Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مسائل کےحل کیلئےسوشل میڈیا پر بیانات دینا کافی نہیں ،کچھ عملی قد م اُٹھانے کی بھی ضرورت ہے‘‘

Updated: June 09, 2026, 2:03 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کی جانب سےاسلام جمخانہ میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں جماعت اسلامی ہندمہاراشٹر کےامیر مولانا الیاس خان فلاحی کا اظہارِ خیال۔

Participants Are Seen At A Press Conference Organized By Marathi Patrakar Singh. Photo: INN
مراٹھی پترکارسنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں شرکاء نظر آرہے ہیں۔ تصویر: انقلاب
 فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کی جانب سے دستور ِ ہند سے وابستگی کے عزم ،  انسداد تبدیلی مذہب قانون ، یونیفارم سول کوڈ اور اقلیتوں کے حقوق کے عنوان سے پیر کو اسلام جمخانہ (مرین لائنس ) میں  مشاورتی اجلاس اور مراٹھی پترکار سنگھ میں پریس کانفرنس کاانعقاد کیا گیا ۔
مشاورتی اجلاس میں جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیر مولانا الیاس خان فلاحی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ آج کا اجلاس حکومت یا کسی سیاسی پارٹی کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش ہے ۔ ریاست میں مسلمانوںکے ساتھ ہو رہی ناانصافی نے مسلم نوجوانوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر بیانات دینا کافی نہیں کچھ عملی قد م اُٹھانے کی بھی ضرورت ہے ۔ ‘‘ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ’’ ہماری قیادت کے پاس قوم کیلئے ۱۰؍ سال کا کوئی منصوبہ ہے ؟ دنیا میں صرف جذبات سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اجلاس کا مقصد مسائل کی فہرست سازی نہیں ہے ۔ مسائل کے ساتھ ہی ہم اس کا عملی حل پیش کریں ۔‘‘
 
 
اجلاس میں مسلم اراکین اسمبلی ، جج صاحبان ، وکلاء اور سماجی کارکنان سمیت ائمہ مساجد نے شرکت کی  اور مسلمانوں کو درپیش سنگین مسائل پر گفتگو  کی۔ اس کے علاوہ  مولانا الیاس خان  فلاحی، جمعیت العلما ء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ خان ، اے پی سی آر مہاراشٹر کے سیکریٹری شاکر شیخ ، ایم پی جے   مہاراشٹر کے سراج احمد ، امن کمیٹی کے فرید شیخ ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان عمرین محفوظ رحمانی ، شبیر بھوپال والا   اورمولانا ظہیر  عباس رضوی وغیرہ نے دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے کا عزم کیا ۔اجلاس میں قرارداد بھی منظور کی گئی۔
 
 
 
مشاورتی اجلاس کے بعد مراٹھی پتر کار سنگھ میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ لارا جسانی نے کہا کہ’’ مہاراشٹرکا مذہبی آزادی کا قانون خواتین کے حقوق کو غصب کرنے والا ہے ۔ ملک کی ۱۲؍ ریاستوں میں جہاں یونیفارم سول کوڈ نافذ ہوا ہے، اس کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت زیر التواء ہے اس صورت میں مہاراشٹر میں مذکورہ قانون لانے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ یہ براہ راست مسلم اقلیت کو ہراساں کرنے اور حکومت میں بنے رہنے کا ایک طریقہ ہے ۔ اس کے ذریعہ نفرت بنائے رکھنےکی کوشش ہے ۔‘‘ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے نائب صدر عبید اللہ خان اعظمی نے کہا کہ ’’ان کی نظر میں صرف حکومت میں بنے رہنا ہی مقصد ہے خواہ ملک کو کتنا ہی نقصان ہو ۔‘‘ممبئی کیتھولک سبھا کے ترجمان ڈولفی ڈیسوزا نے کہا کہ’’ جب تک عوام ان مسائل پر سڑکوں پر نہیں اُتریں گے، حکومت فرقہ وارانہ ماحول کو ہوا دینے سے باز نہیں آئے گی ۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK