Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگائوں کے پاپلین کارخانے ایک بار پھر ۷؍ دنوں کیلئے بند کردیئے گئے

Updated: August 13, 2026, 7:42 AM IST | Malegaon

۱۱؍ سے ۱۷؍ اگست تک کام نہ کرنے کا فیصلہ جب تک راجستھان کے بیوپاریوں کی جانب سے آرڈر نہیں دیا جاتا تب تک کارخانوں کو بند رکھنا مالکان کی مجبوری

Powerloom in Malegaon has been closed for the third time in 2 months.
مالیگائوں میں پاورلوم ۲؍ ماہ کے اندر تیسری بار بند کیا گیا ہے

 مالیگائوں میں صنعتی سرگرمیاں بتدریج بند ہونے کے دہانے پرپہنچ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہاں پاپلین کے کارخانے ۷؍ دنوں کیلئے بند کر دیئے گئے۔ ۱۱؍ تا ۱۷؍ اگست یہاں کام کاج بند رکھا جائے گا۔ گزشتہ دوماہ  میں بند کا یہ فیصلہ تیسری مرتبہ ہواہے۔اس سے قبل جولائی میںدومرتبہ اسی نوعیت کے بند ہو چکے ہیں۔آثار وقرائن بتاتے ہیںکہ درپیش مسئلے کا جز وقتی حل نکلنے میںطویل وقت لگ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ۱۶؍مارچ ۲۰۲۴ء راجستھان پتریکابالوتراایڈیشن میںشائع مفصل خبرپر سپریم کورٹ نے (سوموٹوایکشن)ازخود کارروائی کرتے ہوئے آبی آلودگی پر قدغن لگانے کا حکم دیا تھا۔تب سے تاحال اس معاملے میںکارروائیاں ،سماعتیں اوراس سے متعلق اگلی تاریخوں کے تعین کے سلسلے جاری ہیں۔
مقامی صنعت کو در پیش مسئلے 
 مالیگاؤں   میں تیار ہونے وا لے کپڑوں کے خریداروں  کا تعلق راجستھان سے ہے۔  وہ یہاں سے کپڑے خریدنے کے بعداسے بلیچنگ ڈائنگ پروسیس کیلئے راجستھان منگواتے ہیں۔ راجستھان کے شہربالوترا اور پالی میںبلیچنگ ڈائنگ یونٹس کو آبی آلودگی اورفاضل مادّوں کی نکاسی کیلئے سرکاری قواعد وضوابط کی تکمیل نہ ہونے پر انتظامیہ نےبند کروادیا ہے۔یونٹس کے مالکان انصاف کی فریاد لیکرراجستھان حکومت اورعدالت کے چکر کا ٹ رہے ہیں۔ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ نہیںنکلا ہے۔اب اِس کا راست اثر مالیگاؤں کے کارخانوں  پر نظرآرہا ہے۔یونٹس بند ہونے سے کپڑے کی خریداریاں ٹھپ پڑی ہوئی ہیں۔ اسلئےکپڑے کا پروڈکشن روکنا کارخانہ داروںکی مجبوری بن چکی ہےاور پاپلین کے کم وبیش ایک لاکھ پاورلوم بندرکھےگئے ہیں۔
پارچہ بافوں کے بیانات 
  کارخانہ دار  اِس تگ ودَو میںبھی لگے ہوئے ہیںکہ کسی طرح مسئلے کا حل نکال کرصنعتی چکّرکو رواں دواں کیاجائےتاکہ مزدورطبقےکوزیادہ پریشانیوںکا سامنا نہ کرنا پڑے۔مجاہد سلطان نےکہا کہ گزشتہ دنوںراجستھان گورنمنٹ کےچیف سیکریٹری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ حکومتی سطح پرمثبت مداخلت سے مسئلے کا حل نکل آئے لیکن اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔مالیگاؤں میںپاپلین وان کے کپڑے تیارکرنےوالے سیکڑوں کارخانوں میںتالے پڑے ہوئے ہیں۔اس مسئلے کو حکومت مہاراشٹرتک بھی لیجایاگیا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ایڈوکیٹ مومن مجیب احمد نےکہا کہ ریاستی ومرکزی حکومتوںسے مسلسل خط وکتابت جاری ہے۔ مالیگاؤں میں غیرمنظم اور گھریلوپاورلوم صنعت کے استحکام کیلئے مہاراشٹر اور راجستھان گورنمنٹ کومشترکہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ مہاراشٹر اوراجستھان گورنمنٹ کے مشترکہ اقدام سے مرکزی حکومت بھی موثرکردارادا کرنے کیلئےآگے بڑھ سکتی ہے۔
پالی اور بالوترا میں صورتحال
 راجستھان کے مذکورہ علاقے کپڑےکی بڑی منڈیاں  ہیں۔کپڑوںکی بلیچنگ اور ڈائنگ کے کم وبیش ۲؍ہزار یونٹس وپلانٹس سےپھیلنے والی آبی وفضائی آلودگی کاسپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیا ہے اور راجستھان حکومت کے چیف سیکریٹری کی صدارت میںایک کمیٹی بنائی ہے۔سپریم کورٹ میںمعاملہ زیرسماعت ہے۔اس پراگلی سماعت ۲۲؍ ستمبر کو ہوگی۔ مالیگاؤں کے پارچہ بافوں کا ایک وفداِن علاقوں کادورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لےچکا ہے۔اگر اگر یہاں بلیچنگ اور ڈائنگ یونٹس دوبارہ شروع نہ ہوئے تو مالیگائوں کے کارخانہ داروں کیلئے بڑی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔ 

malegaon Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK