Updated: June 30, 2026, 9:04 PM IST
| New Delhi
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، ایس آئی آر کے نتیجے میں اب تک انتخابی فہرستوں سے تقریباً ۶ کروڑ نام حذف کئے جا چکے ہیں۔ اپوزیشن نے اسے ”چور دروازے سے لایا جانے والا این آر سی“ قرار دیا اور الزام لگایا کہ من مانے اخراج اور دستاویزات کے مسائل کا بہانہ بنا کر جائز ووٹروں کو ووٹر لسٹ سے ہٹایا جا رہا ہے۔
۲۳ اپوزیشن پارٹیوں اور آزاد رکنِ پارلیمنٹ کپل سبل نے منگل کو مشترکہ طور پر ملک کے چیف جسٹس سوریہ کانت کو ایک خط لکھ کر الیکشن کمیشن کے ذریعے ایس آئی آر کے طریقہ کار اور انتخابات سے متعلق دیگر مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے بتایا کہ چیف جسٹس سے رجوع کرنے کا فیصلہ ۸ جون کو منعقدہ ’انڈیا جن بندھن‘ (INDIA Janbandhan) اجلاس میں کیا گیا تھا، جس میں ۲۱ سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکن نے شرکت کی تھی۔ رمیش نے ایکس پر لکھا کہ ”اپوزیشن جماعتیں ’SURE‘ یعنی یکجہتی (Solidarity)، اتحاد (Unity) اور مزاحمت (Resistance) کے اصول پر مضبوطی سے قائم ہیں۔“ انہوں نے تصدیق کی کہ اس خط پر ۲۳ اپوزیشن پارٹیوں اور ایک آزاد رکن نے دستخط کئے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ڈیرک او برائن نے بتایا کہ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے بھی اس مہم میں شامل ہوگئی ہیں اور انہوں نے خط پر دستخط کئے ہیں۔ ان کی شرکت اس لئے اہم تھی کیونکہ دونوں جماعتوں نے حال ہی میں کانگریس کے ساتھ اختلافات کے باعث ’انڈیا بلاک‘ کے کچھ اجلاسوں سے دوری اختیار کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: کیا ایس آئی آر کی بنیاد پر پاسپورٹ سے محروم کرنا درست ہے؟
ٹی ایم سی کی رکنِ پارلیمنٹ ساگاریکا گھوش نے کہا کہ اپوزیشن نے عدلیہ سے اس طریقے کے خلاف اپیل کی ہے ”جس کے ذریعے بی جے پی کی جانب سے ایس آئی آر کے طریقۂ کار میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔“ ذرائع کے مطابق، خط میں الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے وسیع تر خدشات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے اس اقدام پر بار بار سوالات اٹھائے ہیں۔ ان پارٹیوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کا یہ طریقۂ کار اہل ووٹروں کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے۔ اس نظرثانی کے عمل کو اب ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور یہ اس وقت ۱۹ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپریشن سیندور :کانگریس نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے استعفے کا مطالبہ کیا
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، اس مہم کے نتیجے میں اب تک انتخابی فہرستوں سے تقریباً ۶ کروڑ نام حذف کئے جا چکے ہیں، جن میں صرف دوسرے مرحلے کے دوران ہی ۱۸ء۵ کروڑ سے زائد ناموں کا اخراج شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ مشق اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صرف اہل ووٹرز ہی فہرستوں میں رہیں، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اسے ”چور دروازے سے لایا جانے والا این آر سی“ قرار دے کر اس پر سخت تنقید کی ہے اور الزام لگایا کہ من مانے اخراج اور دستاویزات کے مسائل کا بہانہ بنا کر جائز ووٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے۔