ملائیشیا نے رمضان میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت کی، وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ مسلمانوں پر لگائی گئی پابندیاں بین الاقوامی قانون اور یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کی خلاف ورزی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 4:04 PM IST | Jerusalem
ملائیشیا نے رمضان میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت کی، وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ مسلمانوں پر لگائی گئی پابندیاں بین الاقوامی قانون اور یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی حیثیت کی خلاف ورزی ہیں۔
ملائیشیا نے جمعرات کو رمضان المبارک کے دوران مسلمان نمازیوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی پر جاری پابندیوں پر اسرائیل کی شدید مذمت کی۔وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یروشلم کے پرانے شہر اور اس کی عبادت گاہوں تک رسائی پر عائد ناجائز اور من مانی پابندیاں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ساتھ یروشلم میں مقدس مقامات سے متعلق تاریخی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔وزارت کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائیاں مسلمان نمازیوں کو مشتعل کرتی ہیں اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں کشیدگی کو مزید بھڑکاتی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات یا اس کی مسلم اور عیسائی عبادت گاہوں پر اسرائیل کا کوئی دعویٰ نہیں ہے اور مسجد اقصیٰ کا پورا احاطہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلسل ۱۳؍ویں دن مسجد اقصیٰ میں نماز نہ ہوسکی
بعد ازاں بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اردن کی وزارت برائے اوقاف اور امور مقدسہ ہی اس مقام کے انتظام اور اس تک رسائی کو منظم کرنے والی واحد قانونی اتھارٹی ہے۔ملائیشیا نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر یروشلم میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور غیر قانونی کارروائیوں کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔واضح رہے کہ بدھ کوانڈونیشیا، مصر، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات نے بھی مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمان نمازیوں کے لیے بند رکھنے پر، خاص طور پر رمضان کے دوران،قابض اسرائیلی احکام کی مذمت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مسلسل ۱۳؍ویں دن مسجد اقصیٰ میں نماز نہ ہوسکی
یاد رہے کہ ۲۸؍ فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ طور پر فوجی کارروائی کئے جانے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اس کے علاوہ اسرائیل پر بھی جوابی حملوں کا ایک جاری رکھا ہے، اسرائیل نے اسی تنازع کو بہانہ بناکر تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد اقصیٰ تک مسلمانوں کی رسائی بند کردی ہے۔