آپریشن سیندور کے تعلق سے لوک سبھا میں دیئے گئے وزیر داخلہ کے بیان پر کانگریس کا اسپیکر کو مکتوب، رُول ۲۲۳؍ کے تحت کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا
EPAPER
Updated: June 30, 2026, 11:37 PM IST | New Delhi
آپریشن سیندور کے تعلق سے لوک سبھا میں دیئے گئے وزیر داخلہ کے بیان پر کانگریس کا اسپیکر کو مکتوب، رُول ۲۲۳؍ کے تحت کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا
آپریشن سیندور میں ایک بھی ہندوستانی فوجی کو نقصان نہ پہنچنے کا لوک سبھا میں دعویٰ کرنے والے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو ایوان سے معلومات چھپانےاور پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کی پاداش میں تحریک مراعات شکنی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے رکن اور پارلیمنٹ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین کے سی وینو گوپال نے اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے خلاف پارلیمنٹ کی مراعات شکنی کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یادرہے کہ آپریشن سیندور پر لوک سبھا میں بحث کا جواب دیتےہوئے وزیر دفاع نے خود اپوزیشن سے کہاتھا کہ یہ پوچھئے کہ کیا ہندوستان کے جوانوں کو اس آپریشن میں کوئی نقصان پہنچا ہے؟ اور پھر فخریہ انداز میں جواب دیاتھا کہ نہیں، کسی جوان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ان کے اس دعویٰ کے برخلاف گزشتہ دنوں شہید اسمارک پر آپریشن سیندور میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ۶؍ جوانوں کے نام کندہ کئے گئے ہیں جو اس بات کی تصدیق ہیں کہ آپریشن سیندور میں ہندوستان کے ۶؍ جوانوں نے قربانی پیش کی۔
رُول ۲۲۳؍ کے تحت کارروائی
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو لکھے گئے خط میں کے سی وینوگوپال نے مطالبہ کیا ہے کہ لوک سبھا کے قواعد و ضوابط کے رُول نمبر ۲۲۳؍ کے تحت راج ناتھ سنگھ کے خلاف استحقاق شکنی کی کارروائی شروع کی جائے کیونکہ انہوں نے ایوان کو گمراہ کیا ہے۔انہوں نے اسپیکر کو یاد دہانی کرائی ہے کہ’’۲۸؍ جولائی۲۰۲۵ءکو پہلگام دہشت گردانہ حملے اور آپریشن سیندور پر لوک سبھا میں بحث کے دوران وزیر دفاع نے کہا تھا کہ’اس آپریشن میں ہمارے کسی بھی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔‘تاہم بعد میں جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق آپریشن سیندور کے دوران ملک کی مسلح افواج کے ۶؍ اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔‘‘
شہید جوانوں کے نام بھی پیش کئے
اپنے مکتوب میں وینو گوپال نے صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار (ویر چکر)، لانس نائک دنیش کمار، ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مرلی نائک، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور فضائیہ کے سارجنٹ سریندر کمار (وایو سینا میڈل) کے نام بھی لکھے ہیں جنہوں نے مذکورہ آپریشن میں ملک کیلئے اپنی جان کی قربانی پیش کی ۔
وینوگوپال نے کہا کہ ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ وزیر دفاع کا ایوان میں دیا گیا بیان گمراہ کن اور غلط تھا۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ میں کسی وزیر کی جانب سے غلط معلومات دینا یا معلومات چھپانا استحقاق کی خلاف ورزی اور ایوان کی توہین ہے۔انہوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ اس معاملہ میں وزیر دفاع کے خلاف مراعات شکنی کی کارروائی شروع کی جائے۔
حکومت کی حرکت شہید جوانوں کی توہین
بعد ازاں وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس ‘پر بھی راج ناتھ سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ آپریشن سیندور پر لوک سبھا میں بحث کے دوران ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام دہراتے ہوئے وینو گوپال نے سوال کیا ہے کہ ’’اگر جولائی ۲۰۲۵ء میں وزیر دفاع نے کہا تھا کہ کوئی ہندوستانی فوجی شہید نہیں ہوا، تو پھر ایک سال بعد حکومت نے یہ کیسے تسلیم کیا کہ آپریشن کے دوران۶؍جوان شہید ہوئے تھے۔‘‘وینوگوپال نے کہا کہ’’یہ ان۶؍ شہد جوانوں،ان کے اہل خانہ اور پوری ہندوستانی فوج کی توہین ہے کہ عوام کو ان کی بہادری اور قربانی سے بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔ ‘‘
شہادت کی تصدیق کیسے ہوئی؟
اہم بات یہ ہے کہ آپریشن سیندور کے ۱۳؍ ماہ بعد تک حکومت کی جانب سے ایسا کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیاگیا کہ مذکورہ اپریشن میں کتنے جوان شہید ہوئے ہیں ۔رواں سال ۲۶؍ جون کو حکومت نے پہلی مرتبہ ان ۶؍اہلکاروں کے نام اس وقت جاری کئے جب ان ناموں کو شہید اسمارک پر کندہ کیاگیا۔