروف اداکار سُدیش بیری کے بیٹے سورج بیری نے بھی اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا ہےلیکن ابتدائی فلمی منصوبے مکمل نہ ہونے کے باعث انہیں اپنے کریئر میں وقفہ لینا پڑا۔ بعد میں وہ آسٹریلیا چلے گئے اور اب دوبارہ اداکاری کے میدان میں مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ بچپن میں انہوں نے اپنے والد کو ملنے والی عزت اور لوگوں کی محبت کو قریب سے دیکھا ہے، جس سے ان کے اندر بھی اداکاری کا شوق پیدا ہوا۔ سورج کی اداکاری کے سفر کا آغاز ایک ایسی فلم سےہوا تھا جس سے انہیں بڑی امیدیں تھیں۔ ان کی پہلی فلم ’دی لٹل گاڈفادر‘ تھی، جسے ایکتا کپور اور سنیل شیٹی نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا۔ فلم کی شوٹنگ تقریباً ۹۰؍ فیصد مکمل ہو چکی تھی، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ فلم رک گئی۔ سورج نے اداکاری کاباقاعدہ تربیتی کورس بھی کیاہے۔ انہوں نےقیام آسٹریلیا کے دوران وہاں ملازمت بھی کی تھی اور پولیس افسر کے عہدے پر فائز رہے تھے، لیکن اداکاری کی دھن سوار تھی اسلئے وہ ہندوستان لوٹ آئے اور دوبارہ کوشاں ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے سورج بیری سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
ان دنوں آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟ آپ کیا کر رہے ہیں؟
ج: میں ابھی آسٹریلیا سے واپس آیا ہوں اور ہندوستان میں لوگوں سے ملاقاتیں کر رہا ہوں۔ حال ہی میں راجستھان میں ایک میوزک ویڈیو کی شوٹنگ مکمل کی ہے۔ یہ ایک رومانوی گانا ہے، جسے معروف گلوکار راج برمن نے گایا ہے۔ گانے کا نام ’بارش‘ ہے اور اس کی ریلیز ۳؍ نومبر کو متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کسی فلم میں شاعرہ کا کردارنبھانے کا موقع ملے تو بہت خوشی ہو گی ‘‘
میوزک ویڈیو ’بارش‘ کے بارے میں کچھ بتائیے اور یہ بھی کہ آپ نے اس منصوبے کا انتخاب کیوں کیا؟
ج: یہ ایک عام سا رومانوی گانا ہے، لیکن مجھے اس کی دھن بہت پسند آئی۔ جب میں نے پہلی مرتبہ یہ گانا سنا تو مجھے بہت اچھا لگا اور میں نے فوراً اس کیلئے ہاں کر دی۔ بعد میں بتایا گیا کہ اس کی شوٹنگ راجستھان میں کی جائے گی۔ وہاں کی خوبصورت لوکیشنز دیکھ کر بھی مجھے بہت خوشی ہوئی۔
کیا آپ کو امید ہے کہ یہ میوزک ویڈیو آپ کیلئے اداکاری کے میدان میں نئے مواقع پیدا کرے گا؟
ج: میں منفی انداز میں نہیں سوچتا، نہ ہی کسی کام کے نتیجے کے بارے میں بہت زیادہ پریشان ہوتا ہوں۔ مجھے جو کام اچھا لگتا ہے، میں اسے کر لیتا ہوں۔ اگر کوئی چیز پسند نہ آئے تو میں صاف کہہ دیتا ہوں۔ راج برمن کے ساتھ میری اچھی ہم آہنگی رہی، گانا بھی پسند آیا، اسلئے میں نے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
آپ کے آنے والے منصوبوں میں اور کیا شامل ہے؟
ج: نومبر کے آخر میں راجستھان میں ایک فلم کی شوٹنگ کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کے ہدایت کار وہی ہیں جن کے ساتھ میں نے میوزک ویڈیو کی شوٹنگ کی ہے۔ فلم کا موضوع ایک سماجی مسئلہ ہے۔ اس میں ایسی کم عمر لڑکیوں کی کہانی دکھائی جائے گی جن کی شادی بڑی عمر کے مردوں سے کر دی جاتی ہے۔
آپ نے کئی سال پہلے فلمی دنیا میں کام شروع کیا تھا۔ آج کی تاریخ میں آپ کو سب سے بڑی تبدیلی کیا محسوس ہوتی ہے؟
ج: بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ تقریباً دس سال پہلے جو لوگ صنعت میں کام کرتے تھے اور جن سے میرا رابطہ تھا، ان میں سے بہت سے لوگ اب یہاں کام نہیں کر رہے۔ آج کی نسل بہت تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے اور پورا ماحول بدل گیا ہے۔ پہلے اداکار اپنی تصاویر لے کر پروڈیوسرس کے پاس جاتے تھے، لیکن اب پروفائل، ویڈیو اور آڈیشن کے ذریعے کام حاصل کیا جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے مجھے کچھ آڈیشن کیلئے کہا گیا تھا، لیکن وہاں ملازمت کے ساتھ وقت نکال کر ویڈیو بنانا آسان نہیں تھا۔ پہلے لوگوں سے ملنے اور ذاتی رابطے بنانے کی اہمیت زیادہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘
آپ کی پہلی فلم تقریباً مکمل ہو گئی تھی، لیکن ریلیز نہ ہو سکی، اس تجربے نے آپ کو کتنا متاثر کیا؟
ج: آسٹریلیا جانے سے پہلے میں نے ایک فلم میں کام کیا تھا، جسے ایکتا کپور نے پروڈیوس کیا تھا اور سنیل شیٹی بھی اس منصوبے سے وابستہ تھے۔ فلم تقریباً۹۰؍ فیصد مکمل ہو چکی تھی۔ میرے حصے کی صرف چار یا پانچ دن کی شوٹنگ باقی تھی۔ بعد میں پروڈکشن سے وابستہ افراد کے درمیان کچھ مسائل پیدا ہوئے۔ مجھے ان کی مکمل تفصیلات معلوم نہیں تھیں، لیکن اس کے بعد فلم کا کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ یہ صورتحال دو سے تین سال تک میرے لیے پریشانی کا باعث بنی۔ میں مسلسل انتظار کرتا رہا مگر جب مجھے اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آیا تو میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے کیلئے ہندوستان سے باہر جا کر اپنی زندگی پر توجہ دینی چاہیے۔
آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کیسے کیا؟ وہاں آپ نے کیا کیا؟
ج:میں نے فیصلہ کیا کہ فلمی صنعت سے کچھ وقت کیلئے دور ہو کر اپنی تعلیم مکمل کروں۔ میں آسٹریلیا گیا اور اکاؤنٹنگ میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کی۔ یہ دو سال کا کورس تھا۔ ابتدا میں میرا ارادہ تھا کہ تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس آ جاؤں گا، لیکن وہاں مجھے ملازمت مل گئی، دوست بن گئے اور زندگی کا ایک معمول بن گیا۔ وقت کے ساتھ میں وہاں کے ماحول میں ڈھلتا چلا گیا۔ میں نے مختلف ملازمتیں کیں، اپنا ایک کیفے چلایا اور کاروبار کا تجربہ حاصل کیا۔ وہاں دو گھر بھی خریدے۔ پھرایک وقت ایسا آیا جب مجھے لگا کہ میری زندگی ایک ہی معمول میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ صبح کام پر جانا، روزمرہ کے کام کرنا، گھر آنا اور سو جانا۔ زندگی میں یکسانیت لگنے لگی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں نے آسٹریلیا میں جو کچھ حاصل کرنے کا ارادہ کیا تھا، اس کا بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد میں نے دوبارہ اداکاری کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کیا۔
کیا اداکاری آپ نے اپنے والد کی وجہ سے اختیار کی یا بچپن ہی سے اس شعبے میں دلچسپی تھی؟
ج: بچپن ہی سے میرے گھر میں اداکاری اور فلمی دنیا کا ماحول تھا۔ میں اپنے والد کو کام کرتے دیکھتا تھا اور گھر پر بھی فلمی صنعت سے وابستہ لوگ آتے تھے۔ مجھے بچپن ہی سے اداکاری میں دلچسپی تھی اور میرے والد بھی مجھے ابتدائی تربیت دیتے رہتے تھے۔ اسلئے میں سمجھتا ہوں کہ اداکاری کا شوق میرے اندر شروع ہی سے موجود تھا۔ والد کے پیشے اور گھر کے ماحول نے اس شوق کو مزید بڑھایا۔ میں نے کافی کم عمری میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ مجھے اداکاری کے شعبے میں کام کرنا ہے۔
آپ کے والد ایک معروف اداکار ہیں۔ انہوں نے آپ کے کریئر اور اداکاری کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں کتنی مدد کی؟
ج:کریئر سے متعلق زیادہ تر فیصلے میں نے خود کیے ہیں۔ پہلی فلم ہو یا اس کے بعد کے منصوبے، میں نے اپنی سمجھ کے مطابق فیصلے کیے البتہ والد سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ میری آواز کی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور اس کیلئے مختلف مشقیں کرواتے تھے۔ کبھی وہ خود کیمرہ لے کر کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ یہ مکالمہ ہے، یہ منظر ہے، اب اسے ادا کرکے دکھاؤ۔ پھر وہ سمجھاتے کہ کس جملے پر کہاں زور دینا ہے، نگاہ کس طرح رکھنی ہے، آنکھیں کب اٹھانی ہیں اور جسمانی حرکات کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔
کیا معروف اداکار کا بیٹا ہونے کی وجہ سے آپ کو کام حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے؟
ج: میں اپنے والدکے نام پر کام حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے ایک عام انسان اور ایک اداکار کے طور پر جانیں۔ میں خود لوگوں سے رابطہ کرتا ہوں، اپنی نیٹ ورکنگ بناتا ہوں اور کام کے مواقع تلاش کرتا ہوں۔ یہ ضرور ہے کہ کسی معروف شخصیت کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بعض لوگ آپ کو پہچان لیتے ہیں اور سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر اس کا فائدہ بھی ملتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ کام مل جائے۔