Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہوا موئترا پر حملہ، پتھر اور انڈے پھینکے گئے

Updated: July 02, 2026, 9:23 AM IST | Kolkata

بی جے پی کارکنوں پرسنگین الزام ،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ، ٹی ایم سی نے واقعہ کا نوٹس لیا لیکن بی جے پی کی پلہ جھاڑنے کی کوشش۔

Mahua Moitr
مہوا موئترا

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ اور فائر برانڈ لیڈر مہوا موئترا نے یہ سنگین الزام عائد کیا کہ ضلع ندیا کے کالی گنج علاقے میں ان کے پارٹی دفتر کے باہر بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے ان پر نہ صرف حملہ کرنے کی کوشش کی بلکہ ان پر انڈے، گوبر اور پتھر تک پھینکے۔ اس واقعے کے بعد ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر منظم حملے کا الزام عائد کیا  ۔  مہوا موئترا نے خود اس واقعہ کا ویڈیو ایکس پر شیئر کیا اور لکھا کہ وہ بدھ کو قومی شاہراہ ۳۴؍ کے کنارے واقع ترنمول کانگریس کے دفتر میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ میٹنگ کر رہی تھیں۔ اسی دوران بی جے پی کے کارکن اور حامی دفتر کے باہر جمع ہوگئے اور   ان کے خلاف نعرہ بازی شروع کردی۔
  ذرائع کے مطابق جب مہوا موئترا اپنی گاڑی سے اتر کر دفتر میں داخل ہوئیں تو بعض افراد نے انہیں سیاہ جھنڈے بھی دکھائے۔ اس پر انہوں نے مبینہ طور پر احتجاج کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ’’تم لوگ کون ہو؟ سامنے آؤ۔ چھپ کر وار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔
 مہوا موئترا نے پارٹی دفتر کی دوسری منزل سے فیس بک لائیو شروع  کردیا  جس میں واضح طور پردیکھا گیا کہ دفتر کی کھڑکیوں پر انڈے، پتھر اور گوبر پھینکا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی نظر آیا کہ ایک انڈا خود مہوا موئترا کو بھی لگا تاہم وہ اس واقعے میں زخمی نہیں ہوئیں۔مہوا موئترا نے اسی ویڈیو میں الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں کی اس کارروائی کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ اطلاع ملنے کے بعد کالی گنج پولیس اسٹیشن کے چند اہلکار موقع پر پہنچےلیکن وہ حالات پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں مرکزی فورسیز کو طلب کیا گیا، جنہوں نے صورت حال کو کسی حد تک قابو میں کیا لیکن  علاقے میں کشیدگی برقرار رہی۔
  اس شرمناک واقعے کے بعد بھی بی جے پی کی مہیلا مورچہ کی کارکنان ترنمول دفتر کے باہر احتجاج کرتی رہیں، جبکہ جواب میں ترنمول کی خواتین کارکنان بھی وہاں پہنچ گئیں اور دونوں جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا۔
 ادھر ترنمول کانگریس نے اس واقعے کو جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر شدید تنقید کی۔ پارٹی کے سینئر لیڈراور رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال میں قانون  اورنظم و نسق کی صورت حال مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے ۔بی جے پی سے وابستہ شر پسند عناصر کھلے عام تشدد پر اتر آئے ہیں۔ترنمول کے سینئر رکن پارلیمنٹ  سوگت رائےنے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہوا موئترا نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو بھی اطلاع دی تھی، لیکن اس کے باوجود پولیس نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق ایک خاتون رکن پارلیمنٹ پر ان کے اپنے حلقۂ انتخاب میں اس طرح کا حملہ انتہائی شرمناک ہے۔کنال گھوش نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا۔  دریں اثناء بی جے پی نے اس احتجاج سے پلہ جھاڑتے ہوئے کہا کہ یہ اس کی پارٹی کے اراکین نہیں تھے بلکہ مقامی افراد میں ٹی ایم سی لیڈروں کیخلاف جو غصہ ہے وہ سامنے آرہا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK